درود پاک کے صیغہ صلی اللہ علیہ وسلم میں لفظ تعالیٰ اور وآلہ کا اضافہ کرنا
سوال
درود شریف کے منقول و غیر منقول سینکڑوں صیغے اہل علم نے مرتب فرمائے ہیں ، ان صیغوں پر مشتمل درجنوں کتب بھی منظر عام پر آچکی ہیں ۔
درود شریف کا سب سے آسان اور مختصر صیغہ " صلی اللہ علیہ وسلم " ہے ۔ اس صیغے میں درود بھی ہے اور سلام بھی، نیز قرن اول سے لے کر آج تک تقریر و تحریر میں یہ صیغہ اربوں بلکہ کھربوں سے بھی زیادہ پڑھا اور لکھا جاتا رہا ہے ۔
1۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ صیغہ منقول بھی ہے اور کس حدیث سے " صلی اللہ علیہ وسلم " کے الفاظ ثابت ہیں ؟
2۔کیا " صلی اللہ علیہ وسلم " میں مزید اضافہ یعنی " تعالی" اور " وآلہ" شامل کیا جاسکتا ہے ؟ یعنی اس طرح "صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم " ۔
ماہنامہ بینات کراچی کا ایک مضمون منسلک ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ " صلی اللہ علیہ وسلم " بغیر کسی اضافہ کے لکھنا اور پڑھنا پسندیدہ ہے ۔ یہ بات کہاں تک درست ہے ؟
جواب
1۔ واضح رہے کہ ”صلی اللہ علیہ وسلم“ کے الفاظ میں درود شریف بے شمار احادیث میں منقول ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے دور سے لے کر آج تک یہ درود شریف حدیث بیان کرنے والوں اور سننے والوں کے زبان پر حدیث بیان کرتے اور سنتے وقت جاری رہتا ہے۔ احادیث مبارکہ کی تمام کتابوں میں جناب نبی کریم سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ یہ درود شریف لکھا ہوا ہے ، گویا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ مذکورہ درود شریف کا پڑھنا یا لکھنا ایک متواتر عمل ہے، جو کہ مستقل ایک دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔
چنانچہ اس کے علاوہ بخاری شریف کی ایک روایت کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بھی آپ علیہ السلام کے اسم گرامی کے ساتھ یہ درود شریف پڑھا ہے، اور مسلم شریف کی ایک روایت کے ظاہری الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان ہی الفاظ کے ساتھ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام پردرود وسلام پڑھاہے۔ یہ ایک مکمل اور مختصر درود شریف ہے، اس کے پڑھنے سے بھی مستقل درود شریف پڑھنے کا ثواب اوربارگاہ رسالت میں سلام بھیجنے کی برکات حاصل ہوں گی۔
2۔ دونوں طرح درود پڑھنا جائز ہے، پہلے جملہ میں صرف آپ ﷺ پر درود اور سلام ہے جب کہ دوسرے جملہ میں آپ ﷺ کے ساتھ تبعًا آپ ﷺ کی آل پر بھی درود وسلام ہے، اس لیے دوسرا جملہ زیادہ جامع اور بہتر ہے، رسول اللہ ﷺ نے درودِ ابراہیمی میں خود ہمیں آپ ﷺ اور آپ کی آل پر درود پڑھنا سکھایا ہے۔
نیز سائل نے مذکورہ مسئلہ پر ماہنامہ بینات (ربیع الاول 1432ھ) کے جس مضمون کا حوالہ دے کر اس کو سوالیہ پرچہ کے ساتھ منسلک کیا ہے ؛ اس کی تردید ازخود بینات(شعبان المعظم 1434ھ) کے ہی دوسرے شمارے میں ایک دوسرے مضمون کے ذریعہ سے کردی گئی تھی؛ اس کا لنک ملاحظہ ہو :
مختصر درود شریف میں’’ تعالیٰ‘‘اور ’’ آلہٖ‘‘وغیرہ کااضافہ بھی درست ہے
قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
"{ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}" [الأحزاب: 56]
ترجمہ: ”بے شک الله تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں ان پیغمبر پر ، اے ایمان والو تم بھی آپ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو“ ۔(بیان القرآن)
اس آیت میں ایمان والوں کو آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم ہے ،تو اس حکم کی تعمیل میں سب سے افضل درود شریف تو وہی پڑھنا ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے یعنی درود ابراہیمی جو درج ذیل ہے:
" ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. ٱللَّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ."
(صحیح البخاری، کتاب الأنبياء، باب النسلان فی المشی، ج:3، ص:1233، ط:دارابن کثیر)
صحیح بخاری میں ہے :
"عن أنس بن مالك قال: كان أبو ذر يحدث: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فرج عن سقف بيتي، وأنا بمكة، فنزل جبريل، ففرج صدري، ثم غسله بماء زمزم ... فعرج بي إلى السماء الدنيا، فلما جئت إلى السماء الدنيا، قال جبريل لخازن السماء: افتح، قال: من هذا؟ قال: هذا جبريل، قال: هل معك أحد؟ قال: نعم، معي محمد صلى الله عليه و سلم....".
(کتاب أحادیث الأنبیاء، باب كيف فرضت الصلوات في الإسراء، ج:1، ص:135، ط:دار ابن كثير،بيروت)
صحیح مسلم میں ہے :
"عن ابن جريج قال أخبرنى أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول سمعت النبى -صلى الله عليه وسلم- يقول « لا تزال طائفة من أمتى يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة - قال - فينزل عيسى ابن مريم صلى الله عليه وسلم...."
(کتاب الإیمان، باب نزول عيسى ابن مريم حاكما بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم، ج:1، ص:95، ط:دار الجيل بيروت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

