بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الثانی 1448ھ 04 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے مجنون و مفقود ہونے کی صورت میں بیوی کے لیے فسخ نکاح کا حکم


سوال

اہک شخص تقریباً پندرہ سال سے بالکل پاگل ہے، مختلف ہسپتالوں میں علاج کے باوجود ٹھیک نہ ہو سکا اور کچھ عرصہ پاگل خانے میں بھی گزارا ہے، لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔

اب یہ شخص اس وقت تقریباً ڈیڑھ سال سے بالکل غائب ہے۔ اس شخص کی بیوی تقریباً پندرہ یا سولہ سال سے انتظار کر رہی تھی کہ وہ ٹھیک ہو جائے گا لیکن نہیں ہوا، اب بیوی چاہتی ہے کہ اس کو طلاق مل جائے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ عورت کیا صورت اختیار کر سکتی ہے کہ اس کو طلاق مل جائے، یعنی عقدِ نکاح ختم ہو جائے اور وہ دوسری جگہ نکاح کر سکے؟

وضاحت:

1: مذکورہ شخص کی بیوی کا خرچہ اس شخص کا بھائی برداشت کر رہا ہے، اور وہ شخص بالکل لاپتہ ہے؛ معلوم نہیں کہ زندہ ہے یا انتقال ہو گیا ہے، نیز وہ شخص بالکل پاگل بھی ہے۔

2: جب اس کی شادی ہوئی تھی تو تقریباً ایک سال تک وہ بالکل تندرست تھا اور زندگی بسر کرنے کے لیے کام بھی کرتا تھا، لیکن ایک سال بعد پاگل ہو گیا۔

3: پاگل ہونے کے بعد وہ بیوی کو جانی نقصان بھی پہنچاتا تھا۔

4: اور اب تک مہر بھی ادا نہیں کیا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی صورتِ حال یہی ہو کہ مذکورہ عورت کا شوہر پچھلے پندرہ سالوں  سے مکمل پاگل ہے، حالت یہ ہے کہ کسی کو پہچانتا نہیں اور متعدد بار  علاج معالجے کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آئی، نیز بعض دفعہ بیوی کو جانی نقصان بھی پہنچایا ہے، اور پچھلے ڈیڑھ سال سے بالکل لاپتا بھی ہے—زندہ ہے یا انتقال ہو گیا ہے، اس بارے میں بھی کوئی خبر نہیں ہے—لیکن شادی کے وقت تندرست تھا اور خرچہ بھی ادا کرتا تھا، جبکہ پاگل ہونے کے بعد بیوی کے نان و نفقہ کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا بلکہ شوہر کا بھائی تمام اخراجات برداشت کر رہا ہے، تو اس صورت میں اگر مذکورہ عورت کے لیے زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے اور شوہر کے نہ ہونے کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، تو وہ عورت چاہے تو کسی مسلم جج (عدالت) کے پاس جا کر نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔

فسخِ نکاح کا طریقہ یہ ہے: سب سے پہلے مذکورہ خاتون گواہوں کو ساتھ لے کر فسخِ نکاح کا مقدمہ دائر کرے، پھر شرعی گواہوں کے ذریعے اپنے نکاح کو ثابت کرے اور یہ بھی ثابت کرے کہ شوہر پچھلے پندرہ سال سے پاگل ہے اور پچھلے ڈیڑھ سال سے غائب بھی ہے۔ اگر سائلہ عدالت میں گواہوں کے ذریعے اپنے دعوے کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے، تو عدالت اس عورت کو ایک سال کی مہلت دے دے تاکہ اس عرصے میں مذکورہ عورت کے شوہر کو تلاش کیا جا سکے  ۔ ایک سال بعد بھی اگر کوئی خبر نہ ملے، تو مذکورہ عورت دوبارہ درخواست دے اور عدالت فسخِ نکاح کا فیصلہ کر دے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد، وہ عدتِ وفات گزار کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے؛ اور اگر نان و نفقہ کا انتظام نہ ہو تو کم از کم ایک ماہ کی مدت کے انتظار کے بعد بھی عدالت نکاح فسخ کر سکتی ہے۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں:

’’اس صورت میں عورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ عدالت میں دعویٰ تفریق بوجہ مفقود الخبری شوہر دائر کرے، حاکم بعد تحقیقات ایک سال کی مدت انتظار کے لیے مقرر کردے، اگر اس عرصہ میں زوجِ غائب نہ آئے تو نکاح فسخ کردے، تاریخِ فسخ سے عدت گزار کر دوسرا نکاح کرلے۔ ایک سال کی مدت مقرر کرنا ضروری ہے، ذرائعِ رسل ورسائل کا وسیع ہونا اس شرط کے خلاف نہیں ہے، اور نہ ذرائع کی وسعت اس امر کو لازم ہے کہ گم شدہ شوہر کا پتا معلوم ہوجائے کہ وہ زندہ ہے کہ نہیں،آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کے متعلق معلوم کرنے کے لیے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، تمام ذرائع استعمال کرلیے جاتے ہیں اور فیصلہ کرلیا جاتاہے، لیکن بعد میں فیصلہ غلط ہوتاہے،غرض یہ کہ ایک سال کی مدت اس مصلحت کے لیے ہے کہ امکانی حد تک شوہر کے متعلق کسی نتیجہ پر پہنچاجائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم‘‘

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما خلو الزوج عما سوى هذه العيوب الخمسة من الجب، والعنة والتأخذ والخصاء والخنوثة، فهل هو شرط لزوم النكاح؟ قال أبو حنيفة، وأبو يوسف ليس بشرط، ولا يفسخ النكاح به.‌وقال ‌محمد: ‌خلوه ‌من ‌كل ‌عيب لا يمكنها المقام معه إلا بضرر كالجنون والجذام والبرص، شرط لزوم النكاح حتى يفسخ به النكاح، وخلوه عما سوى ذلك ليس بشرط، وهو مذهب الشافعي.(وجه) قول محمد أن الخيار في العيوب الخمسة إنما ثبت لدفع الضرر عن المرأة وهذه العيوب في إلحاق الضرر بها فوق تلك؛ لأنها من الأدواء المتعدية عادة، فلما ثبت الخيار بتلك، فلأن يثبت بهذه أولى بخلاف ما إذا كانت هذه العيوب في جانب المرأة؛ لأن الزوج، وإن كان يتضرر بها لكن يمكنه دفع الضرر عن نفسه بالطلاق، فإن الطلاق بيده، والمرأة لا يمكنها ذلك؛ لأنها لا تملك الطلاق، فتعين الفسخ طريقا لدفع الضرر، ولهما أن الخيار في تلك العيوب ثبت لدفع ضرر فوات حقها المستحق بالعقد، وهو الوطء مرة واحدة، وهذا الحق لم يفت بهذه العيوب؛ لأن الوطء يتحقق من الزوج مع هذه العيوب، فلا يثبت الخيار هذا في جانب الزوج."

(بدائع الصنائع،كتاب النكاح، فصل شروط لزوم النكاح، ج:2، ص:327، ط:دارالكتب العلمية)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802102256

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں