بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داماد کو زکاۃ دینے کا حکم

سوال

کیا داماد کو زکاۃ دی جا سکتی ہے؟  بجلی کا کرنٹ لگنے کی وجہ سے اس کا ایک ہاتھ معذور ہو گیا تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں داماد کو زکاۃ دینا شرعاً جائز ہے ، بشرطیکہ وہ صاحبِ نصاب نہ ہو،  ہاشمی  نہ ہو اور زکاۃ کا مستحق  ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويجوز دفعها لزوجة أبيه وابنه وزوج ابنته تتارخانية."

( كتاب الزكاة،باب مصرف الزكاة والعشر،ج: 2 ،ص:345، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144801101342
تاریخ05-07-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں