بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زبان پھسلنے (سبقِ لسانی) سے نکلنے والے الفاظ کا شرعی حکم

سوال

میں اور میری بیٹی چائے پی رہے تھے۔ بچی نے پوچھا کہ "یہ کس کی چائے ہے؟" میں نے جواب میں غلطی سے کہہ دیا کہ "وہ آپ کی اور یہ میری ماں کی چائے ہے"۔ حالانکہ میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ "یہ میری اور وہ آپ کی مما کی (یعنی میری بیوی کی) چائے ہے"۔ اس طرح زبان پھسلنے سے کیا شرعاً کوئی مسئلہ تو پیدا نہیں ہوا؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ  میں چائے کے حوالے سے سائل کی زبان سے غلطی سے جو الفاظ نکل گئے، یہ محض "سبقِ لسانی" (زبان کا پھسلنا) ہے۔ ان الفاظ کا سائل  کے نکاح یا میاں بیوی کے رشتے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان الفاظ سے شرعاً کوئی مسئلہ (جیسے طلاق یا ظہار وغیرہ) پیدا ہوا ہے۔

لہٰذا سائل کو اس حوالے سے کسی قسم کا وہم یا پریشانی پالنے کی ضرورت نہیں ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"( وإن نوى بأنت علي مثل أمي ) أو كأمي وكذا لو حذف علي، خانية ( براً أو ظهاراً أو طلاقاً صحت نيته ) ووقع ما نواه؛ لأنه كناية ( وإلا ) ينو شيئاً أو حذف الكاف، ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه".

(قوله: أو حذف الكاف) بأن قال: أنت أمي، ومن بعض الظن جعله من باب زيد أسد در منتقى عن القهستاني.

قلت: ويدل عليه ما نذكره عن الفتح من أنه لا بد من التصريح بالأداة (قوله: لغا) لأنه مجمل في حق التشبيه فما لم يتبين مراد مخصوص لا يحكم بشيء فتح (قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ " يا أخية " استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه. اهـ. (قوله: من ظهار) لأنه شبهها في الحرمة بأمه وهو إذا شبهها بظهرها يكون مظاهرا فبكلها أولى نهر (قوله: أو طلاق) لأن هذا اللفظ من الكنايات، وبها يقع الطلاق بالنية، أو دلالة الحال على ما مر، وقوله: كأمي تأكيد للحرمة؛ ولم أر ما لو قامت دلالة على إرادة الطلاق، بأن سألته إياه وقال نويت الظهار نهر.

(کتاب الطلاق، باب الظہار،ج:  3، ص: 470، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144801101672
تاریخ08-07-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں