شہر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تیرہ گھروں پر مشتمل دیہات میں نمازِ جمعہ کا حکم
سوال
ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے، جو جامع مسجد سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہمارا محلہ تقریباً 12 یا 13 گھروں پر مشتمل ہے۔ اور اس تین کلومیٹر کے فاصلے میں کوئی اور مسجد نہیں ہے۔ تو کیا محلے والوں پر جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے، تو کیا وہ اپنی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جمعہ کی نماز جائز ہونےکے لیے شہر یا مضافات شہر یا قریہ کبیرہ (یعنی جو لوگوں کے عرف میں بڑی بستی کہلاتی ہو، چنانچہ جس بستی کی مجموعی آبادی کم از کم دو ڈھائی ہزار نفوس پر مشتمل ہو اور وہاں ضروریات زندگی میسر ہوں وہ عرف میں قریہ کبیرہ یعنی بڑی بستی کہلاتی ہے) کا ہونا ضروری ہے۔ جب کہ سائل کے بیان کے مطابق مذکورہ گاؤں12، یا 13 گھروں پر مشتمل ہے، تو مذکورہ گاؤں میں جمعہ کے جائز ہونے کی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سےوہاں کے لوگوں پر جمعہ نماز واجب نہیں ہے۔بلکہ وہاں کے لوگوں پرحسب معمول ظہر کی نماز ادا کرنا لازم ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جامع مسجد جانا چاہے، جہاں جمعہ کی شرائط پوری ہوتی ہوں، تو اس کا یہ عمل شرعاً مستحب اور باعثِ اجر ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
"لاتصح الجمعة إلا في مصر جامع، أو في مصلى المصر، و لاتجوز في القرى)؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: { لا جمعة و لا تشريق و لا فطر و لا أضحى إلا في مصر جامع } و المصر الجامع : كل موضع له أمير و قاض ينفذ الأحكام و يقيم الحدود، و هذا عند أبي يوسف رحمه الله، و عنه أنهم إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم، و الأول اختيار الكرخي و هو الظاهر، و الثاني اختيار الثلجي، و الحكم غير مقصور على المصلى بل تجوز في جميع أفنية المصر؛ لأنها بمنزلته في حوائج أهله.."
(کتاب الصلوۃ، باب الجمعة، ج:3، ص:202، ط: دارالفکر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ولأدائها شرائط في غير المصلي). منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان.
وفي الخلاصة وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية ومعنى إقامة الحدود القدرة عليها، هكذا في الغياثية.
وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة.
هكذا روى الفقيه أبو جعفر عن أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - وهو اختيار شمس الأئمة الحلواني، كذا في فتاوى قاضي خان ... ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة."
(كتاب الصلاة،الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج: 1، ص: 145، ط: رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق ... وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج: 2، ص: 138، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

