بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، چار بیٹوں اور دو بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

والد کے انتقال کے بعد والدہ،دو بہنوں اور چار بھائیوں میں وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ رقم اور دیگر گھریلو اور استعمال کی اشیاء کی تقسیم کیسے ہو گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم والد  کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد،  اگر ان  کے ذمہ میں کوئی قرض ہو، تو اسے ترکہ سے  ادا کرنے کے بعد،  اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو  ایک تہائی ترکہ سے اس کو نافذ کرنے کے بعد،بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ بشمول مرحوم کی مملوکہ گھریلو استعمال کی اشیاء کو   80حصوں میں تقسیم کر  کے 10حصے  مرحوم کی بیوہ کو،14 حصے   مرحوم  کے ہر ایک بیٹے  کو اور 7 حصے  مرحوم کی   ہر ایک بیٹی کو  کوملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

مرحوم(والد):8/ 80

بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1 7
10 14 14 14 14 7 7

فی صد کے اعتبار سے %12.5  مرحوم کی بیوہ کو ،%17.5   مرحوم کے ہر ایک بیٹے  کو ، % 8.75مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو   کوملیں گے۔ گھریلو اشیاء کی تقسیم بھی اسی تناسب کی جائےگی، ان کی یا قیمت لگا کر ہر وارث کے حصے حساب سے اسے دے دی جائے یا پھر انہیں بیچ کر ان کی قیمت تقسیم کرلی جائے۔

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144802100630
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں