
اگر کوئی شخص اپنے منگیتر سے موبائل واٹس ایپ چیٹ کے ذریعے اللہ کو گواہ بنا کر نکاح کرے اور ایجاب و قبول میسجز کے ذریعے کرے، اب اسے شک یا وسوسہ ہے کہ کہیں لڑکی کے پاس گواہ موجود تو نہیں تھے، یا میرے میسجز کوئی چپکے سے دیکھ تو نہیں رہا تھا، یا لڑکی کے میسجز کو گواہان تو دیکھ نہیں رہے تھے۔ میں یہ واضح کرتا ہوں کہ اگر وہاں لڑکی کے پاس گواہان موجود بھی تھے تو میں پھر بھی ان کو گواہ نہیں مانتا، اور اسی طرح اگر میرے پاس بھی چپکے سے گواہ موجود تھے تو میں ان کو بھی گواہ نہیں مانتا۔ غالب گمان یہ ہے کہ میرے پاس کمرے میں اس وقت کوئی نہیں تھا۔
اب یہ شک بھی ہے کہ اگر وہاں لڑکی کے پاس اس وقت گواہان موجود نہیں بھی تھے، لیکن کہیں بعد میں گواہان نے وہ ایجاب و قبول کے میسجز دیکھ لیے ہوں، تو کیا بعد میں دیکھنے سے، جب سب ایک مجلس میں ہوں اور وہ پرانے میسجز گواہان دیکھیں، اس سے نکاح منعقد ہو جائے گا؟
نوٹ: لڑکا اور لڑکی ایک ہی گاؤں میں تھے، چند گھروں کے فاصلے پر۔ تو کیا اتنے فاصلے پر نکاح کی مجلس کو ایک مجلس شمار کیا جائے گا یا نہیں؟
اگر لڑکے کے پاس کمرے میں دو گواہ ہوں اور لڑکی کے پاس بھی دو گواہ ہوں، اور ایجاب و قبول میسجز کے ذریعے کیا جائے، اور گواہان ان کے ایجاب و قبول کے میسجز دیکھ لیں، تو کیا اس طرح نکاح ہو جائے گا؟
اگر میسجز کے ساتھ ساتھ لڑکا اور لڑکی گواہان کی موجودگی میں اپنے اپنے گھر میں زبانی طور پر بھی ایجاب و قبول کریں، تو کیا اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟
مجھے اس بات کا علم ہے کہ الگ الگ مجلس میں ایجاب و قبول سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، لیکن مجھے اپنے اس طریقے سے کیے گئے نکاح کے بارے میں ابھی بھی شک ہے۔
لہٰذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ میرے اس پورے طریقے سے کیے گئے نکاح پر اچھی طرح غور کرکے فتویٰ عطا فرمائیں اور وضاحت کے ساتھ جواب دیں، تاکہ میرے شکوک و شبہات ختم ہو جائیں اور میں حلال نکاح کر سکوں۔ عین نوازش ہوگی۔
واضح رہے کہ شرعاً نکاح منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ہی مجلس میں مرد اور عورت ایجاب و قبول کریں اور دو آزاد، عاقل، بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ایجاب و قبول کو سنیں۔ اگر خط و کتابت یا میسج وغیرہ کے ذریعے نکاح کیا جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ مرد عورت کو پیغامِ نکاح لکھ کر بھیجے، پھر عورت شرعی گواہوں کی موجودگی میں یہ کہے کہ فلاں شخص نے مجھے پیغامِ نکاح بھیجا ہے، میں نے اسے قبول کیا۔ اگر گواہوں کی موجودگی میں عورت نے قبول نہیں کیا تو نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں منگیتر سے موبائل واٹس ایپ چیٹ کے ذریعے ایجاب و قبول کرنے سے مذکورہ نکاح صحیح نہیں ہوا، کیونکہ مجلس ایک نہیں تھی اور گواہان بھی موجود نہیں تھے۔ اور اگر گواہان بعد میں میسجز دیکھ لیں، تب بھی نکاح صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ گواہوں کا ایجاب و قبول کو سننا شرط ہے۔
اور اگر لڑکے اور لڑکی کے پاس گواہان موجود ہوں اور وہ میسجز کے ساتھ ساتھ زبانی طور پر بھی ایجاب و قبول کریں، تو اس صورت میں بھی نکاح صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں مجلس الگ الگ ہے، اور گواہوں کا دونوں طرف سے ایجاب و قبول سننا شرط ہے، جو یہاں نہیں پایا جا رہا۔
تاہم، اس طرح نامحرم سے بات چیت کرنا گناہ ہے، جس پر توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔ یہ بات درست ہے کہ مذاق میں بھی نکاح منعقد ہو جاتا ہے، لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ ایجاب و قبول کی مجلس ایک ہو اور گواہ بھی موجود ہوں۔ اگر گواہوں کے بغیر نکاح کیا جائے تو وہ کسی صورت منعقد نہیں ہوتا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة الخ."
(کتاب النکاح، ج:3، ص:22، ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"ولا بكتابة حاضر بل غائب بشرط إعلام الشهود بما في الكتاب
"(قوله: فتح) فإنه قال ينعقد النكاح بالكتاب كما ينعقد بالخطاب. وصورته: أن يكتب إليها يخطبها فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه أو تقول إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه، أما لو لم تقل بحضرتهم سوى زوجت نفسي من فلان لا ينعقد؛ لأن سماع الشطرين شرط صحة النكاح الخ."
(کتاب النکاح، ج:3، ص:12، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100906
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن