ایک طلاق کا حکم
سوال
اگر شوہر طلاق کا پیغام لکھنے کے دوران یہ کہے: "بھیجتا ہوں" یا "لکھ کر بھیجتا ہوں"، تو کیا ان الفاظ سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ یعنی یہ الفاظ صرف طلاق کا پیغام بھیجنے کے ارادے کا اظہار ہوتے ہیں۔ پھر اگر اس کے بعد وہ ایک ہی طلاق کا پیغام بھیج دے، تو کیا صرف ایک ہی طلاق شمار ہوگی؟ کیا پہلے کہے گئے یہ الفاظ، جو صرف پیغام بھیجنے کے ارادے کو ظاہر کرتے ہیں، طلاق کے شمار پر کوئی اثر نہیں ڈالتے ؟
وضاحت: شوہر سے میری کال پر بات ہورہی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ طلاق کا پیغام کب آئے گا تو جواب میں اس نے کہا کہ میں بھیجتا ہوں یا لکھ کر بھیجتا ہوں۔ پھر میسج ایک طلاق کا کیا جس کے الفاظ یہ تھے "میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں۔
جواب
صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کے پیغام "میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں " سے سائلہ پر صرف ایک طلاق واقع رجعی ہوئی ہے۔باقی سائلہ کے شوہر نے جو فون پر بات کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ "میں بھیجتا ہوں یا لکھ کر بھیجتا ہوں" اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ پیغام کے بعد سائلہ کی عدت شروع ہوگئی ہے۔ عدت (مکمل تین ماہواریاں) گزارنے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ نیز اگر سائلہ کا شوہر عدت کے دوران سائلہ سے رجوع کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ عدت کے بعد اگر ساتھ رہنا ہو تو پھر دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
مبسوط سرخسی میں ہے:
"وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي صلى الله عليه وسلم «طلق سودة - رضي الله تعالى عنها - بقوله اعتدي ثم راجعها» «وطلق حفصة رضي الله عنها ثم راجعها بالوطء» ويستوي إن طالت مدة العدة أو قصرت لأن النكاح بينهما باق ما بقيت العدة وقد روي أن علقمة رضي الله عنه طلق امرأته فارتفع حيضها سبعة عشر شهرا ثم ماتت فورثه ابن مسعود رضي الله عنه منها وقال إن الله تعالى حبس ميراثها عليك فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك."
(کتاب الطلاق،باب الرجعۃ، ج:۶،ص:۱۹، دار المعرفۃ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

