عقیقہ کا شرعی حکم، وقت، جانوروں کی تعداد اور گوشت کے استعمال کا حکم
سوال
الحمد للہ حال ہی میں ہمارے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے۔ ہمارے علاقے میں عقیقہ کے بارے میں مختلف باتیں مشہور ہیں: کوئی کہتا ہے ساتویں دن نہ کر سکو تو پھر عقیقہ ہوتا ہی نہیں، کوئی کہتا ہے لڑکے کے لیے دو بکرے لازم ہیں، اور کوئی کہتا ہے عقیقہ کا گوشت گھر والے نہیں کھا سکتے۔ نیز میری مالی حالت ایسی نہیں کہ دو جانور ذبح کر سکوں۔ برائے مہربانی عقیقہ کے مسائل کی وضاحت فرما دیں۔
جواب
بچہ یا بچی کی پیدائش کے ساتویں دن، لڑکے کے لیے دو بکرے اور لڑکی کے لیے ایک بکرے یا بکری کو عقیقہ کی نیت سے ذبح کرنا مستحب ہے؛ تاہم عقیقہ اسی جانور سے کیا جا سکتا ہے جس کی قربانی کی جا سکتی ہو، اسی طرح عقیقہ کے جانور کی باعتبارِ عمر وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور کی ہیں؛ اگر بکرے کی عمر ایک سال سے کم ہو تو وہ عقیقہ کے لیے کافی نہ ہو گا۔
اگر کسی کو دو جانورذبح کرکے عقیقہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو وہ ایک جانور بھی ذبح کر سکتا ہے، اور اگر کوئی شخص کچھ بھی ذبح نہ کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ عقیقہ واجب یا فرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ البتہ کرنے میں ثواب اور بچے کی حفاظت ہے ۔
بہتر اور افضل یہ ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کیا جائے؛ اسی طرح اگر کوئی ساتویں دن عقیقہ نہ کر سکے تو چودھویں دن کر لے، اور اگر چودھویں دن بھی نہ کر سکے تو اکیسویں دن کر لے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی کرنا چاہے تو اس کے لیے عقیقہ کرنا جائز ہے، البتہ مستحب وقت سے محروم رہے گا۔
عقیقہ کے بعد اس کا گوشت سارا خود بھی رکھ سکتے ہیں، اور پکا کر یا کچا تقسیم کرنا بھی جائز ہے؛ البتہ بہتر یہ ہے کہ گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ اپنے گھر میں استعمال کرے، ایک حصہ دوست احباب کو دے، اور ایک حصہ غرباء میں تقسیم کر دے۔
ساتویں دن بچہ یا بچی کا نام رکھنا، اسی طرح عقیقہ سے پہلے یا بعد نومولود کے بال کاٹنا اور اس کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنا بھی مستحب ہے؛ اور اگر کسی کے پاس زعفران موجود ہو تو بال منڈوانے کے بعد بچے کے سر پر زعفران مَلنا بھی مستحب ہے۔
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه، ويحلق رأسه، ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهباً، ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعاً على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى، سواء فرق لحمها نيئاً أو طبخه بحموضة أو بدونها، مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك."
(كتاب الأضحية، خاتمة، ج:6، ص:336، ط: سعيد)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن أم كرز قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أقروا الطير على مكناتها». قالت: وسمعته يقول: «عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة، ولا يضركم ذكراناً كن أو إناثاً»."
(كتاب الصيد والذبائح، باب العقيقة، ج:2، ص:1207، ط: المكتب الإسلامي)
وفیہ ایضاً:
"عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن بشاة، وقال: «يا فاطمة! احلقي رأسه وتصدقي بزنة شعره فضة»، فوزناه فكان وزنه درهماً أو بعض درهم."
(كتاب الصيد والذبائح، باب العقيقة، ج:2، ص:1208، ط: المكتب الإسلامي)
وفیہ ایضاً:
"عن بريدة قال: كنا في الجاهلية إذا ولد لأحدنا غلام ذبح شاة ولطخ رأسه بدمه، فلما جاء الإسلام كنا نذبح الشاة يوم السابع ونحلق رأسه ونلطخه بزعفران."
(كتاب الصيد والذبائح، باب العقيقة، ج:2، ص:1209، ط: المكتب الإسلامي)
المعجم الأوسط للطبرانی میں ہے:
"عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «العقيقة تذبح لسبع، أو أربع عشرة، أو إحدى وعشرين»."
(باب العين، ج:5، ص:136، ط: دار الحرمين)
العقود الدریۃ في تنقیح فتاویٰ الحامدیۃ میں ہے:
"ولا يكون فيه دون الجذع من الضأن والثني من المعز، ولا يكون فيه إلا السليمة من العيوب؛ لأنه إراقة دم شرعاً كالأضحية."
وفیہ ایضاً:
"ولو قدم يوم الذبح قبل يوم السابع أو أخره عنه جاز، إلا أن يوم السابع أفضل."
وفیہ ایضاً:
"وحكمها كأحكام الأضحية، إلا أنه يسن طبخها وبحلو تفاؤلاً بحلاوة أخلاق المولود، وحمل لحمها مطبوخاً للفقراء، ولا بأس بندبهم إليها."
(كتاب الذبائح، العقيقة، ج:2، ص:212-213، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

