بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انڈوں کے کھیل میں جیتے ہوئے انڈے کھانے کا حکم

سوال

انڈوں کے کھیل میں جیتے ہوئے انڈوں کے کھانے کا  کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  انڈوں  کا مروجہ کھیل جس میں  دو شخص آپس میں انڈے لڑاتے ہیں، پھر جس شخص  کا انڈہ ٹوٹ جاتا ہے، وہ اپنی طرف سے ایک انڈہ اسے دیتا ہے، جس کا انڈہ نہیں ٹوٹتا، تو  یہ کھیل جوا ہونے کی وجہ سے ناجائز  و حرام ہے، اور اس کھیل سے جیتے ہوئے انڈے کھانا جائز نہیں ہیں، بلکہ مالک کو واپس کر دینا ضروری ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ " [المائدة :90]

ترجمہ :"اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔"

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قوله تعالى: {لا تأكلوا أموالكم ‌بينكم ‌بالباطل} نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل. وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله; وأكل مال الغير بالباطل قد قيل فيه وجهان: أحدهما: ما قال السدي وهو أن يأكل بالربا والقمار والبخس والظلم، وقال ابن عباس والحسن: أن يأكله بغير عوض."

(ج:2، ص:216، ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 403، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803100890
تاریخ02-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں