
ایک شخص کمیٹی چلاتا ہے، عرف کے مطابق پہلی باری نگران کی ہوتی ہے، پھر بعد کی باریاں قرعہ اندازی کے ذریعے سے ہوتی ہیں۔ کمیٹی کا ایک ممبر کمیٹی میں چار حصوں کا شریک تھا۔ اس نے نگران سے کہا: "اگر تم اپنی پہلی باری مجھے دے دو تو اس کے بدلے تم میرے چار حصوں میں سے جس حصے کی باری لینا چاہو، اس حصے کی باری آنے تک میں ہر ماہ تمہاری قسط اپنی طرف سے ہدیۃً ادا کروں گا۔"
اتفاق سے قرعہ اندازی میں اس کی چوتھی باری 19ویں نمبر پر نکلی، چنانچہ اس ممبر نے 19ویں باری آنے تک نگران کی تمام اقساط ادا کیں۔ ایک قسط کی رقم 60 ہزار روپے تھی، اس طرح اس نے مجموعی طور پر 19 اقساط یعنی 11 لاکھ 40 ہزار روپے ادا کیے۔ اس کے بعد وعدے کے مطابق نگران نے آخری بیسویں قسط خود جمع کرائی۔ نگران نے کمیٹی کے ممبر سے نہ اس معاملے کا مطالبہ کیا ہے اور نہ اس کی طرف سے کوئی جبر ہے، بلکہ کمیٹی کا ممبر اپنے طیبِ نفس سے ہدیہ کی نیت سے رقم ادا کرنا چاہتا ہے۔
شرعی اعتبار سے اس طرح کا معاملہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ کیا یہ معاملہ جائز ہے یا اس میں سود، قرض کے بدلے منفعت یا کسی اور شرعی خرابی کا پہلو پایا جاتا ہے؟ اس طرح کے ہدیہ میں شرعاً کوئی قباحت ہے؟ اگر ہدیہ دینے والا معاف کر دے تو اس صورت میں معافی ممکن ہے؟
واضح رہے کہ کمیٹی (بی سی) کی شرعی حیثیت "قرض" کی ہے، جس میں ہر ممبر دوسرے کو قرض دیتا ہے اور اپنی باری پر اسے واپس لیتا ہے۔ اگر قرض کے معاملے میں کوئی ایسی شرط رکھی جائے جس سے احد المتعاقدین کو مالی فائدہ پہنچے، تو وہ سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ اسی طرح اگر ہدیہ قرض کے معاملے میں پہلے سے مشروط ہو، تو وہ ہدیہ نہیں بلکہ سود کہلاتا ہے(1)۔ اسے ہدیہ کا نام دینے سے اس کی شرعی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔ نیز محض معافی سے اس کی حرمت ختم نہیں ہوگی.
مزید برآں، ہدیہ (گفٹ) ہبہ ہی ہوتا ہے، صحتِ ہبہ کے لیے موہوبہ چیز کا معلوم و متعین ہونا اور مستقبل میں دینے والے کی طرف منسوب نہ ہونا ضروری ہوتا ہے(2)، نيز ہبہ بالعوض انتہاء کے اعتبار سے بیع کے حکم میں ہوتا ہے، اور حقوقِ مجردہ کی بیع جائز نہیں ہے(3)۔
مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں ممبر کا پہلی باری کے عوض نگران کے قسطيں ادا کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر جائز نہیں ہے:
1: مذکورہ ممبر کا نگران سے پہلی باری (جو کہ در حقیقت قرض ہے، یعنی پہلے قرض دینے) کے عوض نگران کی 19 اقساط ادا کرنے کا معاہدہ صریح طور پر نفع مشروط فی القرض (قرض پر مشروط نفع) ہے، اس لیے مذکورہ معاملہ ناجائز اور سود کے حکم میں ہے، نیز اگر باری کو قرض نہ بھی کہا جائے، پھر بھی یہاں ممبر نگران کی باری (وقت) کو خرید کر اس کا عوض اور قیمت ادا کر رہا ہے، جو کہ "اعتیاض عن الاجل" (مدت پر معاوضہ) ہے، جو کہ حرام ہے(4)، نگران پر لازم ہے کہ وہ مذکورہ گیارہ لاکھ چالیس ہزار روپے اپنے ممبر کو واپس کر دے۔
2: اگر اس باری کو قرض نہ بھی کہا جائے، پھر بھی چونکہ ممبر نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنی اقساط ادا کرے گا (اور اسے خود بھی معلوم نہیں کہ اس کا نام قرعہ اندازی میں کب نکلے گا)،اور یہ بھی متعین نہیں ہوا کہ چار حصوں کی باری میں سے کس باری تک قسطیں ادا کرے گا، اس لیے یہ ادائیگی "ہبہِ مجہول" ہے، مزید یہ کہ ممبر آئندہ بطورِ ہبہ قسطیں ادا کرے گا، جو کہ عقد کو فاسد کر دیتا ہے، نیز اس میں رشوت کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔
3: مزید برآں، چونکہ نگران کی اقساط بطورِ ہبہ مذکورہ ممبر ادا کر رہا ہے، اور اس کے عوض باری لے رہا ہے، اور باری کوئی مال نہیں ہے بلکہ حق مجرد ہے جس کی بیع جائز نہیں، لہذا اس اعتبار سے بھی یہ معاملہ شرعاً ناجائز ہے۔
مذکورہ معاملے کے جواز کی صورت یہ ہے کہ نگران ممبر کو اپنی رضامندی سے پہلی باری دے، اور اس کے عوض میں نگران کو کچھ بھی نہ دیا جائے۔
(1) اعلاء السنن میں ہے:
"جميع هذه الآثار مشتمل على المنع من منفعة جرها القرض، والنهى أصله التحريم، ولما ورد في بعضها مفسرا أن علة المنع كونها ربا والأحاديث يفسر بعضها بعضا يحمل الكل على ذلك حتما."
(رسالة كشف الدجى عن وجه الربا، ج:14، ص:566، ط:إدارة القرآن كراتشي)
فتاوی شامی میں ہے:
"هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه لأنه يملك بالقبض قنية وبحر (خال عن عوض) . خرج مسألة صرف الجنس بخلاف جنسه (بمعيار شرعي) وهو الكيل والوزن مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين... في المعاوضة)... (قوله والبيوع الفاسدة إلخ)... وحقيقة الشروط الفاسدة هي زيادة ما لا يقتضيه العقد ولا يلائمه فيكون فيه فضل خال عن العوض وهو الربا بعينه اهـ ملخصا."
(كتاب البيوع، باب الربا، ج:5، ص:170، ط:دار الفكر)
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:
"ويجوز القرض في الفلوس؛ لأنها من العدديات المتقاربة كالجوز، والبيض... (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز... لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض".
(كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
"وأما هدية المستقرض: إن كانت الهدية مشروطة في الاستقراض فهى حرام ولا ينبغى للمقرض أن يقبل، وإن لم تكن الهدية مشروطة في الاستقراض وعلم أنه أهدى إليه لا لأجل القرض فإنه يقبل، وإذا لم تكن مشروطة في الإقراض ولم يعلم أنه أهدى لأجل الدين أو لا لأجل الدين ذكر شيخ الإسلام أنه لا بأس بقبولها والتورع عنه أولى... وفي الخانية: رجل استقرض عشرة دراهم وأوفاه وزاد قالوا: إن كانت الزيادة قليلة تجرى بين الوزنين كدانق في المائة لابأس به، وإن كانت كثيرة كدرهم في المائة لا يجوز وعليه رد الربا."
(كتاب البيوع، الفصل الرابع والعشرون، ج:9، ص:391/390، ط:مكتبة زكريا ديوبند)
فتاوی قاضیخان میں ہے:
"قال مولانا رضي الله عنه: و ينبغي أن يرجع، لأنه إذا علم أنه لو لم يتزوجها لا ينفق عليها كان ذلك بمنزلة الشرط يرجع كالمستقرض إذا أهدى إلى المقرض شيئاً لم يكن أهدى إليه قبل الإقراض كان حراماً، وكذا القاضي لا يجيب الدعوة الخاصة ولا يقبل الهدية من رجل لو لم يكن قاضياً لا يهدي إليه ويكون ذلك بمنزلة الشرط، وإن لم يكن مشروطاً لفظاً."
(كتاب النكاح، باب في ذكر مسائل المهر، ج:1، ص:341، ط:دار الكتب العلمية)
(2) درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة 833) - (الهبة هي تمليك مال لآخر بلا عوض... الهبة: في اللغة هو التفضل والإحسان بشيء ينتفع به الموهوب له أي المعطى له سواء أكان ذلك الشيء مالا كهبة شخص لآخر فرسا أم غير مال.. . ويدخل في تعريف الهبة المتقدم الهدية والصدقة وإن تعريف كل منهما على حدة كما سيأتي ذلك لا يوجب خروجهما من الهبة... وبقيد بلا عوض يخرج البيع والقسمة؛ لأن العوض شرط في البيع كما أنه شرط في القسمة وهي مبادلة مال بمال...
"(المادة 834) - (الهدية هي المال الذي يعطى لأحد أو يرسل إليه إكراما له) . الهدية بفتح الهاء وكسر الدال وتشديد الياء هي المال الذي أعطي أو أرسل لشخص بطريق الإكرام وتجمع الهدية على الهدايا وخرج بقيد الإكرام الرشوة من التعريف؛ لأن الرشوة لا ترسل إكراما بل تعطى بشرط الإعانة وهذا فرق بين الرشوة والهدية من جهة الماهية."
(الكتاب السابع، المقدمة، ج:3، ص:389-393، ط:دار الجيل)
و فيه أيضا:
"(المادة 854) - (الهبة المضافة ليست بصحيحة، مثلا لو قال: وهبتك الشيء الفلاني اعتبارا من رأس الشهر الآتي لا تصح الهبة) ... لأنه لا تصح على الإطلاق إضافة التمليك وتعليقها بشرط...
(المادة 855) - (تصح الهبة بشرط عوض ويعتبر الشرط... عوضا: يفهم من ذكر العوض هنا مطلقا أنه لا فرق بين أن يكون العوض حقيقيا كما في مثالي المجلة الآتيي الذكر أو حكميا كالسكنى معا وعدم التطليق وترك الظلم... والحاصل - أنه إذا كان العوض في الهبة بشرط العوض معلوما ومذكورا بكلمة " على " فهي هبة ابتداء بحسب اللفظ وبيع انتهاء بحسب المعنى...يلزم أن لا تعلق الهبة للمال على خطر الوجود أو العدم وأن لا تكون مضافة إلى وقت... (المادة 858) - (يلزم أن يكون الموهوب معلوما معينا... لأن تمليك المجهول ليس صحيحا (تكملة رد المحتار)."
(الكتاب السابع، الباب الأول، ج:2، ص:449، ط:دار الجيل)
(3) مجمع الضمانات میں ہے:
" وفي الأشباه من البيوع: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة فلو صالح عنه بمال بطلت فيرجع به، ولو صالح المخيرة بمال لتختاره بطل، ولا شيء لها هكذا ذكره في الشفعة، وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف."
(باب في الصلح، ص:385، ط:دار الكتاب الإسلامي)
(4) العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
"(وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام) روي أن رجلا سأل ابن عمر رضي الله عنهما فنهاه عن ذلك، ثم سأله فقال: إن هذا يريد أن أطعمه الربا. وهذا لأن حرمة ربا النساء ليست إلا لشبهة مبادلة المال بالأجل، فحقيقة ذلك أولى بذلك."
(كتاب الصلح، ج:8، ص:427، ط:دار الفكر)
فقط و الله اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101624
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن