
میری شادی کے وقت مجھے سسرال کی جانب سے ایک سونے کی چین اور دو (ARY) کے سونے کے سکے ملے تھے کہ ”یہ لڑکے کے لیے ہیں“، پھر جب ہماری طلاق ہوئی، تو میں نے ان کو وہ واپس کر دی۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان چیزوں پر میرا حق ہے؟ اور کیا ان لوگوں کا وہ چیزیں مجھ سے زیادہ درست تھا؟
اب مجھے جب معلوم ہوا تو میں ان سے واپسی کا تقاضا کیا، تو انہوں نے دینے سے منع کیا بلکہ یہ کہا کہ چین تو ہمارے پاس ہے ہی نہیں، وہ تو آپ ہی کے گھر میں ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب سسرال والوں نے یہ کہہ کر سائل کو چین اور سونے کے سکے دیے تھے کہ یہ ”لڑکے کے لیے ہیں“، تو یہ ان کی طرف سے سائل کے لیے ہبہ (گفٹ) تھا، او سائل کے قبضہ کرنے کی وجہ سے وہ سائل کی ملکیت بن گئے تھے، لیکن طلاق کے بعد جب سائل نے اپنی مرضی سے وہ چین اور سونے کے سکے سسرال والوں کو واپس دے دیے ، تو یہ باہمی رضامندی سے ہبہ کو ختم کرنا شمار ہوگا، اور اب سائل کو دوبارہ چین اور سونے کے سکوں کی واپسی کے مطالبہ کرنے کا حق نہیں۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"ولو لم يتراضيا على الرجوع ولم يقض القاضي به ولكن الموهوب له وهب الموهوب للواهب وقبله الواهب الأول لا يملكه حتى يقبضه، وإذا قبضه كان بمنزلة الرجوع بالتراضي أو بقضاء القاضي وليس للموهوب له أن يرجع فيه، كذا في البدائع."
(كتاب الهبة، الباب السادس في الرجوع في الھبة، ج: 4، ص: 391، ط: دار الفكر۔بيروت)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100931
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن