بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1448ھ 27 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاہک کو دوسری مہندی لگانے والی کے پاس بھیجنے پر کمیشن لینے کا حکم


سوال

میری اہلیہ شادی سے پہلے مہندی کا کام کرتی تھی دوسروں کو مہندی لگاتی تھی اور ان سے پیسے لیتی تھی لیکن شادی کے بعد نہیں لگاتی لیکن جب کسی کا مہندی کے لئے فون آتا ہے تو وہ کسی اور دوست یا کسی کلائنٹ کو بھیج دیتی ہے اور جو منافع ہوتا ہے اس میں سے 20 فیصد کا مطالبہ کرتی ہے تو کیا یہ 20 فیصد کا مطالبہ ٹھیک ہے اس کا کیا حکم ہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی کا مہندی لگانے کی خواہش مند خاتون کو اپنی کسی سہیلی یا کلائنٹ کے پاس صرف بھیجنے پر اس دوست سے کمیشن وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

اس لیے کہ کمیشن پر اجرت کا حق دار بننے کے لیے عمل یعنی محنت ضروری ہے،بغیر عمل کے صرف راہ نمائی کرنے پر کسی سے کمیشن وصول کرنا خواہ وہ کمیشن طے شدہ ہی کیوں نہ ہو،شرعاً جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے :

"‌والأجرة ‌إنما ‌تكون ‌في ‌مقابلة ‌العمل".

(باب المهر، ج:3، ص:156، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802102330

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں