بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل والا سمبل استعمال کرنے کا حکم

سوال

سعودی عرب کی "اللَّجْنَةُ الدَّائِمَةُ لِلْإِفْتَاءِ"  کا فتویٰ ہے:"لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ رَمْزِ الْقَلْبِ (❤️) فَإِنَّهُ رَمْزٌ لِلْعِشْقِ الْمُحَرَّمِ

ترجمہ: دل کا نشان ❤️ استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ حرام عشق کی علامت ہے۔*[20950] جبکہ دوسری طرف آپ نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، اس اختلاف کی روشنی میں راجح اور احتیاط والا قول کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ دل والا سمبل  محض ایک علامت ہے، جو  محبت،خوشی کے اظہار اور خیر خواہی وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے فی نفسہ اس کا جائز استعمال جائز ہے، جیسا کہ میاں بیوی یا والدین یا اولاد وغیرہ کے درمیان استعمال ہو تو اس کو استعمال کرنے میں حرج نہیں، لیکن اگر اس کا استعمال  نامحرم مرد وعورت سے عشق وغیرہ  کے اظہارکے لیے ہوتو  پھر ناجائز ہوگا۔

غمز عيون البصائر  فی  شرح الأشباه والنظائرمیں ہے:

"واعلم أن اعتبار العادة والعرف يرجع إليه في الفقه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك أصلا، فقالوا في الأصول في باب ما تترك به الحقيقة: تترك الحقيقة بدلالة الاستعمال والعادة، كذا ذكر فخر الإسلام فاختلف في عطف العادة على الاستعمال فقيل هما مترادفان، وقيل المراد من الاستعمال نقل اللفظ عن موضوعه الأصلي إلى معناه المجازي شرعا، وغلبة استعماله فيه، ومن العادة نقله إلى معناه المجازي عرفا، وتمامه في الكشف الكبير."

(‌‌الفن الأول قول في القواعد الكلية، القاعدة السادسة العادة محكمة، ج:1، ص:295/296، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144801101744
تاریخ08-07-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں