بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاجت پوری ہونے کی غرض سے آیت کریمہ کا ورد کرنا

سوال

آیت کریمہ  سوا لاکھ پڑھنے  کا کیا حکم ہے؟ کیا کسی جائز مقصد سے  پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

حدیث شریف میں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں جو دعا مانگی”لا إِلٰهَ إِلاَّ أنتَ سُبحانَک إني کنتُ مِنَ الظَّالمِین“ کوئی بھی مسلمان کسی بھی چیز کے لیے اللہ تعالیٰ سے اس دعا کے ذریعے دعا کرے تو اللہ پاک اس کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔

چنانچہ روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم للآلوسیؒ میں ہے:

"أخرج أحمد والترمذي والنسائي والحكيم في نوادر الأصول والحاكم وصححه وابن جرير والبيهقي في الشعب وجماعة عن سعد ابن أبي وقاص عن النبي صلّى الله عليه وسلّم قال: «دعوه ذي النون إذ هو في بطن الحوت لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين لم يدع بها مسلم ربه في شيء قط إلا استجاب له»."

( ج:9، ص:81، ط:دارالكتب العلمية)

معلوم ہوا کہ آیت کریمہ کا ورد کرنا اپنی کسی حاجت کے پورا ہونے کی غرض سے،درست ہے ،تاہم اس  کے لیے کسی روایت میں کوئی خاص تعداد مقرر نہیں کی گئی، بلکہ   بزرگوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں مختلف جائزحاجات کے لیے مختلف تعداد بیان کی ہیں،مثلاً111 مرتبہ، 313 مرتبہ،یا سوالاکھ اور ڈیڑھ لاکھ مرتبہ وغیرہ،لہذا  عدد کی تعیین کو مسنون یا مستحب نہ سمجھاجائے، بلکہ مجرب ہونے کی بنیاد پر مخصوص تعداد میں اس کا وردکر لیا جائے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803100645
تاریخ30-08-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں