
میرے گھر والے یہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن میں حاملہ عورت ایک بند کمرے میں اکیلے بیٹھے ،نہ کسی سے کچھ بات کرے ،نہ کچھ کھائے اور نہ کچھ پیے،کہتے ہیں کہ اگر کسی نے اس طرح نہیں کیا تو حاملہ عورت کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کو نقصان ہوتا ہے۔
سورج گرہن میں حاملہ عورت کا اکیلے بند کمرے میں بیٹھنا کیسا ہے؟
چاند گرہن اور سورج گرہن کی وجہ سے عام انسانوں یا حاملہ خواتین اور ان کے حمل پر مختلف قسم کے اثرات پڑنے سے متعلق جو باتیں عوام میں مشہور ہیں ان کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے گھر والوں کا کہنا کہ سورج گرہن میں حاملہ عورت ایک بند کمرے میں اکیلے بیٹھے نہ کسی سے کچھ بات کرے نہ کچھ کھائے اور نہ کچھ پیئے ،درست نہیں۔ اس لیے سورج یا چاند گرہن کے وقت ایسی باتوں کی طرف دھیان دینے کے بجائے نماز اور استغفار و دعا کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
عمدۃ القاری میں ہے :
" أنه صلى الله عليه وسلم جعل ما سيقع كالواقع إظهاراً لتعظيم شأن الكسوف وتنبيهاً لأمته أنه إذا وقع بعده يخشون أمر ذلك ويفزعون إلى ذكر الله والصلاة والصدقة، لأن ذلك مما يدفع الله به البلاء".
(کتاب الکسوف، ج: 7، ص: 89، ط: دار إحیاء التراث العربی)
اغلاط العوام میں ہے :
’’مشہور ہے کہ چاند اور سورج کے گہنے کے وقت کھانا پینا منع ہے، سو اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔ البتہ وہ وقت توجہ الی اللہ کا ہے، اس وجہ سے کھانے پینے کا شغل ترک کردینا اور بات ہے۔ رہا یہ کہ دنیا کے تمام کاروبار، بلکہ گناہ تک تو کرتا رہے اور صرف کھانا پینا چھوڑ دے، یہ شریعت کو بدل ڈالنا اور بدعت ہے۔‘‘
(ص:191،ط: زمزم پبلشرز)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
گرہن کے وقت کھانا
سوال [۲۰] : عوام میں مشہور ہے کہ چاند ، یا سورج گرہن میں جب تک گرہن رہے، اس وقت تک کچھ کھانا نہیں چاہئے ، یہ کہاں تک صحیح ہے؟
الجواب حامداً و مصلياً :
عوام میں غلط مشہور ہے۔
(باب ما یتعلق بالسعادة والنحوسة، ج: 1، ص:238، ط:جامعه فاروقيه )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802102326
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن