
بھائیوں کے درمیان جائیداد مشترک تھی، تو ایک بھائی کو دوسرے بھائی جائیداد میں سے پورا حصہ(جتنا اس کا حق بنتا تھا) نہیں دے رہے تھے، تھوڑی سی زمین اس کو دینے پر رضامند تھے، تو مجبورا وہ بھائی جائیداد میں سےتھوڑا حصہ (مثلاً دس کنال میں سے ایک کنال) لینے پر راضی ہو گیا، اور اپنا حصہ وصول کر لیا، لیکن اس بھائی کے بیٹوں نے کہا کہ ہم اپنے چچاؤں سے زمین میں سے اپنے والد کا حصہ وصول کریں گے۔
اب چونکہ یہ بھائی فوت ہو گیا ہے تو اس کی اولاد اپنے مرحوم والد کے بھائیوں سے اپنے والد صاحب کا حصہ بزور بازو وصول کرنا چاہتے ہیں، تو کیا ان کا اس طرح اپنے والد کے حق کو وصول کرنا شرعا جائز ہوگا یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر کوئی وارث خاندانی دباؤاور کمزوری کی وجہ سے مجبور ہو کر اپنے اصل حصے سے کم پر صلح کر لے اور اپنا بقیہ حصہ چھوڑ دے، تو یہ صلح نافذ ہو جاتی ہے، اسے اصطلاح میں " تخارج" کہتے ہیں، لہذا ایسی صورت میں دستبردار ہونے والے وارث اور اس کی اولاد کو بعد میں اس متروکہ حصے کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں رہتا،البتہ دیگر ورثاء کے لیے کسی وارث کے حق پر ناجائز قبضہ کرکے اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ہر وارث کو اس کا شرعی حق دینا لازم ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم بھائی نے مجبوری کے تحت اپنی رضامندی سے اپنے شرعی حصے سے کم زمین لینے پر صلح کرلی تھی اور بقیہ حصے سے باقاعدہ دستبرداری اختیار کی تھی، تو اس کے انتقال کے بعد اس کی اولاد کو بقیہ ورثاء سے جبراً اس متروکہ حصے کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم مرحوم کے بھائیوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے بھتیجوں کو ان کے والد کا متروکہ حصہ اپنی رضامندی سے دے دیں، تاکہ آپس میں کوئی لڑئی جھگڑا نہ رہے، اور آخرت میں کسی کے حق تلفی کا مواخذہ نہ ہو۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين". متفق عليه."
(کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، ج: 1، ص: 254، ط: قدیمی)
ترجمه:
" حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔"
وفیه أیضاً:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’ألالا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه ‘‘. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج: 2، ص: 889، ط: المكتب الإسلامي)
ترجمہ:
"خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو، خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے۔"
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو أخرجوا واحدا) من الورثة (فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ما أعطوه من مالهم غير الميراث، وإن كان) المعطى (مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم) يقسم بينهم."
(كتاب الصلح، فصل في التخارج، ج: 5، ص: 644، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا وإن كانت التركة ذهبا فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي ويعتبر التقابض في المجلس."
(كتاب الصلح، الباب الخامس عشر في صلح الورثة والوصي في الميراث والوصية، ج:4، ص:268، ط: دار الفكر بيروت)
شریفیہ شرح سراجیہ میں ہے :
"فصل في التخارج و هو تفاعل من الخروج و المراد به ههنا أن يتصالح الورثة على اخراج بعضهم عن الميراث بشيئ معلوم من التركة ، و هو جائز عند التراضي."
(باب التصحیح، فصل في التخارج، ص: 73،ط: قدیمی)
البحرالرائق میں ہے:
"ولو ادعت الزوجة ميراثها صح الصلح على أقل من نصيبها أو مهرها ولا يطيب لهم إن علموا ذلك فإن أقامت بينة بطل الصلح"
(كتاب الصلح، باب الصلح في الدين، فصل في صلح الورثة، ج: 7، ص: 261، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100876
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن