
اگر کسی شخص پر زکاۃ فرض ہو جائے اور وہ زکاۃمیں گھر کا کوئی پرانا سامان مثلاً فرنیچر یافریج وغیرہ دے تو کیا اس سامان کی جتنی قیمت اس وقت کے حساب سے ہوگی اتنی زکاۃادا ہو جائے گی یا نہیں؟
زکاۃکی ادائیگی میں فقراء ومساکین کو نقد رقم دینا زیادہ بہتر ہے، تاکہ وہ سہولت سے اپنی ضرورت کے مطابق اشیاء خرید سکیں؛ اس لیے زکاۃکی ادائیگی کی افضل صورت یہی ہے۔ البتہ نقد کے بجائے اگر کوئی شخص مستحقین کے لیے کارآمد اشیاء میں سے کسی چیز کو زکاۃکی مد میں انہیں دے دیتا ہے، جیسے راشن ، کپڑے یا دیگر چیزیں تو اس سے بھی زکاۃدینے والے کی زکوۃ ادا ہوجائے گی ؛لہذاصورت مسئولہ میں اگر کسی شخص پر زکاۃفرض ہے تو وہ اپنے گھر کا پرانا فرنیچر یا فریج وغیرہ اگر کارآمد ہے تو اسے زکاۃکی مد میں دے سکتا ہے ، جو سامان وہ زکاۃ کی مد میں دے گا اس کی قیمت فروخت معلوم کرلی جائے ؛واجب الااداء زکاۃمیں سے اس سامان کی قیمت فروخت کے بقدر زکاۃادا ہو جائے گی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وذكر في الفتاوى أن أداء القيمة أفضل من عين المنصوص عليه وعليه الفتوى كذا في الجوهرة النيرة."
(کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقة الفطر،ج:1،ص192،ط:دار الفكر بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء ... ويقوم في البلد الذي المال فيه.
وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح."
( کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم،2 / 286، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100602
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن