بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیلیوری کے اخراجات شوہر پر ہوں گے یا بیوی پر

?سوال

میری بہن کو تین طلاقیں اس کے شوہر نے دی ہیں ، میری بہن کا حق مہر ایک تولہ سونا تھا، آدھا مؤجل اور آدھا معجل تھا، معجل تو اس نے ادا کردیا۔جب میری بہن امید سے تھی تو ڈیلیوری کا خرچہ شوہر نے نہیں دیا،میری بہن نے آدھا تولہ سونا بیچ کر اس پیسے سے ڈیلیوری کے اخراجات برداشت کیے، ا ب اس کو تین طلاقیں  ہوگئیں، کیا میری بہن آدھا تولہ سونا  جو اس نے ڈیلیوری کی مد میں  بیچ کر اخرجات برداشت کیے اپنے شوہر سے واپس لینے کا حق رکھتی ہے؟

وضاحت: جب بہن کی ڈیلیوری کا موقع تھا تو ہم نے شوہر کو کال کی تھی اور اس کی اجازت سے ہسپتال لے کر گئے تھے۔

✓جواب

صورت مسئولہ میں جب ہسپتال شوہر کی اجازت سے لے کر گئے تھے تو ہسپتا ل میں ڈیلیوری کے اخراجات شوہر کے  ذمہ تھے اور سائل کی بہن نے  وہ اخراجات  زیور بیچ  کر ادا کیے ، تو  اب سائل کی بہن ان اخراجات کا مطالبہ اپنے سابقہ شوہر سے کرسکتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار، قيل عليه وقيل عليها.

(قوله قيل عليه إلخ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول عليها كأجرة الطبيب اهـ وكذا ذكر غيره، ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح، ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل."

(کتاب النکاح ،باب النفقہ، ج:3،ص:579،ایچ ایچم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144801102281
تاریخ05-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں