بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ربیع الثانی 1448ھ 11 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سید طالب علم کے لیے زکات سے وظیفہ لینے کا حکم

سوال

ایک طالب علم سید ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے مدرسے کی طرف سے دیا جانے والا ماہانہ وظیفہ وصول کر رہا ہے۔ مدرسے کے بعض اساتذہ نے فرمایا ہے کہ بظاہر اس وظیفے کے لینے کی گنجائش ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ مدرسے میں جو زکات اور صدقات کا چندہ جمع ہوتا ہے، وہ پہلے مہتممِ جامعہ کی ملکیت میں آتا ہے، اس کے بعد طلبہ کو وظیفے کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص براہِ راست کسی سید کو زکات دے تو اس کے لیے زکات لینا جائز نہیں، لیکن جب زکات کی رقم مہتممِ جامعہ کی ملکیت میں آنے کے بعد طلبہ کو وظیفے کی صورت میں دی جائے تو سید طالب علم کے لیے اس وظیفے کا لینا جائز ہوگا۔

البتہ اس مسئلے میں بعض اہلِ علم کی رائے اس سے مختلف معلوم ہوئی ہے، اس لیے گزارش ہے کہ اس طالب علم کے لیے مدرسے کی طرف سے دیے جانے والے مذکورہ وظیفے کو وصول کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ نیز فتویٰ اور تقویٰ دونوں اعتبار سے اس کی وضاحت فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ دینی مدارس کے مہتممین زکات کی وصول یابی میں مستحق طلبہ کے وکیل ہوتے ہیں اور پھر زکات کو اس کے مصرف میں خرچ کرنے میں امین ہوتے ہیں،مہتمم یا اس کے نمائندے کو زکات دینے سے زکات دینے والا بری الذمہ ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود مہتمم پر لازم ہوتا ہے کہ زکات کو اس کے مصارف میں خرچ کیا جائے، غیرمصرف میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں زکات وصول کرنے سے مہتمم اس رقم کا مالک نہیں ہوجاتا بلکہ وہ اسے مستحق تک پہنچانے کے لیے درمیان میں صرف ایک واسطہ اور امین ہوتا ہے، اس لیے مہتمم کے لیے جائز نہیں کہ وہ زکات کی رقم سے سید طالب علم کو وظیفہ دے کیونکہ وہ زکات کا مستحق  نہیں ہے۔ 

البتہ اگر سید طلبہ کے وظائف زکات کے علاوہ عطیات، صدقاتِ نافلہ یا دیگر جائز آمدنی سے دیے جاتے ہوں تو ان کے لیے ایسا وظیفہ لینا جائز ہے۔ پس مذکورہ طالب علم کے لیے اپنے وظیفے کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری ہے؛ اگر وہ زکات کی رقم سے دیا جاتا ہے تو  وہ لینا جائز نہیں ہو گا، اور لینے کی صور ت میں وہ تمام رقوم واپس کرنا لازم ہو گا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب ... هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج: 1، ص: 189، ط: رشيدية)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم ..."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، ج: 2، ص: 265، ط: رشيدية)

فتح القدیر میں ہے:

"لا يحل لكم أهل البيت من الصدقات شيء إنما هي غسالة أيدي الناس..."

(كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة ومن لا يجوز، ج: 2، ص: 273، ط: دار الفكر)

فتاویٰ بینات میں ہے:

"دینی مدارس کے مہتمم و ناظمین مستحق طلباء کی جانب سے اموالِ زکوٰۃ وصول کرنے اور ان پر خرچ کرنے کے وکیل ہیں ... لیکن یہ حضرات وکیل کے ساتھ امین بھی ہیں۔"

(کتاب الزکوٰۃ، ج: 2، ص: 654-655،ط: مکتبہ بینات)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144802102113
تاریخ10-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں