بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لنگڑے، خصی اور خارش زدہ جانور کی قربانی، اور خریدنے کے بعد عیب پیدا ہو جانے کا حکم

سوال

قربانی کے لیے جانور دیکھنے گیا تو کچھ باتیں سامنے آئیں، جن کے بارے میں معلوم کرنا ہے: ایک بیل ایسا تھا جو چلتے وقت ایک پاؤں زمین پر رکھتا تو تھا مگر لنگڑا کر چلتا تھا؛ ایک بکرا خصی تھا اور بیچنے والا کہہ رہا تھا کہ یہ عیب دار ہے؛ اور ایک جانور کے جسم پر خارش تھی، البتہ وہ خوب فربہ اور موٹا تاجا تھا۔ ان تینوں کی قربانی درست ہو گی یا نہیں؟

نیز اگر جانور خریدتے وقت بالکل صحیح سالم ہو اور بعد میں کوئی عیب پیدا ہو جائے تو کیا کیا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی کے جانور میں ایسا عیب جو گوشت میں نقصان یا نمایاں کمی کا سبب بنے، قربانی سے مانع ہوتا ہے، اور جو عیب اس درجے کا نہ ہو وہ مانع نہیں۔

اس ضابطے کی رُو سے لنگڑے جانور میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ چلتے ہوئے خراب ٹانگ کا سہارا لیتا ہو اور اس پر زور دے کر چلتا ہو تو اس کی قربانی درست ہے، اور اگر وہ تین ٹانگوں کے سہارے چلے اور خراب ٹانگ کے سہارے پر نہ چلے، یہاں تک کہ اپنے پاؤں چل کر قربان گاہ تک نہ پہنچ سکے، تو یہ عیبِ مانع ہے اور اس کی قربانی درست نہیں۔

خصی ہونا شرعاً عیب نہیں، بلکہ خصی جانور غیر خصی سے افضل ہے، اس لیے کہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے؛ لہٰذا بیچنے والے کی بات درست نہیں۔

خارش زدہ جانور میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ فربہ ہو اور اس کا اثر گوشت تک نہیں پہنچا  تو قربانی درست ہے، اس لیے کہ خارش کھال میں ہے اور گوشت میں کمی نہیں آئی، اور اگر خارش کی وجہ سے جانور دبلا اور لاغر ہو گیا ہو اور اس کا اثر گوشت تک پہنچ گیا ہو  تو قربانی درست نہیں، کیوں کہ اب یہ نقص گوشت میں سرایت کر گیا۔

اور اگر جانور خریدتے وقت صحیح سالم تھا، پھر اس میں قربانی سے مانع کوئی عیب پیدا ہو گیا، تو مال دار پر لازم ہے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور قربان کرے؛ البتہ فقیر کے لیے اسی جانور کی قربانی کافی ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن البراء بن عازب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أربع لا تجوز في الأضاحي: العوراء البين عورها، والمريضة البين مرضها، والعرجاء البين ظلعها، والكسيرة التي لا تنقي."

(کتاب الضحایا، باب ما يكره من الضحايا، رقم الحدیث:2802، ط: المکتبۃ العصریۃ)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"ولا تجوز العمياء والعوراء البين عورها، والعرجاء البين عرجها وهي التي لا تقدر أن تمشي برجلها إلى المنسك."

(کتاب الاضحیۃ، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، ط: رشیدیۃ)

وفیہ ایضاً:

"والخصي أفضل من الفحل؛ لأنه أطيب لحما، كذا في المحيط."

(کتاب الاضحیۃ، ج:5، ص:299، ط: رشیدیۃ)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(والجرباء السمينة) فلو مهزولة لم يجز، لأن الجرب في اللحم نقص."

(کتاب الاضحیۃ، ج:6، ص:323، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(ولو) (اشتراها سليمة ثم تعيبت بعيب مانع) كما مر (فعليه إقامة غيرها مقامها إن) كان (غنيا، وإن) كان (فقيرا أجزأه ذلك) وكذا لو كانت معيبة وقت الشراء لعدم وجوبها عليه بخلاف الغني."

(کتاب الاضحیۃ، ج:6، ص:323، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144802100977
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں