بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سگریٹ نوشی کا حکم اور سگریٹ کی بو کے ساتھ مسجد میں جانے کا حکم

سوال

 ہمارے یہاں چائے کی دکانوں اور گلی محلوں کے موڑ پر سگریٹ پینا عام بات ہے، اور بہت سے لوگ سگریٹ پی کر سیدھے مسجد میں نماز کے لیے چلے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں سگریٹ بالکل حرام ہے، کچھ کہتے ہیں کوئی حرج نہیں۔

سگریٹ پینے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کیا اس کی وجہ سے آخرت میں مؤاخذہ ہو گا؟

جواب

 سگریٹ کا استعمال عام حالات میں مکروہِ تنزیہی ہے، نہ تو حرام ہے اور نہ ہی بالکل مباح؛ ایسا مباح بھی نہیں جیسے کھانا پینا، اور ایسا حرام بھی نہیں جیسے شراب وغیرہ۔ اس لیے کہ سگریٹ میں شراب کی طرح ایسا نشہ نہیں ہے جس سے عقل مغلوب ہو جائے، البتہ اس میں حدت اور بدبو ہے اور استعمال کرنے والے کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔

اسی بنا پر سگریٹ اور اس سے ملتی جلتی چیزیں منہ میں بدبو پیدا ہونے اور مضرِ صحت ہونے کی وجہ سے مکروہ اور ناپسندیدہ ہیں؛ اور سگریٹ وغیرہ کی بدبو کے ساتھ مسجد میں داخل ہونا مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا سگریٹ اگر استعمال کی ہو تو منہ سے بدبو زائل کر کے نماز و تلاوت کرنی چاہیے، تاکہ نمازیوں اور فرشتوں کو تکلیف نہ ہو۔ اور اگر اس عمل کی عادت بنا لی جائے  کہ منہ صاف کیے بغیر مسجد میں آئیں اور توبہ نہ کی جائے تو یہ سخت گناہ ہے اور آخرت میں مؤاخذہ کا سبب بن سکتا ہے۔ نیز جہاں سگریٹ پینا لوگوں کی ایذا کا سبب بنتا ہو، وہاں پینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

 "قلت: وألف في حله أيضاً سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالةً سماها (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان)... فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه، سواء كان ممن يتعاطاه أو لا، كهذا العبد الضعيف وجميع من في بيته، أن يقول: هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع، فهو مكروه طبعاً لا شرعاً، إلى آخر ما أطال به رحمه الله تعالى."

(كتاب الأشربة، ج:6، ص:459، ط: ايچ ايم سعيد)

وفیہ ایضاً:

"وأكل نحو ثوم، ويمنع منه؛ وكذا كل مؤذٍ ولو بلسانه. (قوله: وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة، للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد. قال الإمام العيني في شرحه على صحيح البخاري: قلت: علة النهي أذى الملائكة وأذى المسلمين، ولا يختص بمسجده عليه الصلاة والسلام، بل الكل سواء لرواية مساجدنا بالجمع، خلافاً لمن شذ، ويلحق بما نص عليه في الحديث كل ما له رائحة كريهة، مأكولاً أو غيره، وإنما خص الثوم هنا بالذكر، وفي غيره أيضاً بالبصل والكراث، لكثرة أكلهم لها."

 (كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:661، ط: سعيد)

کفایت المفتی میں ہے:

 ”بیڑی سگریٹ پینا فی حدِ ذاتہ مباح ہے، بدبو منہ میں رہ جائے تو بدبو کی وجہ سے کراہت پیدا ہوتی ہے۔“

(کتاب الحظر والاباحۃ، ج:9، ص:127، ط: دار الافتاء جامعہ فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144803100761
تاریخ07-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں