ہبہ مکمل ہونے سے پہلے وفات کی صورت میں گھر کی ملکیت کا حکم
سوال
میری سوتیلی مرحومہ دادی کی ملکیت میں ایک گھر تھا۔ وہ اپنی وفات سے قبل مذکورہ گھر میرے والد صاحب کو ہبہ کرکے ان کے نام منتقل کرنا چاہتی تھیں، لیکن بیماری اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر اپنی زندگی میں اس گھر کو میرے والد کے نام منتقل نہ کرسکیں اور ان کا انتقال ہوگیا۔
اب سوال یہ ہے کہ مرحومہ دادی کی خواہش تھی کہ مذکورہ گھرمیرے والد صاحب کے نام کردیا جائے، لیکن ان کی زندگی میں ہبہ مکمل نہ ہوسکا، تو کیا اب ان کی وفات کے بعد کوئی ایسی شرعی صورت موجود ہے جس کے ذریعے مذکورہ پلاٹ میرے والد صاحب کی ملکیت قرار پائے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے والد کی مرحومہ سوتیلی دادی نے اپنی زندگی میں مذکورہ گھر سائل کے والد کو باقاعدہ ہبہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی گھر کا مالکانہ قبضہ اور تصرف ان کے حوالے کیا تھا، بلکہ صرف گھر ان کے نام کرنے کی خواہش یا ارادہ تھا، تو محض خواہش اور ارادے سے ہبہ مکمل نہیں ہوا۔
لہٰذا سوتیلی دادی کے انتقال کے بعد مذکورہ گھر ان کا ترکہ شمار ہوگا اور ان کے تمام ورثاء اپنے اپنے حصوں کے بقدر اس کے حق دار ہوں گے۔ تاہم اگر تمام بالغ و عاقل ورثاء باہمی رضامندی سےترکہ کی تقسیم کے بعد اپنے حصوں پر قبضہ کرنے کے بعد آپ کے والد صاحب کو ہبہ کرنا چاہیں تو ایسا کرنا جائز ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك."
(کتاب الھبۃ، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4، ص:377، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها."
(کتاب الھبۃ، ج:5، ص:690، ط:سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

