
میں نے اپنی سہولت اور یاد رکھنے کی غرض سے چند نوافل مختلف اوقات کے ساتھ مخصوص کر رکھے ہیں۔ مثلاً چاشت کے وقت صلاۃ الحاجت، عصر سے پہلے صلاۃ الشکر، اور عشاء کے وقت صلاۃ التوبہ پڑھنے کا معمول بنایا ہے۔ یہ تخصیص صرف ترتیب برقرار رکھنے اور بھولنے سے بچنے کے لیے ہے، میرا یہ عقیدہ نہیں کہ ان نمازوں کو انہی اوقات میں پڑھنا شرعاً لازم ہے یا دوسرے اوقات میں ان کا ادا کرنا جائز نہیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں چاشت کے وقت غلطی سے صلاۃ التوبہ کی نیت باندھ کر تکبیرِ تحریمہ کہہ دیتا ہوں، لیکن قیام ہی میں، رکوع سے پہلے، مجھے اپنی مقررہ ترتیب یاد آ جاتی ہے۔ اس پر میں موجودہ نماز کو مکمل طور پر توڑ دیتا ہوں، یعنی سلام پھیر کر اس نماز سے نکل جاتا ہوں، پھر ازسرِنو تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ صلاۃ الحاجت کی نیت باندھ کر نماز شروع کرتا ہوں، تاکہ میری مقررہ ترتیب برقرار رہے اور بعد میں بھول نہ جاؤں۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ اس صورت میں جو پہلی نماز میں نے نیت باندھنے اور تکبیرِ تحریمہ کے بعد توڑ دی، کیا اس نفل نماز کی قضا میرے ذمہ لازم ہوگی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جس نفل نماز کو کھڑے ہو کر سلام پھیر کر ختم کیا ہے، اس نفل نماز کی قضا اس کے ذمہ لازم ہے۔
فتاوى عالمگیری میں ہے:
"ويعين قضاء ما شرع فيه من النفل ثم أفسده. كذا في التبيين."
(کتاب الصلوۃ،الباب الثالث في شروط الصلاة،الفصل الرابع في النية،ج:1،ص: 66،ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(بخلاف السلام على إنسان) للتحية، أو على ظن أنها ترويحة مثلا، أو سلم قائما في غير جنازة (فإنه يفسدها) مطلقا، وإن لم يقل عليكم (ولو ساهيا)"
وفي ردالمحتار:
"(قوله أو سلم قائما) أي على ظن أنه أتم الصلاة بحر (قوله فإنه يفسدها) أي في الصور الثلاث؛ أما السلام على إنسان فظاهر؛ وأما السلام على ظن أنها ترويحة فلأنه قصد القطع على ركعتين، بخلاف ما إذا ظن إكمالها فإنه قصد القطع على أربع باعتبار ظنه. وأما السلام قائما فلأنه إنما اغتفر سهوه في القعود لأن القعود مظنته بخلاف القيام، ولذلك اغتفر سهوه قائما في صلاة الجنازة لأن القيام فيها مظنة السلام. اهـ. ح (قوله مطلقا) فسره قوله وإن لم يقل عليكم وقوله ولو ساهيا ح."
(كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص: 615،ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101570
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن