بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید الاضحٰی کے دن نمازِ عیدکی ادائیگی تک صرف کھانے کی چیزوں سے رکنا مستحب ہے یا روزہ دار کی طرح رہنا مستحب ہے؟

سوال

 احادیثِ مبارکہ اور فقہائے کرام کے فتاویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ عید الاضحی کے دن نمازِ عید سے پہلے صرف کھانے سے رکنا مستحب ہے، نہ کہ مطلق پینے کی اشیاء سے۔ چنانچہ احسن الفتاویٰ (جلد 7، صفحہ 520) میں ایک سوال کے جواب میں مذکور ہے: «”قربانی کرنے کا ارادہ ہو یا نہ ہو، بہرحال قربانی کے گوشت سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے۔ چائے بھی نہ پیے، کیونکہ چائے میں دودھ اور شکر کی وجہ سے غذائیت ہے۔ یہ حکم صرف مستحب ہے، اس کے خلاف کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔“» اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ (جواب نمبر: 32393) میں مذکور ہے کہ یہ استحباب صرف کھانے کی اشیاء کے ساتھ خاص ہے، پینے کی اشیاء اس استحباب میں داخل نہیں۔ لیکن اس کے برعکس آپ کے فتویٰ (نمبر: 144212200962) میں عید کی نماز سے پہلے کھانے پینے سے رکنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

لہٰذا درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:

1. مذکورہ فتاویٰ میں بظاہر جو فرق نظر آتا ہے، اس کی صحیح توجیہ کیا ہے؟

2. راجح اور درست موقف کون سا ہے؟

3. کیا عید الاضحی کے دن نمازِ عید سے پہلے خالص پانی، شربت، خالص دودھ، لسی، دودھ والی چائے، بغیر دودھ کی چائے، جوس یا کولڈ ڈرنک پینا جائز ہے یا مستحب کے خلاف ہے؟

4. اگر بعض مشروبات، مثلاً دودھ، لسی یا دودھ والی چائے کو اس استحباب میں شامل کیا جاتا ہے تو کیا اس کی وجہ صرف ان کی غذائیت ہے، یا ہر قسم کی پینے والی چیز اس حکم میں داخل ہے؟

5. اگر پینے کی تمام اشیاء سے بھی رکنا مستحب ہے تو اس پر احادیث، آثار یا معتبر فقہی عبارات سے کیا دلیل ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کا مدلل اور محققانہ جواب عنایت فرمائیں تاکہ اس بارے میں پائے جانے والے اشکال کا ازالہ ہو۔

جواب

عید الاضحٰی کے دن صبح صادق سے لے کر عید کی نماز  اور قربانی کرنے تک کچھ نہ کھانے کے استحبابی حکم میں صرف کھانے سے رکنامستحب ہے یا کچھ بھی نہ کھانا پینا یعنی کچھ نہ چکھنا مستحب ہے؟ اس بابت تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ استحبابی حکم سے  متعلق جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے بعض میں لفظ ”اکل“ آیا ہے، اور بعض میں لفظ ”طعم“۔ چنانچہ سنن ترمذی میں ہے:

"عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي»" 

(أبواب العیدین، باب في الأکل یوم الفطر قبل الخروج، ج: 1، ص: 544، حدیث رقم: 542، ط: دار الغرب الإسلامي)

اور سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن ابن بريدة عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يخرج يوم الفطر حتى يأكل، وكان لا يأكل يوم النحر حتى يرجع."

(أبواب الصیام، باب في الأکل یوم الفطر، ج: 2، ص: 638، حدیث رقم: 1755، ط: دار الرسالة العالمیة)

لفظِ ”اکل“   حقیقت میں کھانے کی چیز کو چبانے کے بعد  نگلنے کو کہتے ہیں،" قال الرماني والأكل حقيقة بلع الطعام بعد مضغه فبلع الحصاة ليس بأكل حقيقة."  (المصباح المنیر، کتاب الألف، ج: 1، ص: 17، ط: المکتبة العلمیة)۔ بعض حضرات نے ”اکل“ کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ ہر وہ چیز جو چبائی جاسکتی ہو اس کو جوف تک پہنچانا، چاہے چبائی گئی ہو یا نہیں، "إيصال ما يتأتّى فيه المضغ إلى الجوف ممضوغا كان أو غيره، فلا يكون اللبن والسويق مأكولا كذا في تعريفات السيّد الجرجاني." (کشاف اصطلاحات الفنون، ج: 1، ص:  250، ط: مکتبة لبنان ناشرون)۔ چاہے لفظِ ”اکل“ کا پہلا معنی لیا جائے یا دوسرا، دونوں میں اتنی بات تو قدرِ مشترک ہے کہ جو چیز چبائی نہ جاسکتی ہو، اس پر ”اکل“ کا اطلاق نہیں ہوتا، لہٰذا مشروبات  پر ”اکل“ کا اطلاق نہیں ہوگا۔

اور لفظِ ”طعم“ کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو گلے سے آسانی سے اتر جائے، یہاں تک کہ پانی پر بھی، نیز کسی چیز کے چکھنے پر بھی، "(ط ع م) : طعمته أطعمه من باب تعب طعما بفتح الطاء ويقع على كل ما يساغ حتى الماء وذوق الشيء. وفي التنزيل {ومن لم يطعمه فإنه مني} [البقرة: 249] وقال عليه الصلاة والسلام في  زمزم «إنها طعام طعم» بالضم أي يشبع منه الإنسان والطعم بالضم الطعام." (المصباح المنیر، کتاب الطاء، 2/372، ط: الکمتبة العلمیة)۔  لیکن ”طعم“ کا زیادہ استعمال بھی ”اکل“ کے معنی میں ہوتا ہے۔

ان دونوں لفظوں کی وجہ سے  یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ عید الاضحی  کے دن نماز تک ”امساک“ کا استحباب صرف  ماکولات (کھانے کی اشیاء) کے ساتھ مخصوص ہے، مشروبات (پینے کی اشیاء) اس حکم میں داخل نہیں۔

 اسی طرح اس  اشکال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فقہ حنفی کے اکثر معتبر متون( مختصر القدوری، بدایۃ المبتدی، کنز الدقائق، المختار للفتوی، ملتقی الابحر وغیرہ)  میں اس ”امساک“ کے لیے جو تعبیر استعمال کی گئی  ہے وہاں بھی صرف ”اکل“ کا ذکر ہے، اس تعبیر کی وجہ سے بھی اشکال پیدا ہوتا ہے کہ احناف کے نزدیک صرف ”امساک عن المأکولات“ مستحب ہے۔

صرف یہی دو  وجہیں ہیں جن سے اس  بات پر استدلال کیا جاسکتا ہے کہ  یوم النحر کو صبح صادق سے لے کر نمازِ عید تک  صرف ”امساک عن الماکولات“ مستحب ہے، ”امساک عن المشروبات“ مستحب نہیں،   شاید انہی وجوہات کی بناء پر دار العلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر موجود فتویٰ (جواب نمبر: 32393)  میں  اس استحباب کو صرف کھانے کی اشیاء کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے، اور پینے کی اشیاء کو اس حکم سے خارج قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس حکم کو ماکولات کے ساتھ خاص کرنا محلِ تامل ہے، کیونکہ    تلاش بسیار  کےباوجود   فقہائے کرام کی کتابوں میں کہیں  یہ تصریح نہیں ملی کہ  یہ حکم صرف کھانے کی اشیاء  کے ساتھ مخصوص ہے، پینے کی اشیاء اس حکم میں داخل نہیں، بلکہ فقہائے کرام کی صریح عبارات میں جو حکم بیان ہوا ہے وہ یہ ہے  کہ ”یوم النحر (قربانی کے روز)  کو صبح صادق سے لے کر  عید کی نماز ادا کرنے تک  ہر اس چیز سے رکنا مستحب ہے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یعنی کھانے پینے اور جماع  ان تینوں چیزوں سے رکنا مستحب ہے“، ہمارے اکابر کے فتاوٰی  بھی اسی کے مطابق ہیں، لہٰذا راجح اور درست موقف یہی ہے، اور  مذاہبِ ثلاثہ میں سے شافعیہ کی کتابوں میں بھی اس کی تصریح موجود ہے کہ یہ امساک ماکولات اور مشروبات  دونوں قسم کی اشیاء  سے ہے ، البتہ ان کے نزدیک یہ امساک مسنون ہے، اس کے خلاف کرنا مکروہ ہے، جبکہ مالکیہ اور حنابلہ کی کتابوں میں اگر چہ تصریح موجود نہیں ہے لیکن ان کی عبارات سےبھی  یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ امساک ”صوم“  کی طرح ہے، جیسا کہ آگے پیش کیے گئے  حوالوں سے واضح ہوتا ہے۔

اب سب سے پہلے  فقہ حنفی کی معتبر کتابوں سے اس مدّعٰی پر حوالہ جات  پیش کیے جاتے  ہیں، اور پھر ان وجوہات  کے جوابات  ذکر کیے جائیں گے جن کی وجہ سے اشکال پیدا ہورہا ہے۔

ففي حاشیة ابن عابدین المسماۃ برد المحتار :

"قوله: (ويندب تأخير أكله عنها) أي يندب الإمساك عما يفطر الصائم من صبحه إلى أن يصلي فإن الأخبار عن الصحابة تواترت في منع الصبيان عن الأكل والأطفال عن الرضاع غداة الأضحى قهستاني عن الزاهدي ط."

(کتاب الصلاۃ، باب العیدین، ج: 2، ص: 176، ط: سعید) 

وفي حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح:

"(قوله: وأحكام الأضحى) أي من الشروط والمندوبات هي أحكام الفطر ولا حاجة إلى تعداد الموافق وإنما يحتاج إلى عد المخالف أفاده السید. قوله: "يؤخر الأكل عن الصلاة" وكذا كل ما ينافي الصوم من صبحه إلى أن يصلي وقد تواردت الأخبار عن الصحابة رضي الله عنهم في منع الصبيان عن الأكل والأطفال عن الرضاع غداة الأضحى كما في الزاهدي وفيه رمز إلى أن هذا الإمساك ليس بصوم ولذا لم يشترط له النية."

(کتاب الصلاۃ، باب الجمعة، ص: 536، ط: دار الکتب العلمیة) 

وفي حاشیة الطحطاوي علی الدر : 

"قوله: (ويندب تأخير أكله عنها) أي يندب الإمساك عما يفطر الصائم من صبحه إلى أن يصلي، فإن الأخبار عن الصحابة تواترت في منع الصبيان عن الأكل والأطفال عن الرضاع غداة الأضحى قهستاني عن الزاهدي ."

(کتاب الصلاۃ، باب العیدین، ج: 3، ص: 20، ط: دار الکتب العلمیة)

ان تینوں کتابوں میں اس بات کی تصریح ہے کہ امساک ہر اس چیز سے مستحب ہے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔  اسی طرح ”شرح مشکلات القدوری  لخواہر زادہ“  میں بھی اس ”امساک“ پرصوم کا اطلاق کیا ہے: 

"قوله: (أن تطعم) قدم الأكل؛ لأن فيه داعية طبعا وشرعا؛ لأن بهذا تقع القربة بين هذا اليوم وبين سائر الأيام قبله؛ لأن في سائر الأيام الصوم، وأما في الأضحى يقع التفرقة بين هذا اليوم وبين سائر الأيام؛ لأن في سائر الأيام الأكل، فيصوم في هذا اليوم تفرقة."

(کتاب الصلاۃ، باب العیدین، ج: 1، ص: 288، ناشر: التراث الذهبي الرياض)

اسی طرح ”العرف  الشذی  شرح سنن الترمذي“ میں علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے ”امساک مذکور“ کو صوم کا نام دیا ہے: 

"يستحب الإمساك إلى الصلاة يوم الأضحى، وإن لم يمسك فلا كراهة أصلاً، كما ذكره علي القاري في بعض رسائله، ثم ظاهر الحديث أن استحباب الإمساك لكل رجل يضحي أو لا، وهذا الإمساك أسميه بالصوم، لأن الحديث يسمى صوم عشرة، والحال أن صوم العاشر مكروه، فالصوم في اليوم العاشر هو الصوم إلى الصلاة."

(أبواب العیدین، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج، ج: 1، ص: 42، ناشر: دار التراث العربي)

جبکہ ملا علی قاری رحمہ نے  ”فتح باب العنایة  بشرح النقایة“ میں ”اکل اور شرب“ دونوں سے امساک کے استحباب کی تصریح کی ہے:

"(لكن ندب الإمساك) عن الأكل والشرب (إلى أن يصلي) لما تقدم من حديث الترمذي، وابن ماجه: «أنه صلى الله عليه وسلم كان لا يأكل يوم النحر حتى يرجع». وفي رواية: «فيأكل من أضحيته»."

(کتاب الصلاۃ، باب في صلاۃ الجمعة، فصل في صلاۃ العیدین، ج: 1، ص: 425، ط: دار أرقم)

اسی طرح ملک العلماء علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے ”بدائع الصنائع“ میں اور  علاء الدین سمرقندی رحمہ اللہ نے ”تحفۃ الفقہاء“ میں اور حسام الدین سِغْناقی رحمہ اللہ نے ”نہایہ شرح ہدایہ“ میں  امساک مذکور کے لیے ”عدمِ ذوق“ (یعنی نماز تک کوئی بھی چیز نہ چکھنے)  کی تعبیر استعمال کی ہے ، جو کہ  ماکولات اور مشروبات دونوں  قسم کی اشیاء کو شامل ہے: 

ففي بدائع الصنائع لملك العلماء الکاساني:

"وأما الذوق فيه فلكون اليوم يوم فطر. وأما في عيد الأضحى فإن شاء ذاق وإن شاء لم يذق، والأدب أنه لا يذوق شيئا إلى وقت الفراغ من الصلاة حتى يكون تناوله من القرابين."

(کتاب الصلاۃ، فصل في صلاۃ العیدین، ج: 1، ص: 279، ط: دار الکتب العلمیة)

وفي تحفة الفقھاء لعلاء الدین السمرقندي:

"وأما في عيد الأضحى فإن كان في الرساتيق يذبح حين أصبح ويذوق منه ولا يمسك كما في عيد الفطر وفي المصر لا يذبح حتى يفرغ من صلاة العيد ولا يذوق في أول اليوم حتى يكون تناوله من القرابين."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، ج: 1، ص: 170، ط: دار الكتب العلمية)

وفي النھایة في شرح الھدایة للسغناقي:

"وفي «الخلاصة»: ويستحب لمن أصبح في يوم الفطر ستة أشياء: أن يغتسل، ويستاك، ويذوق شيئا، ويلبس أحسن ثيابه جديدا كان أو غسيلا، ويمس طيبا، ويخرج [صدقة الفطر] إن كان غنيا، وكذا في عيد الأضحى غير أن الأدب في عيد الأضحى أن لا يذوق إلى وقت الفراغ من الصلاة."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، ج: 4، ص: 90)

یہ سارے حوالے فقہ حنفی  سے پیش کیے گئے  ہیں، شافعی فقہائے کرام کی تصریحات بھی ملاحظہ فرمائیں:

ففي نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج: 

"(قلت) كما قال الرافعي في الشرح (ويأكل) ، أو يشرب (في عيد الفطر قبل الصلاة) والأحب أن يكون تمرا، فإن لم يكن ما ذكر في بيته ففي طريقه، أو المصلى عند تيسره (ويمسك) عن الأكل (في) عيد (الأضحى) حتى يصلي للاتباع وليتميز عيد الفطر عما قبله الذي كان فيه حراما، وليعلم نسخ تحريم الفطر قبل صلاته فإنه كان محرما قبلها أول الإسلام، بخلافه قبل صلاة الأضحى، والشرب كالأكل، ويكره له ترك ذلك، قاله في المجموع عن النص."

وفي حاشية الشبراملسي علیه:

"(قوله: والشرب كالأكل) أي فيمسك عنه كالأكل، وليس هذا عين قوله قبل أو يشرب لأن ذلك بالنسبة لعيد الفطر وهذا بالنسبة لعيد الأضحى."

(کتاب الصلاۃ، باب العیدین، ج: 2، ص: 396، ناشر: دار الفکر بیروت)

وفي مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج:

"(ويمسك) عن الأكل (في) عيد (الأضحى) حتى يصلي للاتباع وليتميز عيد الفطر عما قبله الذي كان الأكل فيه حراما، وليعلم نسخ تحريم الفطر قبل صلاته فإنه كان محرما قبلها أول الإسلام بخلافه قبل صلاة عيد الأضحى، والشرب كالأكل، ويكره له ترك ذلك كما نقله في المجموع عن نص الأم."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، ج: 1، ص: 592، ناشر: دار الكتب العلمية)

اسی طرح حنبلی فقیہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے ”المغنی“ میں، مالکی فقیہ ابن رشد رحمہ اللہ نے ”بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد“ میں   اور ”الموسوعة الفقھیة الکویتیة“ میں امساک مذکور کو توڑنے کے لیے ”فطر“ کی تعبیر استعمال کی ہے، اور فطر روزہ توڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے؛ لہٰذا اس سے بھی یہی معلوم ہوا کہ نماز تک روزہ دار کی طرح ہر چیز سے اپنے آپ کو روکے رکھا جائے گا اور پھر  قربانی کے گوشت کے ذریعے اس امساک کو توڑا جائے گا۔

ففي المغني: 

"ولأن يوم الفطر يوم حرم فيه الصيام عقيب وجوبه، فاستحب تعجيل الفطر لإظهار المبادرة إلى طاعة الله تعالى، وامتثال أمره في الفطر على خلاف العادة، والأضحى بخلافه. ولأن في الأضحى شرع الأضحية والأكل منها، فاستحب أن يكون فطره على شيء منها."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، ج: 2، ص: 275، ناشر: مكتبة القاهرة)

وفي بدایة المجتھد ونھایة المقتصد:

"وأجمعوا على أنه يستحب أن يفطر في عيد الفطر قبل الغدو إلى المصلى، وأن لا يفطر يوم الأضحى إلا بعد الانصراف من الصلاة، وأنه يستحب أن يرجع على غير الطريق التي مشى عليها لثبوت ذلك من فعله عليه الصلاة والسلام."

(کتاب الصلاۃ الثاني، الباب الثامن في صلاۃ العیدین، ج: 1، ص: 233، ناشر: دار الحدیث القاھرۃ)

وفي الموسوعة الفقھیة الکویتیة: 

"فمن كانت له أضحية، فقد اتفق الفقهاء على أنه يسنّ له تأخير الفطر يوم النحر، والإمساك عن الأكل ليفطر على كبد أضحيته؛ لما ورد عن بريدة -رضي الله تعالى عنه- قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم لايخرج يوم الفطر حتى يفطر، ولايطعم يوم الأضحى حتى يصلي، وفي رواية: ولايأكل يوم النحر حتى يذبح، ولأن في الأضحى شرعت الأضحية والأكل منها، فاستحب أن يكون الفطر على شيء منها".

 (حرف الیاء، یوم النحر، الأکل یوم النحر، ج: 45، ص: 341، ناشر: وزارۃ الأوقاف والشؤون الإسلامیة - الکویت)

اس کے ساتھ فقہائے کرام اور شارحینِ حدیث نے اس حکم کی جو حکمت بیان کی ہے کہ عید الفطر کے دن نماز سے پہلے کھانے کی حکمت یہ  ہے کہ چونکہ اس سے پہلے رمضان میں صبح صادق کے بعد کھانا پینا حرام تھا، تو عید الفطر کے دن صبح صادق کے بعد  کھانے پینے کا حکم دیا تاکہ اس سے پہلے کے  دنوں سے امتیاز پیدا ہوجائے، اور عید الاضحٰی سے پہلے چونکہ کھانا پینا مباح تھا، اس لیے عید الاضحٰی کے دن  صبح صادق سے لے کر نماز تک کھانے پینے کو  مؤخر کرنے کا حکم دیا  تاکہ قربانی کے گوشت (جو اللہ تعالٰی کی طرف سے ضیافت ہے) سے کھانے کی ابتدا ہوجائے۔

ففي مرقاۃ المفاتیح لملّا علي القاري: 

 "(وعن أنس قال: كان رسول الله ﷺ لا يغدو) أي: لا يخرج إلى المصلى. (يوم الفطر حتى يأكل تمرات) : من ثلاث إلى عشر. (ويأكلهن) : بالنصب ويرفع. (وترا) أي: ثلاثا، أو خمسا، أو سبعا، أو تسعا. قال الأشرف: لعله أسرع بالإفطار يوم الفطر ليخالف ما قبله، فإن الإفطار في سلخ رمضان حرام، وفي العيد واجب، ولم يفطر في الأضحى قبل الصلاة لعدم وجود المعنى المذكور اهـ. وهو كون مخالفة الفعل مشعرة بمخالفة الحكم، وأيضا سبب التأخير في الأضحى ليأكل من أضحيته أولا. (رواه البخاري) قال ميرك: ورواه الترمذي بمعناه."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، ج: 3، ص: 1066، ناشر: دار الفکر)

وفي أوجز المسالك لشیخ الحدیث محمد زکریا:

"فعلم بذلك أن الأئمة الأربعة متفقة على استحباب الأكل بعد صلاة الأضحى، ويؤيدهم حديث بريدة عند الترمذي والحاكم وغيرهما: كان النبي ﷺ لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي، زاد أحمد: «فيأكل من أضحيته»، ونحوه عند البزار عن جابر بن سمرة؛ وعلة التأخير في الأضحى موافقة للفقراء، لأن الظاهر أنه لا شيء لهم إلا ما أعطاهم الناس من لحوم الأضاحي، وقيل: ليكون أول طعامه من أضحيته، قاله القاري. 

قلت : تعليل موافقة الفقراء مؤيد لمن قال : لا يأكل في الأضحى وإن لم يضح، ويؤيده أيضاً إطلاق الصوم عليه في بعض الأحاديث، فقد روي عن حفصة قالت: «أربع لم يكن النبي ﷺ يدعهن : صيام عاشوراء، والعشر، والحديث، فإطلاق الصوم على العشر مؤول بوجه : منها، أن صوم العاشر باعتبار بعض الأوقات، وعلى هذا فينبغي أن لا يذوق شيئاً لا الطعام ولا غيره، فتأمل."

(کتاب العیدین، باب الأمر بالأکل قبل الغدو في العید، ج:3، ص: 632- 633، ط: دار القلم)

اب اکابر علمائے دیوبند کے  فتاویٰ ملاحظہ فرمائیں،  چنانچہ فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

”سوال: یوم النحر میں یعنی دسویں ذی الحجہ کو قبل نمازِ عید صرف نہ کھانا پینا مسنون ہے یا کہ جملہ شرائطِ صوم رعایت رکھنا ضروری ہیں آیا جماع سے بھی احتراز چاہئے یا نہیں؟

الجواب: جملہ شرائطِ صوم کا لحاظ قربانی سے پہلے مستحب ہے اور درِ مختار میں ہے کہ قربانی سے پہلے نہ کھانا مستحب ہے اگرچہ وہ قربانی نہ کرے اور اگر کھالیوے تو کچھ کراہت نہیں ہے۔اور شامی میں ہے:  "یندب الإمساک عما يفطر الصائم"،  یعنی رکنا ان اشیاء سے مستحب ہے جن سے روزہ افطار ہو جاوے— فقط۔“

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، ج: 5، ص: 144  ط: دار الاشاعت)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:

”سوال: قربانی کرنے والے کا روزہ رکھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً:

قربانی کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، البتہ سنت یہ ہے کہ عید الاضحیٰ کی دس تاریخ کو قربانی سے پہلے کچھ نہ کھائے نہ پیے، کھانے کی ابتدا قربانی کے گوشت سے کرے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔“

حررہ العبد محمود غفرلہ، دارالعلوم دیوبند، ۹۱/۲/۱۶ھ۔

(کتاب الاضحیۃ، باب فی مستحبات العیدین، ج: 17، ص: 483، ط: جامعہ فاروقیہ)

فتاوٰی رحیمیہ میں ہے:

”سوال: عید الاضحی کے دن مستحب یہ ہے کہ عید کی نماز تک کھانے پینے سے رکا رہے یہ حکم کس کے لئے ہے؟ جو قربانی کرنے والا ہے اس کے لئے یا سب کے لئے ؟ بینوا توجروا۔

الجواب: یہ حکم صرف قربانی کرنے والے کے لئے نہیں ہے، سب کے لئے ہے مستحب یہ ہے کہ روزہ دار کی طرح رہیں اور عید الاضحی کی نماز کے بعد کھائیں پئیں، اور اگر اپنے گھر قربانی ہے تو اپنی قربانی سے کھائے ، بلا عذر نماز سے پہلے کھانا مکروہ ہے۔ کبیری میں ہے:  والمستحب يوم الاضحى تاخير الاكل الى ما بعد الصلوة لما في الترمذى كان عليه الصلوة والسلام لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الا ضحى حتى يصلى وقيل هذا في حق من يضحى لا في حق غير والاول اصح . والا صح انه يكره الا كل قبل الصلوة هنا (كبيرى ص ۵۲۴ صلاة العيد) فقط والله اعلم بالصواب۔“

(باب الجمعۃ و العیدین، ج: 6، ص: 167، ط: دار الاشاعت)

 جن وجوہات  کی وجہ سے یہ  اشکال پیدا ہوتاہے، ان کا جواب یہ ہے:

پہلی وجہ یہ تھی کہ احادیث میں ”اکل“ اور ”طعم“ کے الفاظ آئے ہیں اور یہ صرف  ماکولات کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔(یہ اس صورت میں ہےجب ”طعم“ کو بھی ”اکل“ کے معنی میں لیا جائے، ورنہ اگر ”طعم“  کو ”ذوق“ کے معنی میں لیا جائے تو وہ ماکولات اور مشروبات دونوں کو شامل ہے) 

لیکن  احادیث کے ان الفاظ سے اس بات پر  استدلال کرنا کہ امساک صرف کھانے کی اشیاء سے مستحب ہے،  درست نہیں؛ پہلی وجہ تو یہ ہے یہاں ان الفاظ کو ماکولات کے ساتھ مخصوص کرنا  صحیح نہیں؛  کیونکہ فقہائے کرام نے ان الفاظ سے عام معنی مراد  لیے ہیں، اسی وجہ سے بہت سے فقہائے کرام نے ”ذوق“ (چکھنا) کی تعبیر استعمال کی ہے، جو ماکولات اور مشروبات دونوں کو عام ہے، اور  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اپنے دودھ پیتے بچوں کو  دودھ پینے سے روکنا اس معنی  کو مراد لینے کی دلیل ہے؛ اس لیے کہ دودھ پینے کے لیے ”اکل“  کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ 

اگر یہ اشکال کیا جائے  کہ دودھ پینے سے اس لیے بچوں کو روکا  کہ دودھ میں غذائیت ہے، جیسا کہ احسن الفتاوی کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتی صاحب نے یہ امساک کا حکم ان اشیاء کے ساتھ مخصوص کیا ہے جن میں  غذائیت پائی جاتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے  کہ احادیث کے الفاظ  اس بات پر قطعًا دلالت نہیں کرتے کہ  جس چیز میں غذائیت ہو اسی سے امساک مستحب ہے، کیونکہ اگر ”اکل“ کو اپنے حقیقی معنی میں لیا جائے ،تو   دودھ پینے پر وہ صادق نہیں آتا؛ اس لیے کہ  دودھ چبایا نہیں جاتا، جبکہ   ”چبانا “ اکل کی حقیقت میں داخل ہے، اور اگر  ”اکل“  میں اتنا عموم پیدا کیا جائے کہ وہ غذائیت والی چیزوں کو شامل ہوجائے چاہے وہ ماکولات ہوں یا مشروبات، تو اتنا عموم مراد لینے پر کوئی دلیل نہیں۔

مذکورہ حکم پر احادیث کے الفاظ سے  استدلال درست نہ ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر  تسلیم کر لیا جائے کہ احادیث میں یہ الفاظ  صرف ماکولات کو  شامل ہیں، تو زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوگا کہ احادیث میں مشروبات سے امساک  کا ذکر نہیں، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ مشروبات سے امساک مستحب نہیں؛ اس لیے کہ یہ مفہوم مخالف سے استدلال ہے، اور احناف کے نزدیک نصوص میں مفہوم مخالف کا اعتبار  نہیں۔

اس پر کوئی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ احناف کے ہاں نصوص میں مفہوم مخالف کا تو  اعتبار نہیں، لیکن فقہی عبارات میں تو حنفیہ کے نزدیک بھی مفہوم مخالف معتبر ہے، لہٰذا اس سے استدلال کرنا درست ہوگا، اور یہی اشکال کی دوسری وجہ بھی ہے۔

اس کا ایک  جواب تو  یہ ہے کہ جس طرح فقہائے کرام نے ”اکل“  کے الفاظ استعمال کیے ہیں اسی طرح بہت سے فقہائے کرام نے ”ذوق“ اور  مطلق ”امساک“ کی تعبیر بھی استعمال کی ہے، اور جن فقہائے کرام نے ”اکل“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں، تو شارحین اور محشین نے ان کی شرح  کرتے ہوئے اس میں عموم بھی پیدا کیا ہے،  جیسا کہ اوپر حوالے آچکے ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ مصنفین بعض اوقات تبرکًا بالحدیث بھی حدیث کے الفاظ درج کرتے ہیں، جس کی وجہ سے حکم میں خصوص پیدا ہوتا ہے،حالانکہ  حکم عام ہوتا ہے، جیسا  کہ صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ نے وضو کی سنتیں  ذکر کرتے ہوئے ایسا کیا  ہے، ملاحظہ فرمائیں:

"وسنن الطهارة: غسل اليدين قبل إدخالهما الإناء إذا استيقظ المتوضئ من نومه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا استيقظ أحدكم من منامه فلا يغمسن يده في الإناء حتى يغسلها ثلاثا فإنه لا يدري أين باتت يده." (کتاب الطھارات، باب الوضو، ج: 1، ص: 15، ناشر: دار إحیاء التراث العربي)  

"إذا استيقظ المتوضئ من نومه" کی قید کے متعلق شراح نے تصریح کی ہے کہ مصنف نے یہ قید تبرکًا بالحدیث ذکر کی ہے، ورنہ حکم عام ہے۔ ملاحظہ فرمائیں، "وقيل: هو شرط اتفاقي، خص المصنف غسلهما بالمستيقظ تبركا بلفظ الحديث والسنة تشمل المستيقظ وغيره وعليه الأكثرون." (البناية، ج: 1، ص: 179، ط: دار الکتب العلمیة)

اب صرف ایک  سوال رہ جاتا ہے کہ اگر امساک ماکولات اور مشروبات دونوں قسم کی اشیاء سے مستحب ہے تو احادیث میں صرف "لایأکل" اور  "لایطعم" جیسے الفاظ ہی  کیوں آئے ہیں؟   "لایشرب" جیسے الفاظ کیوں نہیں آئے ہیں؟

اس سوال کے جواب کی صراحت تو کہیں نہیں ملی، البتہ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ  عام طور پر جب کوئی نیند سے اٹھتا ہے تو اس کو پینے کی بنسبت   کھانے کی حاجت زیادہ ہوتی ہے، چونکہ کھانا غالب  تھا؛  اس لیے کھانے کے متعلق الفاظ وارد ہوئے ہیں، اور  اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ عید الفطر کے دن نماز کے  لیے نکلنے سے   پہلے جس طرح کوئی چیز کھانا مستحب وہاں اگر کوئی چیز پی لی جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ، چنانچہ  ”فتح العلام بشرح الإعلام بأحادیث الأحکام“ میں شیخ الاسلام زکریا الانصاری الشافعی رحمہ اللہ    نے "یطعم" کی شرح   "یأکل أو یشرب"سے کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:

"(وعن أبي عبد الله بريدة) -بضم الباء- ابن الحصيب بضم الحاء المهملة، ابن عبد الله بن الحارث بن الأعرج رضي الله عنه قال: كَانَ النبي صلى الله عليه وسلم لا يَخْرُجُ) لصلاة العيد (يَوْم الْفِطْرِ حَتى يَطْعَمَ) -بفتح الياء- أي يأكل أو يشرب (ولا يَطْعَمُ يَوْمَ الأضْحَى حَتى يُصَلِّي) العيد (رواه ابن حبان وغيره وصححو).وفيه أنه يسن الأكل قبل الخروج لصلاة عيد الفطر وتركه في الأضحى ليتميز اليومان عما قبلهما إذ ما قبل يوم الفطر يحرم فيه الأكل بخلاف ما قبل يوم النحر، وليعلم نسخ تحريم الفطر قبل صلاته فإنه كان محرمًا قبلها أول الإسلام بخلافه قبل صلاة النحر، وليوافق الفقراء في الحالين إذ الظاهر أنه لا شيء لهم إلا من الصدقة وهي سنة في الفطر قبل الصلاة، وفي النحر إنما يكون بعدها ويكره له ترك ذلك كما في المجموع عن نص الأم."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، ص: 280، ط: دار الکتب العلمیة)

اسی طرح اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ  عید الفطر کے دن نماز سے پہلے کھانا اور عید الاضحی کے دن نماز کے بعد کھانے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فقہائے کرام  فرماتے ہیں کہ عید الفطر کے دن سے پہلے ”اکل“ (کھانا ) حرام ہوتا ہے؛ اس لیے عید الفطر کے دن نماز سے  پہلے کھانے کا حکم ہوا تاکہ پہلے دنوں سے  امتیاز پیدا  ہوجائے، تو یہاں فقہائے کرام صرف ”اکل“ کا ذکر کرتے ہیں حالانکہ  عید الفطر سے پہلے دنوں میں صرف کھانا  تو حرام نہیں ہوتا، بلکہ پینا  اور جماع کرنا بھی حرام ہوتا ہے، لیکن کھانا چونکہ غالب ہے؛ اس وجہ سے صرف اسی کے  ذکر پر اکتفا  کیا جاتا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے کہ کھانا غالب ہے،  اس لیے صرف اسی سے امساک کا ذکر ہوا ہے، اور مراد باقی دو چیزو ں سے امساک بھی ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144802101666
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں