والدہ کی وفات کے بعد کنواری بیٹیوں کے شادی کے اخراجات کو وراثت سے پہلے نکالنے کا شرعی حکم
سوال
کیا کنواری بہنوں کا جائیداد میں سے پہلے شادی کےاخراجات کا مطالبہ کرنا (کہ امی کی خواہش تھی جبکہ والد کی وفات 18 سال پہلے ہو گئی تھی) کہ ان کا پہلے شادی کا اکاؤنٹ نکلےگا، پھر تقسیم ہوگی۔ نیز جن بھا ئیو ں کے سامنے کہا وہ بھی متفق کہ والدہ کے بعد اب ان کی شادی کا خرچہ اٹھا نے والا کوئی نہیں تو جائیداد کی تقسیم سے پہلے ایک شادی کے نام پہ حساب رکھا جائے۔ شریعت کی رو سے راہ نمائی فرمادیں!
جواب
صورتِ مسئولہ میں والدین کے انتقال کے ساتھ ہی ترکہ تمام ورثاء کی ملکیت میں حصصِ شرعیہ کے بقدر منتقل ہوچکا ہے، اور ترکہ سے تقسیم سے پہلے صرف تین چیزیں نکالی جاتی ہیں: تجہیز و تکفین کا خرچہ، مرحوم کے ذمے واجب الادا قرض، اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ میں سے اس کا نفاذ۔
چوں کہ کنواری بہنیں خود بھی وارث ہیں، اس لیے والدہ کی یہ خواہش کہ پہلے ان کی شادی کا خرچہ نکالا جائے، شرعاً وصیت کے طور پر نافذ نہیں ہوگا؛ کیوں کہ وارث کے حق میں وصیت دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر معتبر نہیں ہوتی۔ لہٰذا بہنوں کا اسے بطورِ حق مطالبہ کرنا درست نہیں۔
البتہ اگر تمام عاقل بالغ ورثاء اپنی خوش دلی سے اس پر راضی ہوجائیں تو والدہ کی خواہش پوری کرنے کے لیے ترکہ سے شادی کا خرچہ نکال کر باقی تقسیم کرنا جائز ہے، اور یہ صلہ رحمی و احسان ہونے کی وجہ سے باعثِ اجر بھی ہے۔ اور اگر کوئی وارث راضی نہ ہو تو پورا ترکہ میراث کے شرعی ضابطے کے مطابق تقسیم کیا جائے، پھر جو بھائی اپنی خوشی سے اپنے حصے میں سے بہنوں کی شادی پر خرچ کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔
نیز واضح رہے کہ اگر بہنیں محتاج ہوں اور بھائی صاحبِ استطاعت ہوں تو ان کا نان نفقہ بھائیوں پر واجب ہے، اور ان کی شادی کا انتظام کرنا بھی بھائیوں کی اخلاقی و دینی ذمہ داری ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل."
(کتاب الوصایا، الباب الأول فی تفسیر الوصیة وشرط جوازها وحکمھا، ج:6، ص:90، ط:سعید)
فتاوی رحیمیہ میں ایک سوال کے جواب میں مذکور ہے:
"(الجواب)اگر سوال میں درج شدہ باتیں بالکل صحیح ہوں اور..........جن بھائی بہنوں کی شادی والد صاحب کے انتقال کے بعد ہوئی ہے، کیا شادی کے وقت ان سے یہ کہا گیا تھا کہ جو کچھ ان کی شادی کے سلسلہ میں خرچ ہوگا ،تقسیم وراثت کے وقت اس کو وضع کیا جائے گا، اگر باہمی یہ معاہدہ ہوگیا ہو اور بھائی بہنوں نے اسے تسلیم کیا ہو، تب تو اخراجات وضع کر کے ان کا حصہ اد اکیا جائے گا اور اگر باہمی رضا مندی سے ایسا معاہدہ نہ ہوا ہوتو اسے تبرع و احسان کہا جائے گا ، ان کے حصہ میں سے جبراً وصول نہیں کیا جاسکتا، البتہ اگر وہ اپنی مرضی سے وضع کرنے کے لئے کہیں تو ان کی مرضی کی بات ہے ۔"
( کتاب المیراث،ج:10، ص:283،ط:دارالاشاعت)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

