بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر طلاق کے میاں بیوی کا ایک دوسرے سے الگ ہونے کی صورت میں نکاح کا حکم

سوال

دو سال قبل میری اور میری بیوی کی لڑائی ہوگئی، لڑائی کے بعد سے اب تک دو سال ہوگئے کہ وہ مجھ سے الگ رہ رہی ہے میرے ایک بیٹے کے ساتھ، اب ہم ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس الگ رہنے کی وجہ سے طلاق ہوئی یا نہیں؟

وضاحت: لڑائی کے دوران میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی بلکہ وہ ایسے ہی مجھ سے الگ ہوکر بیٹے کے پاس رہنے لگی۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب آپ نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اور وہ لڑائی کے بعد الگ ہوکر بیٹے کے پاس رہنے لگی، تو محض دو سال علیحدہ رہنے سے شرعاً  نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی کوئی طلاق واقع ہوئی بلکہ وہ بدستور آپ کی بیوی ہے، اس لیے ایک ساتھ رہناشرعاً جائز ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"كتاب الطلاق (هو) لغة رفع القيد وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق."

( كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 227، ط: سعيد)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق."

( كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 348، ط: رشيديه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144801102409
تاریخ13-07-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں