بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی نماز گھر میں باجماعت پڑھنے کا حکم

سوال

تراویح جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے، صاحب تحفۃ الالمعی نے ج 3 میں لکھا ہے کہ اگر کوئی حافظ بیٹھک میں گھر میں تراویح جماعت کے ساتھ پڑھے، تو صرف ایک سامع لے جاسکتا ہے، اس لیے کہ اگر بہت سے لوگ ان کے ساتھ جائیں گے، تو مسجد کی جماعت متاثر ہوگی، اس لیے صرف ایک سامع ساتھ لے جائیں۔

ہمارے علاقے میں حفاظ کرام اپنے بیٹھکوں میں گھروں میں دس دس، بیس بیس بندوں کے ساتھ تراویح کی جماعت کرتے ہیں، کیا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

رمضان المبارک کے مہینے میں  ہر شرعی مسجد میں تراویح کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا مستقل سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے،یعنی اگر محلہ کے بعض افراد مل کر مسجد میں جماعت کرلیں تو اہلِ محلہ کی طرف سے تراویح کی جماعت کی سنت ادا ہوجائے گی، اگر محلہ کی مسجد میں تراویح کی نماز بالکل بھی نہ ہو، تو تمام اہلِ محلہ اس سنت کو ترک کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں مسجد میں باجماعت نماز پر لوگوں کو جمع فرمایا تھا۔

 اگر مسجد میں تراویح کی نماز ہوتی ہے، توکوئی شخص اگر بغیر کسی عذر کے گھر میں تراویح کی نماز ادا کرلے تو تراویح کی نماز درست ہوجائے گی، البتہ تراویح کی نماز کا مسجد میں باجماعت پڑھنا اولی اور بہتر ہے، جتنی بڑی جماعت ہوتی ہے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہوتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے علاقے میں حفاظِ کرام اگر اپنی بیٹھکوں میں تراویح کی جماعت کرتے ہیں، جبکہ محلے کی مسجد میں تراویح کی باجماعت نماز ہوتی ہے، تو ایسا کرنا جائز ہے،   خصوصاً جبکہ موجودہ زمانے میں حفاظ کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے اگر گھر میں کچھ لوگ مل کر تراویح کی جماعت کریں، اور اس طرح کرنے سے مسجد کی جماعت متاثر نہ ہو، تو یہ جائز ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ گھر میں تراویح کی جماعت کرنے کا ثواب مسجد میں باجماعت ادا کرنے سے کم ہوگا۔اور ایسی صورت میں مقتدیوں کو چاہیے کہ عشاء کی  نماز  باجماعت مسجد  میں  پڑھ کر اس کے بعد گھر میں تراویح کی جماعت کرالیا کریں۔

باقی سائل نے مذکورہ کتاب "تحفۃ الالمعی" کے حوالہ سے جو لکھا ہے کہ ایک سامع ساتھ لے جائیں، زیادہ افراد نہ لے کر جائیں، تو یہ حکم اس جگہ کے لیے ہوگا کہ جہاں مسجد میں نمازیوں کی تعداد ہی کم ہوتی ہو، جیسا کہ بعض گاؤں اور دیہات ہیں، ایسی صورت میں اگر چند حفاظ اپنے ساتھ کچھ افراد کو لے جائیں، تو مسجد میں نمازیوں کی تعداد بالکل کم ہوجاتی ہے، تو اس صورت میں یہ حکم ہے کہ ایک ہی سامع ساتھ لے جائیں۔جہاں مسجد میں نمازیوں کی تعداد کافی ہوتی ہے، وہاں اگر حافظ اپنے ساتھ تراویح کی جماعت کے لیے کچھ افراد کو لے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، مسجد کی جماعت میں کمی ہونا ایسا عذر نہیں کہ جس کے سبب گھر میں باجماعت نماز کو  ناجائز یا مکروہ کہا جائے۔

البحر الرائق میں ہے:

" وقول الجمهور على ما في الكافي إن إقامتها بالجماعة سنة على الكفاية حتى لو ترك أهل المسجد كلهم الجماعة فقد أساءوا وأثموا وإن أقيمت التراويح بالجماعة في المسجد وتخلف عنها أفراد الناس وصلى في بيته لم يكن مسيئا لأن أفراد الصحابة يروى عنهم التخلف كابن عمر على ما رواه الطحاوي والجواب عن دليل الطحاوي أن قيام رمضان مستثنى من الحديث لفعله صلى الله عليه وسلم إياه في المسجد ثم فعل الخلفاء الراشدين بعده إذ لا يختار المفضول ويجمعون عليه وأما من تخلف من الصحابة فإما لعذر أو لأنه أفضل في اجتهاده وهو معارض بما هو أولى منه وهو اتفاق الجم الغفير على خلافه فالحاصل أن القول الأول والثالث اتفقا على أفضليتها وإنما الكلام في الإساءة بالترك من البعض وأطلق المصنف في الجماعة ولم يقيدها بالمسجد لما في الكافيوالصحيح أن للجماعة في بيته فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى فهو حاز إحدى الفضيلتين وترك الفضيلة الأخرى انتهى."

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:73، ط:دار الکتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" وهي سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وقيل: هي سنة عمر رضي الله عنه والأول أصح، كذا في جواهر الأخلاطي وهي سنة للرجال والنساء جميعا، كذا في الزاهدي.....لو أدى التراويح بغير جماعة أو النساء وحدهن في بيوتهن يكون تراويح، كذا في معراج الدراية.ولو ترك أهل المسجد كلهم الجماعة فقد أساءوا وأثموا، كذا في محيط السرخسي.

وإن تخلف واحد من الناس وصلاها في بيته فقد ترك الفضيلة ولا يكون مسيئا ولا تاركا للسنة وأما إذا كان الرجل ممن يقتدى به وتكثر الجماعة بحضوره وتقل عند غيبته فإنه لا ينبغي له ترك الجماعة، كذا في السراج الوهاج.

وإن صلى بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى، هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي، والصحيح أن أداءها بالجماعة في المسجد أفضل وكذلك في المكتوبات."

(کتاب الصلاۃ، الباب التاسع فی النوافل، فصل فی التراویح، ج:1، ص:116، ط:رشیدیة)

احسن الفتاوی میں ہے:

مسجد سے باہر تراویح کی جماعت

"سوال: نماز تراویح مسجد چھوڑ کر مکان میں یا کسی دوسری جگہ حافظ مقرر کر کے پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

 الجواب باسم ملھم الصواب

 فرائض مسجد کی جماعت کے ساتھ ادا کر کے صرف تراویح کی جماعت دوسری جگہ کرنا جائز بشرطیکہ محلہ کی کسی مسجد میں بھی تراویح کی جماعت ہو، اگر محلہ میں کسی مسجد میں بھی تراویح کی جماعت نہیں ہوئی تو سب گنہگار ہوں گے۔"

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، فصل فی التراویح، ج:3، ص:520، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803100877
تاریخ07-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں