بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مسجد و مدرسہ کی بجلی دوسرے مدرسے میں استعمال کرنا

سوال

بندہ نے اپنی ذاتی زمین میں مدرسہ اور جامع مسجد بنائی ہوئی ہے، جس کی تعمیر وغیرہ میں مسلمانوں کا تعاون شامل ہے۔ اب سولر سسٹم لگوایا ہے جو ایک مسلمان بھائی نے لگوا کر دیا ہے، جس سے مدرسہ اور مسجد کی بجلی کی ضرورت پوری کی جا رہی ہے اور سسٹم میں گنجائش بھی موجود ہے۔ تو کیا میرے مدرسہ کے ساتھ رہائش پذیر دوسرے مدرسے کے طلباء (جو غریب، یتیم اور سید ہیں) اور دوسرے مدرسے کے اساتذہ اور مسجد کے امام جو یہاں رہائش پذیر ہیں، ان کو اس سسٹم سے کنکشن دینا شرعی طور پر جائز ہے؟

خرچ کرنے والے مسلمان دوست نے اس کی اجازتِ عام دی ہے۔

جواب

  صورتِ مسئولہ میں جب واقف کی طرف سے عام اجازت ہے کہ سولر کو مذکورہ  مسجد و مدرسہ کے لیے  استعمال کیا جائے   اور سہولت ہو تو  دیگر مسجد یا مدرسہ کی ضرورت بھی پوری کرلی جائے  تو اس   سولر سسٹم سے دیگر مسجد یا مدرسہ کو بجلی فراہم کرنا جائز ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"في فتاوى النسفي سئل شيخ الإسلام عن أهل قرية افترقوا وتداعى مسجد القرية إلى الخراب وبعض المتغلبة يستولون على خشب المسجد وينقلونه إلى ديارهم هل لواحد من أهل القرية أن يبيع الخشب بأمر القاضي ويمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد أو إلى هذا المسجد قال: نعم، كذا في المحيط."

(کتاب الوقف، الباب الثالث عشر فی الاوقاف التی یستغنی عنھا،ج: 2ص: 479 ط: دار الفکر) 

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: 

"ألا يشرط الواقف الاستبدال حين الوقف، سواء شرط عدم الاستبدال أو سكت لكن صار الوقف بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا أو لا يفي بمؤنته، فالاستبدال في هذه الصورة جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأى المصلحة فيه."

(حرف 'واو'، الرکن الرابع: الموقوف، الاستبدال بالموقوف عند الحنفية، ج: 44 ص: 196 ط: دار السلاسل) 

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144802100233
تاریخ08-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں