بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1448ھ 02 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقاماتِ قرآنیہ کی حقیقت اور ان کے مطابق تلاوتِ قرآن کا حکم


سوال

1۔آج کل تلاوتِ قرآن کے لیے بعض مخصوص لہجے معروف ہیں جنہیں عرفِ عام میں ”مقامات“ کہا جاتا ہے، جیسے مقامِ بیات، مقامِ نہاوند وغیرہ۔ براہِ کرم شرعی نقطۂ نظر سے وضاحت فرمائیں کہ ان مقامات کے مطابق تلاوت کرنا اور انہیں لحونِ عرب سے تعبیر کرنا کیسا ہے؟

2۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان مقامات کی بنیاد موسیقی کے قواعد پر ہے اور انہیں موسیقی کے اصول کے مطابق ہی سکھایا جاتا ہے۔ اس بنا پر ان مقامات کا سیکھنا اور ان کے مطابق تلاوت کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

1۔واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو تجوید اور ترتیل کے ساتھ تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ " وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا"کی تفسیر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تجوید کا مفہوم منقول ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے قرآنِ مجید کو خوش الحانی اور خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

" حدثنا إسحاق، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جريج، أخبرنا ابن شهاب، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس منا من لم يتغن بالقرآن."

(صحيح البخاري،  كتاب التوحيد، ج:9، ص:154، ط:دار طوق النجاة - بيروت)

 ترجمہ:" وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآنِ مجید کو خوش آوازی کے ساتھ نہ پڑھے۔"

" حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جرير، عن الأعمش، عن طلحة، عن عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء بن عازب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: زينوا القرآن بأصواتكم"

(سنن أبي داود،  أبواب فضائل القرآن، باب كيف يستحب الترتيل في القراءة، ج:2، ص:554، ط:دار الرسالة العالمية)

ترجمہ:" قرآنِ مجید کو اپنی آوازوں سے مزین کرو۔"

"عن حذيفة بن اليمان أنَه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اقرؤوا القرآن بألحان العرب".

(جمال القراء وكمال الاقراء ، ذكر الإمالة، ص:605، ط:دار المأمون للتراث)

 ترجمہ:قرآنِ مجید کو عربوں کے لہجوں اور آوازوں کے مطابق پڑھو۔

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی آواز اور عمدہ انداز سے تلاوت کرنا نہ صرف مستحسن اور پسندیدہ عمل ہے بلکہ حکمِ الٰہی ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ پر عمل کا بھی تقاضا ہے۔نیز پوری دنیا میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے قاری کی قراء ت سات لہجات میں سے کسی بھی لہجے سے باہر نہیں ہوتی، یعنی اس کی قراء ت سات لہجوں میں سے کسی ایک لہجے کے موافق ضرور ہوگی۔ وہ سات لہجات اہل فن نے اس جملے میں جمع کئے ہیں :" صنع بسحر"،"ص "سے صباء" ن"سے نہاوند "ع "سے عجم (چہارگاہ) "ب " سے بیات" س" سے سیگاہ " ح" سے حجاز اور" ر " سے رست۔ اس فن کو علم النغمات بھی کہتے ہیں، علم المقامات بھی کہتے ہیں، ترانیم قرآنی بھی کہتے ہیں اور اس کو لہجات کا علم بھی کہا جاتا ہے۔اس کا تعلق قرآن مجید کے جمالیاتی پہلو سے ہے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مختلف لہجوں یا مقامات کے مطابق قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا، بشرط یہ کہ تجوید کے قواعد، مخارجِ حروف اور آداب تلاوت کا مکمل لحاظ رکھا جائے، جائز اور مستحسن ہے۔ البتہ اگر ان لہجوں کی رعایت کرتے ہوئے تجوید کے قواعد متاثر ہوں، حروف و حرکات میں تبدیلی واقع ہو یا تلاوت موسیقی کی مشابہت اختیار کر لے، تو ایسا کرنا ناجائز ہوگا۔

2۔ واضح رہے کہ قرآن کریم کو اچھے انداز اور خوبصورت آواز میں پڑھنا مطلوب ہےجس کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم دلوں پر اثر انداز ہو،دلوں پر خشیت  کی کیفیت طاری ہو اور اعمال کی طرف رغبت   ہو ،اگر کوئی شخص فنِ مقامات کو لازم اور مقصود اصلی سمجھے بغیر سیکھے، اور اس کا مقصد واہ واہ حاصل کرنا نہ ہو، اورفن مقامات  اوزانِ موسیقی پر  نہ سکھایا جائے، تلاوت کرتے ہوئے  سارا دھیان ایک لہجہ سے دوسرے لہجہ کی طرف منتقل ہونے پر نہ ہو،قرآن کریم کے معانی اور مفاہیم میں غور کر نے کے بجائے ساری کی ساری توجہ مقامات پر نہ ہو، اور نہ ہی قرآن کریم کی  تلاوت عام اشعار کی طرح تقطیع کر کے کی جاتی ہواور نہ  تجوید کے قواعد کے خلاف ہو تو اس صورت میں  مذکورہ فن  کو سیکھنا اور اس کے مطابق قرآن مجید کے تلاوت کرنا جائزہے ۔

ارشادِ باری تعالی ہے:

﴿‌اللَّهُ ‌نَزَّلَ ‌أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴾ [الزمر: 23]

ترجمہ: "اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ باہم ملتی جلتی ہے بار بار دہرائی گئی ہے جس سے ان لوگوں کے جو کہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں بدن کانپ اٹھتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم (اور منقاد) ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہ (قرآن) اللہ کی ہدایت ہے جس کو وہ چاہتا ہے اس کے ذریعہ سے ہدایت کرتا ہے اور خدا جس کو گمراہ کرتا ہے اس کا کوئی ہادی نہیں۔"(بیان القرآن)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ معارف القرآن میں آیتِ بالا کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

"یعنی تلاوت قرآن کا اثر کبھی عذاب کی وعید سن کر یہ ہوتا ہے کہ بدن کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں اور کبھی رحمت و مغفرت کی آیات سن کہ یہ حال ہوتا ہے کہ بدن اور قلب سب اللہ کی یاد میں نرم ہو جاتے ہیں۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام کا عام حال یہی تھا کہ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور بدن پر بال کھڑے ہو جاتے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندے کے بدن پر اللہ کے خوف سے بال کھڑے ہو جاویں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدن کو آگ پر حرام کر دیتے ہیں۔ "

(معارف القرآن، سورۃمر،ج: 7، ص: 551-552، ط: مکتبہ معارف القرآن، کراچی)

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن طلحة، عن عبد الرحمن بن عوسجة، عن البراء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:زينوا القرآن بأصواتكم "

(أول مسند الكوفيين، ج:30، ص: 451، ط:الرسالة)

صحیح الترغیب والترہیب میں ہے:

"ورُوي عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"إن من أحسن الناس صوتاً بالقرآن؛ الذي إذا سمعتموه يقرأ حسبتموه يخشى الله".

 (الترغيب في تعاهد القرآن وتحسين الصوت به، ج:2، ص: 177، ط :مكتبة المعارف للنشر والتوزيع)

اعراب القراءات السبع وعللہا  میں ہے:

"عن مجاهد في قوله: {ورتل القرآن ترتيلا} قال: ترسل فيه ترسلا. قال: وحدثنا عباس الدوري، قال: حدثنا إسحاق بن منصور، قال: حدثنا جعفر الأحمر، عن أبي حمزة، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال: لا تهذوا القرآن كهذ الشعر، ولا تنثروه كنثر الدقل، وقفوا عند عجائبه، وحركوا به القلوب، ولا يكن هم أحدكم من السورة آخرها."

(مقدمة المصنف، ص:8، ط العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144801102407

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں