موجودہ دور میں عورتوں کے باہر جانے کی گنجائش ہے یا نہیں
?سوال
خواتین کا اصل حکم تو گھر میں رہنے کا ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک کی آیت ہے:
{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ} [الأحزاب: 33]
لیکن ہم نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ ضرورت کے وقت خواتین کا گھر سے نکلنا جائز ہے۔ درج ذیل میں چند صورتیں لکھی جا رہی ہیں، ان کے بارے میں سوال ہے کہ کیا یہ ضرورت میں داخل ہیں اور ان کاموں کے لیے خواتین کا گھر سے نکلنا جائز ہے یا نہیں؟
-
شادی بیاہ یا دیگر مواقع پر صرف خواتین کی دعوت ہونا: جس میں خواتین عام طور پر اکیلی ہی آتی ہیں۔ کیا اس مقصد کے لیے عورتوں کا گھر سے باہر نکلنا جائز ہے اور کیا یہ ضرورت میں داخل ہے؟
-
کزنوں کی باہمی ملاقات اور پارٹی: یہ شق بھی پہلی شق سے ملتی جلتی ہے، لیکن اس میں تھوڑا سا فرق ہے۔ وہ یہ کہ ہمارے خاندان کی کزنیں (چچا زاد، پھوپھی زاد، خالہ زاد وغیرہ—جو کہ سب شادی شدہ ہیں) ہر تین ماہ بعد کسی ایک کے گھر جمع ہو کر پارٹی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ رشتہ داروں میں آپس میں تعلق قائم رہتا ہے اور ذہن بھی تھوڑا فریش ہو جاتا ہے۔ اس کے شرعی حکم کے متعلق بھی آگاہ فرمائیں۔
-
خواتین کا مل کر واٹر پارک جانا: کبھی کبھار یہ کزنیں مل کر کسی واٹر پارک جانے کا پروگرام بنا لیتی ہیں۔ جیسا کہ آج کل واٹر پارکس (مثلاً کراچی کے) شرعی مسافتِ سفر پر تو نہیں ہوتے لیکن عام طور پر مضافات میں ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس طرح جانے والوں میں صرف خواتین ہی ہوتی ہیں، البتہ کوئی ایک آدھ خاتون اپنے ساتھ 12 سے 18 سال کی عمر کا بچہ بھی لے لیتی ہے۔
-
محارم کے ساتھ تفریح کے لیے جانا: خواتین کا اپنے محارم کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے جانا، مثلاً فارم ہاؤس، واٹر پارک، یا 3-4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کسی فیملی پارک وغیرہ جانا؟
✓جواب
واضح رہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو گھر میں رہنے کا حکم دیا ہے،
البتہ اگر کوئی ضرورت پیش آ جائے—تو ایسی حالت میں عورت کے لیے چند شرائط کے ساتھ باہر جانے کی گنجائش موجود ہے۔
-
باہر جاتے وقت پردے کی مکمل پابندی کی جائے۔
-
ایسا کوئی طریقہ یا عمل اختیار نہ کیا جائے جس سے مردوں کا میلان ان کی طرف ہو۔
-
شرعی سفر (تین دن یا اس سے زائد کی مسافت) کی صورت میں شوہر یا محرم ساتھ ہو۔
اگر ان شرائط کا خیال رکھا جائے تو عورت بوقت ضرورت باہر جا سکتی ہے۔
اسی طرح قرابت داری اور رشتہ داری کو نبھانا بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا حکم ہے۔ رشتہ دار وں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کی کوشش کی جائے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کسی رشتہ دار کی شادی ہو یا کوئی اور ایسی دعوت ہو جس میں شرعاً کوئی ناجائز کام نہ ہو، اور وہاں شرکت کرنے میں کسی قسم کے گناہ یا فتنے کا خدشہ نہ ہو، تو اس طرح کی دعوتوں میں شریک ہونا جائز ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔ بلکہ رشتہ داری اور صلہ رحمی کو قائم رکھنے کا اجر بھی اس پر ملنے کی امید ہے ۔
البتہ اگر وہاں پردے کا اہتمام نہ ہو تو اس میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح سیر و تفریح کے کسی فارم ہاؤس جانا جہاں خلافِ شرع کوئی کام نہ ہو اور مکمل پردے کا اہتمام ہو، تو ایسی جگہ جانے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
جیسا کہ ابو داؤد شریف میں ہے:
"حدثنا أبو صالح الأنطاكي محبوب بن موسى ، أنا أبو إسحاق الفزاري ، عن هشام بن عروة ، عن أبيه وعن أبي سلمة ، عن عائشة «أنها كانت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر قالت: فسابقته فسبقته على رجلي، فلما حملت اللحم سابقته فسبقني، فقال: هذه بتلك السبقة.»"
(کتاب الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، ج: 2 ص: 334 ط:المطبعة الانصارية)
ترجمہ: "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (ایک سفر میں) میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگائی تو میں آپ ﷺ سے آگے نکل گئی۔ پھر جب میرا جسم کچھ بھاری ہو گیا تو ایک مرتبہ پھر میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگائی تو اس بار آپ ﷺ مجھ سے آگے نکل گئے اور فرمایا: "یہ اس پہلی دوڑ کا بدلہ ہے۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محرم کے ساتھ (شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے) سیر و تفریح کے لیے باہر جانے کی گنجائش موجود ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
{ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} [الأحزاب: 33]
ترجمہ: اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکاۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو ۔
معار ف القرآن میں ہے :
"قرار بیوت سے مواقع ضرورت مستثنی ہیں: قرن فی بیوبکن میں عورتوں پر قرار فی البیوت واجب کیا گیا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ عورتوں کے لئے گھر سے باہر نکلنا مطلقا ممنوع اور حرام ہو۔ مگر اول تو خود اسی آیت و لا تبرجن سے اس طرف اشارہ کر دیا گیا کہ مطلقا خروج بضرورت ممنوع نہیں بلکہ وہ خروع ممنوع ہے جس میں زینت کا اظہار ہو، دوسرے سورہ احزاب کی آیت جو آگے آرہی ہے اس میں خود "یدنین علیھن من جلابیبھن" کاحکم یہ بتلارہا ہے کہ کس درجہ میں عورتوں کے لئے گھر سے نکلنے کی اجازت بھی ہے، بشرطیکہ برقع و غیرہ کے پردہ کے ساتھ نکلیں۔
اس کے علاوہ خود رسولﷺ نے مواضع ضرورت کا اس حکم سے مستثنیٰ ہونا ایک حدیث میں واضح فرمادیا، جس میں ازواج مطہرات کو خطاب کرکے فرمایا "قد اذن لكن ان تجرجن لحاجتكن،رواه مسلم" یعنی تمھارے لئے اس کی اجازت ہے کہ اپنی ضرورت کے لئے گھر سے نکلو" پھر رسولﷺ کا عمل آیت حجاب نازل ہونے کے بعد اس پر شاہد ہے کہ ضرورت کے مواقع میں عورتوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے ۔ جیسا کہ حج و عمرہ کے لئے آنحضرتﷺ کے ساتھ ازواج مطہرات رض. کا جانا احادث صحیحہ سے ثابت ہے، اسی طرح بہت سے غزوات میں ساتھ جانا ثابت ہے، اور بہت سی روایاسے یہ بھی ثابت ہے کہ ازواج مطہرات رض.اپنے والدین و غیرہ سے ملاقات کے لئے اپنے گھروں سےنکلتی تھیں اور عزیزوں کی بیمار پرسی اور تعزیت و غیرہ میں شرکت کرتی تھیں اور عہد نبویؐ میں ان کو مساجد میں جانے کی بھی اجازت تھی۔
اور صرف یہی نہیں کہ حضورﷺ کے ساتھ یا آپﷺ کے زمانے ہی میں ایسا ہوا ہو، رسول ﷺ کی وفات کے بعد بھی حضرت سودہ رض اور زینب رض. بنت جحش و غیرہ کے علاوہ سب ازواج مطہرات کا حج و عمرہ کے لئے جانا ثابت ہے، جس پر صحابہ کرام میں سے کسی نے نکیر نہیں کیا، بلکہ فاروق اعظم رض. نے اپنے عہد خلافت میں ازواج مطہرات کو خود اپنے اہتمام سے حج کے لئے بھیجا، اور حضرت عثمان غنی رض. اور عبد الرحمٰن بن عوف رض. کو ان کے ساتھ نگرانی و انتظام کے لئے بھیجا، اور ام المؤمنین حضرت سودہ رض. اور حضرت زینب بنت جحش رض. بعد وفات نبی کریم ﷺ حج وعمرہ کے لئے نہ جانا اس آیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک حدیث کی بناء پر تھا، وہ یہ کہ حجۃ الوداع میں جب ازواج مطہرت کو رسولﷺ نے خود اپنے ساتھ حج کرادیا تو واپسی کے وقت فرمایا "هذه ثم لزوم الحصر" ہذہ کا اشارہ اس حج کی طرف ہے اور حصر حصیر کی جمع ہے، جس کے معنی بوریا کے ہیں۔ مطلب حدیث کا یہ ہے، کہ تمھارا نکلنا صرف اس کے لئے ہو چکا اس کے بعد اپنے گھروں کے بوریوں کو لازم پکڑو، ان سے نہ نکلو۔ حضرت سودہ رض.بنت زمعہ اور زینب بنت جحش رض. نے اس حدیث کا یہ مفہوم قرار دیا کہ تمھارا خروج صرف اسی حجۃ الوداع کے لئے جائز تھا، آگے جائز نہیں ، باقی اور ازواج مطہرات جس میں صدیقہ عائشہ رض. جیسی فقہیہ بھی داخل تھیں سب نے اس کا مفہوم یہ قرار دیا کہ جس طرح کا یہ سفر تھا کہ ایک شرعی عبادت کی ادائیگی کے لئے ہو بس اسی طرح کا خروج جائز ہے، ورنہ اپنے گھروں میں رہنا لازم ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آیت "وقرن في بيوتكن" کے مفہوم سے باشارات قرآن اور بعمل نبی کریم ﷺ اور باجماع صحابہ مواقع ضرورت مستثنی ہیں، جس میں عبادات حج و عمرہ بھی داخل ہیں، اور ضروریات طبعیہ والدین اور اپنے محارم کی زیارت، عیادت وغیرہ بھی، اسی طرح اگر کسی کے نفقہ اور ضروریات زندگی کا کوئی اور سامان نہ ہو تو پردہ کے ساتھ محنت مزدوری کے لئے نکلنا بھی، البتہ مواقع ضرورت میں خروج کے لئے شرط یہ ہے کہ اظہار زینت کے ساتھ نہ نکلیں، بلکہ برقع یا جلباب (بڑی چادر) کے ساتھ نکلیں۔
(سورہ احزاب، ج:7 ص:133/135، ط: مکبہ معارف القران)
فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

