بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملک، سبب ملک کی تعریف/ نکاح کے بعد طلاق، طلاق بعد نکاح کہنے کا حکم

سوال

میرا سوال نکاح سے پہلے طلاق کے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک، سببِ ملک کیا ہے؟اگر کوئی غیر شادی شدہ آدمی طلاق کی نسبت صرف اور صرف نکاح کی طرف کرے، نہ اپنی طرف نسبت کرے اور نہ ہی کسی عورت کا نام لیکر نسبت کرے، اور نہ ہی کسی عورت کی طرف واضح نسبت کرے، بلکہ صِرف اور صِرف یہ کہے کہ "نکاح کے بعد طلاق" یا یہ کہے کہ "طلاق بعد نکاح"، تو کیا اِن دونوں الفاظ سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

اور اگر صِرف اور صرف یہی دونوں الفاظ کوئی شَخص منگیتر کو کہے، چاہے کال کے ذریعے کہے یا میسیج کے ذریعے کہے ،تو کیا اِس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ کیا پھر وہ شخص منگیتر سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ کوئی حرج کی بات ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق کے مسائل میں جب ملک یا سبب ملک کا ذکر ہوتا ہے تو ملک سے مراد یہ ہوتا ہے کہ "عورت فی الحال پہلے سے شوہر کے عقدِ نکاح میں موجود ہو اور شوہر اسے طلاق دے"، اور سبب ملک کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ "طلاق کا حکم مستقبل میں ہونے والے نکاح کی طرف مضاف یا معلق کیا جائے"۔

نیز کسی اجنبی عورت کو طلاق کے الفاظ کہے جائیں، تو نکاح کے بعد طلاق کے وقوع کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کو ملک (بیوی بننے) یا سبب ملک (نکاح) پر معلق کرکے عورت کی طرف صریح یا معنوی اضافت ہو، اور جملہ تام ہو، ورنہ نکاح کے بعد طلاق واقع نہ ہوگی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی مطلقا صرف یہ کہہ دے کہ" نکاح کے بعد طلاق" یا "طلاق بعد نکاح"، تو اس صورت میں تعلیق، نسبت اور  جملہ تام نہ ہونے کی وجہ سے یہ کلام لغو ہے اور بعد میں نکاح کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

اسی طرح اگر کوئی منگیتر کے سامنے یا کال و میسج کرکے یہ کہہ دے کہ "نکاح کے بعد طلاق"یا "طلاق بعد نکاح"، تو یہاں اگرچہ سبب ملک اور معنوی نسبت دونوں پائے جاتے ہیں، مطلب یہ ہوگا کہ جس عورت (تجھ) سے میں نکاح کروں اس کو نکاح کے بعد طلاق ہے"، تاہم چونکہ یہاں جس عورت (منگیتر) کے متعلق بات ہو رہی ہے، وہ متعین ہے، اور ایسی صورت میں بھی اس متعین عورت (منگیتر وغیرہ) سے نکاح کے بعد طلاق واقع نہ ہوگی۔

 تاہم اگر طلاق کو سبب ملک (نکاح) پر معلق کرے اور یہ کہا جائے کہ "اگر میں کسی سے/ تجھ سے نکاح کروں تو طلاق ہے"، تو چونکہ یہاں تعلیق، نسبت اور جملہ تام تینوں باتیں موجود ہیں، اس لیے اس صورت میں نکاح ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی، اسی طرح اگر کوئی کسی عورت کی طرف اشارہ کیے بغیر بلا تعیین مطلقا یہ کہہ دے کہ "جس عورت سے میں نکاح کروں اس کو طلاق ہے"، تو اس صورت میں بھی جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، طلاق واقع ہو جائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق... أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق) وكذا كل امرأة ويكفي معنى الشرط إلا في المعينة باسم أو نسب أو إشارة فلو قال: المرأة التي أتزوجها طالق تطلق بتزوجها، ولو قال هذه المرأة إلخ لا لتعريفها بالإشارة فلغا الوصف، (فلغا قوله لأجنبية إن زرت زيدا فأنت طالق فنكحها فزارت) وكذا كل امرأة أجتمع معها في فراش فهي طالق فتزوجها لم تطلق، وكل جارية أطؤها حرة فاشترى جارية فوطئها لم تعتق لعدم الملك والإضافة إليه...

(قوله أو حكما) أي أو كان الملك حكما كملك النكاح فإنه ملك انتفاع بالبضع لا ملك رقبة. ثم إن هذا الحكمي إن كان ملك النكاح قائما فهو حكمي حقيقة وإن كان بعد الطلاق وهي في العدة فهو حكمي حكما وإلى هذا أشار بقوله ولو حكما ط (قوله لمنكوحته أو معتدته) فيه نشر مرتب... (قوله أو الإضافة إليه) بأن يكون معلقا بالملك كما مثل، وكقوله: إن صرت زوجة لي أو بسبب الملك كالنكاح: أي التزوج وكالشراء في إن اشتريت عبدا... ثم اعلم أن المراد هنا بالإضافة معناها اللغوي الشاملة للتعليق المحض وللإضافة الاصطلاحية كأنت طالق يوم أتزوجك كما أشار إليه في الفتح...

(قوله أو إشارة) التعريف بالإشارة في الحاضرة؛ وبالاسم والنسب في الغائبة، حتى لو كانت المرأة حاضرة عند الحلف لا يحصل التعريف بذكر اسمها ونسبها ولا تلغو الصفة، ويتعلق الطلاق بالتزوج."

(كتاب الطلاق، باب التعليق، ج:3، ص:345، ط:دار الفكر)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144802100583
تاریخ24-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں