عورت کے محرم کے بغیر طویل سفر اور گرلز ہاسٹل میں رہنے کا شرعی حکم
سوال
میری بیٹی نے میڈیکل میں داخلہ لیا ہے، کالج ہمارے گاؤں سے تقریباً دو سو کلومیٹر دور ایک بڑے شہر میں ہے۔ اب دو باتیں پوچھنی ہیں: ۱۔ ہر مہینے آنے جانے کے لیے اس کے ساتھ محرم کا جانا ہر بار ممکن نہیں، کیا وہ اکیلے یا سہیلیوں کے ساتھ بس میں سفر کر سکتی ہے؟ اسی طرح میری بھابھی گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتی ہیں اور انہیں بھی کبھی کبھار دوسرے ضلع میں جانا پڑتا ہے، ان کا کیا حکم ہے؟ ۲۔ اگر میں خود اسے کالج تک چھوڑ آؤں اور وہ وہاں گرلز ہاسٹل میں رہے تو کیا یہ درست ہے؟
جواب
1۔ واضح رہے کہ عورت کے لیے مسافتِ شرعی (سوا ستتر کلومیٹر) یا اس سے زیادہ مسافت کا سفر محرم کے بغیر جائز نہیں، کیوں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی عورت تین روز (یعنی شرعی مسافت) سے زیادہ سفر نہ کرے، الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا محرم ہو۔ دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے۔ (آپ ﷺ کا یہ مبارک ارشاد سن کر) حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
جمہور فقہاء نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرض حج کے لیے بھی شرعی محرم کے بغیر سفر کرنے کو ناجائز کہا ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں تعلیم اور کسبِ معاش تو بہت کم درجہ کی چیزیں ہیں جن کی مسلمان عورتوں کو ضرورت بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ خود شریعتِ اسلامیہ نے اس کی کفالت کی ذمہ داری شادی سے پہلے اس کے باپ پر اور شادی کے بعد شوہر پر ڈالی ہے اور عورت کو اس کی اجازت نہیں دی کہ وہ شدید ضرورت کے بغیر گھر سے نکلے، لہٰذا کسبِ معاش اور حصولِ تعلیم کے لیے اس طرح بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں۔ ہاں، اگر کوئی عورت ایسی ہے جس کا نہ شوہر ہے، نہ باپ ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا ایسا رشتہ دار ہے جو اس کی معاشی کفالت کر سکے، اور نہ خود اس عورت کے پاس اتنا مال ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکے، تو اس صورت میں اس عورت کے لیے بقدرِ ضرورت کسبِ معاش کے لیے شرعی پردہ کی پابندی کے ساتھ گھر سے نکلنا جائز ہے، اور جب یہ مقصد اپنے وطن اور اپنے شہر میں رہ کر باآسانی پورا ہو سکتا ہو تو اس کے لیے دور دراز کا سفر کرنے کی اجازت نہیں۔ نیز سہیلیوں یا عورتوں کے قافلے کا ساتھ ہونا محرم کے قائم مقام نہیں ہوتا۔
2۔ اگر کوئی عورت گھر سے محرم کے ساتھ نکل کر شرعی مسافت طے کر کے کسی جگہ اقامت اختیار کر لے، مثلاً کسی ہاسٹل یا مدرسہ وغیرہ میں، جہاں بے پردگیِ مرد و زن اور غیر اخلاقی ماحول نہ ہو اور عورت کی عفت و عصمت پوری طرح محفوظ ہو، پھر عورت کا محرم وہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل ہو جائے تو عورت کے لیے ایسے ہاسٹل یا مدرسہ میں اقامت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہ عورت وہاں رہ کر شرعی پردے کی پابندی کرے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»."
(كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، ج:2، ص:975، الرقم:1338، ط: دار إحياء)
ترجمہ:
”حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔“
صحیح بخاری میں ہے:
"عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يخلونّ رجل بامرأة، ولا تسافرنّ امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبتُ في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجةً، قال: «اذهب فحجّ مع امرأتك»."
(كتاب الجهاد والسير، باب من اكتتب في جيش فخرجت امرأته حاجة، ج:3، ص:1094، ط: دار ابن كثير)
ترجمہ:
”عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے۔ تو حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"وإذا خرج مع امرأته مسافراً فطلقها في بعض الطريق أو مات عنها، فإن كان بينها وبين مصرها الذي خرجت منه أقل من ثلاثة أيام وبينها وبين مقصدها ثلاثة أيام فصاعداً رجعت إلى مصرها؛ لأنها لو مضت لاحتاجت إلى إنشاء سفر وهي معتدة، ولو رجعت ما احتاجت إلى ذلك فكان الرجوع أولى... وإن كان بينها وبين مصرها ثلاثة أيام فصاعداً وبينها وبين مقصدها أقل من ثلاثة أيام فإنها تمضي؛ لأنه ليس في المضي إنشاء سفر، وفي الرجوع إنشاء سفر."
(كتاب الطلاق، فصل في العدة، ج:3، ص:207، ط: العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوماً أو أكثر، كذا في الهداية."
(كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1، ص:199)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

