تھکاوٹ اور ڈیوٹی کے عذر سے مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھنے کا حکم
سوال
میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتا ہوں، صبح سے رات تک ڈیوٹی رہتی ہے اور گھر پہنچتے پہنچتے بہت زیادہ تھک جاتا ہوں۔ ہمارے گھر سے مسجد بھی کچھ فاصلے پر ہے۔ اس تھکاوٹ کی وجہ سے میں اکثر مغرب اور عشاء کی نماز گھر پر ہی پڑھ لیتا ہوں۔ کیا صرف تھکاوٹ کی بنیاد پر مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر پر نماز پڑھنا درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ عام اَحوال میں، یعنی جماعت کو ساقط کرنے والے کسی شرعی عذر کی عدمِ موجودگی میں، عاقل، بالغ اور تندرست مردوں کے لیے فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا سنتِ مؤکدہ اور واجب کے قریب ہے، اور یہ جماعت مسجد میں حاضر ہو کر ادا کرنا مطلوب ہے؛ بغیر کسی شرعی عذر کے مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز ادا کرنے پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ نے نابینا صحابی حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو — باوجود اس کے کہ وہ نابینا تھے اور مسجد تک لانے والا کوئی رہبر بھی نہ تھا — گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت طلب کرنے پر یہ فرمایا کہ ”میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا“۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے حالتِ صحت و تندرستی میں محض تھکاوٹ اور مسجد کے کچھ فاصلے پر ہونے کو عذر بنا کر مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر پر نماز ادا کرنا درست نہیں؛ ایسا کرنے سے نماز کا فریضہ تو ادا ہو جائے گا، لیکن ترکِ جماعت کی وجہ سے گناہ ہو گا۔ سائل پر لازم ہے کہ اپنے اوقات کی ترتیب اس طرح بنائے کہ مسجد کی جماعت میں شرکت ممکن ہو۔
البتہ اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے مسجد کی جماعت میں شریک نہ ہو سکے تو کم از کم گھر پر اہل و عیال کے ساتھ جماعت کا اہتمام کر لیا کرے، لیکن اس کی بھی عادت نہ بنائی جائے۔
صحیح البخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب، فيحطب، ثم آمر بالصلاة، فيؤذن لها، ثم آمر رجلاً فيؤم الناس، ثم أخالف إلى رجال، فأحرق عليهم بيوتهم، والذي نفسي بيده لو يعلم أحدهم أنه يجد عرقاً سميناً، أو مرماتين حسنتين، لشهد العشاء»."
(كتاب الأذان، باب وجوب صلاة الجماعة، ج:1، ص:131، ط: دار طوق النجاة)
ترجمہ:
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ (کسی خادم کو) لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، اور جب لکڑیاں جمع ہو جائیں تو (عشاء کی) نماز کے لیے اذان کہنے کا حکم دوں، اور جب اذان ہو جائے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کسی آدمی کو مامور کروں، اور پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو بغیر کسی عذر کے جماعت میں نہیں آتے) اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! (جو لوگ جماعت میں شریک نہیں ہوتے، ان میں سے) اگر کسی کو یہ معلوم ہو جائے کہ (مسجد میں) گوشت کی فربہ ہڈی، یا گائے یا بکری کے دو اچھے کھر مل جائیں گے تو عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوں۔“
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سمع المنادي فلم يمنعه من اتباعه عذر»، قالوا: وما العذر؟ قال: «خوف أو مرض، لم تقبل منه الصلاة التي صلى»."
(كتاب الصلاة، باب التشديد في ترك الجماعة، ج:1، ص:151، ط: المكتبة العصرية)
ترجمہ:
”حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی مؤذن کی اذان سنے اور مؤذن کی تابع داری (یعنی مسجد پہنچ کر جماعت میں شریک ہونے) سے اسے کوئی عذر نہ روکے — لوگوں نے پوچھا کہ عذر کیا ہے؟ فرمایا: (دشمن سے) ڈرنا یا بیماری — تو اس کی وہ نماز جو اس نے بغیر جماعت پڑھی، قبول نہیں کی جاتی۔“
بدائع الصنائع میں ہے:
"(أما) الأول: فقد قال عامة مشايخنا: إنها واجبة، وذكر الكرخي أنها سنة."
(كتاب الصلاة، فصل بيان من تجب عليه الجماعة، ج:1، ص:155، ط: سعيد)
فتح القدیر میں ہے:
"وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة، وفي المفيد أنها واجبة، وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:345، ط: مصطفى البابي الحلبي)
منحۃ الخالق علی البحر الرائق میں ہے:
"قال في النهر وفي المفيد الجماعة واجبة وسنة لوجوبها بالسنة وهذا معنى قول بعضهم تسميتها واجبة وسنة مؤكدة سواء، إلا أن هذا يقتضي الاتفاق على أن تركها بلا عذر يوجب إثما مع أنه قول العراقيين، والخراسانيون على أنه يأثم إذا اعتاد الترك."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:365، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وفي المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة."
(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الأول في الجماعة، ج:1، ص:82، ط: رشيدية)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط... (وقيل: واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا، وبه جزم في التحفة وغيرها. قال في البحر: وهو الراجح عند أهل المذهب. (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج).
و في الرد: (قوله: من غير حرج) قيد لكونها سنة مؤكدة أو واجبة، فبالحرج يرتفع الإثم ويرخص في تركها، ولكنه يفوته الأفضل، بدليل «أنه عليه الصلاة والسلام قال لابن أم مكتوم الأعمى لما استأذنه في الصلاة في بيته: ما أجد لك رخصة»."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:552، ط: سعيد)
إعلاء السنن میں ہے:
"فثبت أن إتيان المسجد أيضًا واجب كوجوب الجماعة، فمن صلاها بجماعة في بيته أتى بواجب وترك واجبًا آخر."
(أبواب الإمامة، باب وجوب إتيان الجماعة في المسجد عند عدم العلة، ج:4، ص:186، ط: إدارة القرآن كراتشي)
امداد الاحکام میں ہے:
"الجواب: حنفیہ کے نزدیک صلوات مکتوبہ کی جماعت مسجد محلہ میں سنت مؤکدہ بلکہ واجب ہے، گھر میں جماعت کرنے سے جماعت کا ثواب مل جاویگا، لیکن ترک سنت مؤکدہ اور ترک واجب کا گناہ ہوگا... پس صاحب قنیہ نے جو مطلقاً لکھا ہے: اختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الفضيلة... یہ صحیح نہیں کیونکہ اصحاب مذہب کی تصریحات اس کے خلاف ہیں اور صاحب قنیہ کی نقل ضعیف ہے اور یہ قول احادیث کے بھی خلاف ہے۔"
(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:534، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"مسجد قریب موجود ہو اور پھر وہاں کی جماعت بلا عذر ترک کرکے مکان پر کوئی شخص اپنی نماز پڑھ لے تو اگرچہ فرض ادا ہوجاتا ہے، مگر یہ بہت بڑی محرومی ہے... اگر مسجد میں جاکر معلوم ہوا کہ جماعت ہوچکی ہے تو اپنے مکان پر اہل وعیال کو لے کر جماعت کرلی جائے، مسجد کی جماعت کا مستقلاً ترک کرنا گناہ ہے۔"
(ج:6، ص:417، ط: مکتبہ شیخ الاسلام دیوبند)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

