بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کپڑوں کو کرایہ پر دینا کیا شرعا جائز ہے؟

سوال

جو لوگ کرائے پر کپڑے دیتے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب

كراۓ پر کپڑے دینا شرعا جائز ہے۔

غمز عیون البصائر میں ہے:

"في البزازية في أوائل كتاب الإجارة: استأجر ثوبا ليلبسه بدانق كل يوم فوضعه في منزله مدة ولم يلبسه يلزمه أجرة المدة التي لو لبس لا يتخرق فيها ولا يلزم لما بعدها لأنه لا يمكن تقدير الانتفاع بعدها، كالمرأة أخذت الكسوة ولم تلبسها (انتهى) ."

(کتاب الإجارات،ج:3،ص:110،ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ تعالی اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144802100984
تاریخ27-07-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں