قرض کی واپسی کے وقت بغیر کسی پیشگی شرط کے اضافی رقم دینے کا شرعی حکم
?سوال
میں نے اپنے بیٹے کو ایک ماہ کے وعدے پر چھ لاکھ ٹکا (بنگلہ دیشی کرنسی) قرض دیا تھا، بیٹے نے کہا تھا کہ اپنی سی این جی آٹو رکشا بیچ کر ایک ماہ میں رقم لوٹا دے گا۔ سات ماہ بعد اس نے گاڑی بیچی اور رقم واپس کرتے وقت اصل رقم کے ساتھ اپنی خوشی سے مجھے بیس ہزار ٹکا زیادہ دیے، حالانکہ پہلے سے زیادہ دینے کی کوئی شرط یا وعدہ نہیں تھا۔ کیا یہ بیس ہزار ٹکا میرے لیے سود ہوں گے؟
✓جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً بغیر کسی پیشگی شرط اور معاہدہ کے بیٹے نے قرض کی ادائیگی کے وقت اپنی خوشی سے بیس ہزار ٹکا اضافی دئے تو سائل کے لیے یہ رقم لینا اور استعمال کرنا جائز ہے، یہ سود نہیں۔اس لیے کہ قرض کا معاملہ کرتے وقت مشروط نفع تو سود کہلاتا ہے لیکن اگر زیادتی نفع مشروط نہ ہو بلکہ مقروض قرض لوٹاتے وقت اپنی خوشی اور اور مرضی سے از خود کچھ بڑھا کر دے تو یہ نہ صرف جائز بلکہ حسن قضا ہونے کی وجہ سے مستحسن ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح قرض واپس کرنے کی ترغیب فرمائی ہے۔
صحيح مسلم میں ہے :
'' عن عطاء بن يسار، عن أبي رافع، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكراً، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع، فقال: لم أجد فيها إلا خياراً رباعياً، فقال: أعطه إياه، إن خيار الناس أحسنهم قضاءً''.
(كتاب البيوع، باب من استسلف شيئّا فقضى خيرا منه،ج:5،ص:54،ط: دار الطباعة العامرة)
صحیح البخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان لرجل على النبي صلى الله عليه وسلم سن من الإبل، فجاءه يتقاضاه، فقال: أعطوه، فطلبوا سنه فلم يجدوا له إلا سنا فوقها، فقال: أعطوه، فقال: أوفيتني أوفى الله بك، قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن خياركم أحسنكم قضاء."
(کتاب الوکالۃ، باب وکالۃ الشاہد والغائب، رقم الحدیث: 2305، ج:3، ص:99، ط: السلطانیۃ)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ذمہ اونٹ کا ایک متعین عمر کا بچہ واجب الادا تھا۔ وہ شخص اپنا حق وصول کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اس کا اونٹ دے دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا، لیکن انہیں اس کے اونٹ سے زیادہ عمر کا اونٹ ہی ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسی کو دے دو۔ اس شخص نے عرض کیا: آپ نے میرا حق پوری طرح ادا کر دیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پوری طرح بدلہ عطا فرمائے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی سب سے اچھے طریقے سے کرتے ہیں۔
الفتاوی الہندیۃ میں ہے:
"وفي المنتقى: أبو يوسف عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى: أنه إذا أقرضه دراهم فقضاه أجود منها بغير شرط فلا بأس به، وإن كان بشرط فهو ربا."
(کتاب البیوع، الباب التاسع عشر في القرض، ج:3، ص:202، ط: دارالفکر)
الدر المختار میں ہے:
"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن... قلت: وحاصله أن القرض إذا جر نفعا مشروطا حرم، وإن لم يكن مشروطا فلا بأس به."
(کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، فصل في القرض، ج:5، ص:166، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

