
1-سفر کی جتنی مسنون دعائیں واعمال ہیں، کیا یہ صرف سفر شرعی کی مقدار پرسفرکرنے کے ساتھ خاص ہیں،یا ا س سے کم مقدارمیں سفرکرنے کے دوران بھی پڑھی جاسکتی ہیں،مثلاََدویاتین کلومیڑسفر کرنے کے دوران؟
2-زید نے اپنے چند رفقاء کو ایک ادارے سے کچھ سامان چوری کرنے کوکہا،انہوں نے سامان ادارے سے باہرنکال کراسے بیچ دیا ،اورزیدکو بھی بیس روپے اس میں سے دے دیے،اب زید اس کی تلافی کرناچاہتاہے،اس کی کیا صورت ہوگی؟
3-زیدقطروں کے مرض میں مبتلاتھے،کئی سالوں تک صرف ایک کپڑے سے استنجاکرکے پیشاب خشک کردیتے تھے،اس کے بعد استنجاء بالماء کیے بغیر ہی وضوکرکے نماز پرھ لیتے تھے،توکیا اب نمازوں کااعادہ کرناپڑے گا؟یا کوئی اورصور ت اختیارکی جائے گی،اگراعادہ ہی کرنا لازمی ہوتواس کا طریقہ کیا ہوگا؟
4-اگر کسی پر قضانمازیں لازم ہوں،اوروہ روزانہ پانچ نمازوں کی قضاکرتارہے ،اوراس کے ساتھ ساتھ تہجد اوردیگرنوافل بھی پڑھے،توکیا ایساکرنادرست ہے؟یا اولاََقضانمازیں ختم کرکے اس کے بعد اپنے معمولات (چاشت ،اشراق اوردیگر نوافل )جاری رکھے؟
5-زید نے اپنے جملہ نفلی اعمال کا ثواب سرورکونین ﷺ ،اپنے اساتذہ ،اوروالدین کوبخش دیا،کیا ایساکرناازروئے شریعت درست ہے؟
1-سفرکی جتنی مسنون دعائیں ہیں،وہ صرف سفرشرعی کےساتھ خاص نہیں ہیں،بلکہ ہرچھوٹے بڑے سفرمیں یہ دعائیں پڑھی جاسکتی ہیں،البتہ اعمال میں بعض اعمال ایسے ہیں کہ جوصرف سفرشرعی کے ساتھ خاص ہیں،جیسےقصر نماز پڑھنا، روزہ ،قربانی اورجمعہ کی نماز ترک کرنے کی رخصت کا ہوناوغیرہ،البتہ سفرشروع کرنے سے پہلےدورکعت پڑھنا،اورواپس لوٹنے کی بعد پہلے مسجد میں دورکعت شکرانہ کے طورپر ادا کرنا، یہ عمل سفرشرعی کے ساتھ خاص ہے ،تاہم اگرکوئی ہرچھوٹے بڑے سفر پراس کا بھی اہتما م کرے تومضائقہ نہیں ،بندہ ہروقت اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے خیر مانگنے اورمشکلات دورکرنے کامحتاج ہے۔
2-زید چوری جیسے ناجائزاورحرام کام میں اپنے رفقاءکا معاون بننے کی وجہ سے گناہ گارہواہے،جس پر اسےاللہ تعالیٰ کے حضور توبہ واستغفارکرناچاہیئے،اورمزید یہ کہ جو بیس روپے اس نے اپنے رفقاء سےچوری کےسامان کی قیمت میں سے وصول کیے ہیں،ان کی تلافی کی صورت یہ ہے کہ سب سےپہلے جس شخص سے چوری کی تھی اسے یہ روپے واپس کیے جائیں ،اگروہ معلوم نہیں ہے ،یا غائب ہوچکا ہے،یا مرچکاہے،اورا س کے ورثا ء معلوم ہیں توانہیں یہ روپے واپس لوٹائے جائیں،بصورت دیگرثواب کی نیت کیے بغیر ہی کسی فقیر کوصدقہ کردیے جائیں۔
3-قطروں کی بیماری میں کپڑے سے پیشاب خشک کرناجائز تھا،شرعاََاس سےپاکی حاصل ہوجاتی تھی،اس دوران زیدنے جتنی نمازیں بھی استنجاء بالماء کیے بغیر اسی حال میں وضوکرکے پڑھی ہیں، وہ نمازیں صحیح ہوچکی ہیں،ان کا اعادہ واجب نہیں ہے،البتہ اگر قطروں سے اصل مقام کے علاوہ آس پاس کا علاقہ بھی ایک درہم کی مقدارسے زیادہ ناپاک ہوجاتاتھا،تواس صورت میں پانی سے استنجاء کیے بغیر نمازپڑھنا جائز نہیں تھا،لہٰذااگرزید کو یہی صورت پیش آتی رہی ہے کہ قطرےموضع خاص سے تجاوز کرکے آس پاس کےمقام تک ایک درہم کی مقدارسے زائد پھیل جایا کرتے تھے،توتب استنجاء بالماء کیے بغیر جتنی نمازیں زید نےپڑھی ہیں ان کااعادہ ضروری ہوگا۔
4- قضاء نمازو ں کے ساتھ نوافل اورتہجد کا اہتمام جائز اور مستحسن ہے،پہلے قضانمازیں لوٹاکر پھر نوافل پڑھنےکی بات درست نہیں ہے۔
5-جملہ مؤمنین مؤمنا ت ،اساتذہ ،والدین ،حتی کہ سرورکونین ﷺ کو اپنی نفلی عبادات کا ایصال ثواب کرنا شرعاََجائز اورمستحسن ہے۔لہٰذا زید کا مذکورہ عمل درست ہے۔
مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"وابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا استوى على بعيره خارجا إلى سفر كبر ثلاثا ثم قال {سبحان الذي سخرلنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون}
اللهم إنا نسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم هون علينا سفرنا هذا واطو لنا بعده اللهم أنت الصاحب في السفر،والخليفة في الأهل، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنظر وسوء المنقلب في المال والأهل وإذا رجع قالهن وزاد فيهن آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون. رواه مسلم"
"وهذا الدعاء يسن عند ركوب أي دابة كانت لسفر أو غيره........وفي الحديث استحباب هذا الذكر عند ابتداء الأسفار كلها، وقد جاءت فيه أذكار كثيرة"
(کتاب الدعوات:باب الدعوات في الاوقات،ج:8/ ص:168/69،ط:إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"ومنها أن التطوع غير موقت بوقت خاص، ولا مقدر بمقدار مخصوص فيجوز في أي وقت كان على أي مقدار كان إلا أنه يكره في بعض الأوقات"
( کتاب الصلوۃ :فصل صلاة التطوع،ج:1/ص: 298،ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه"
( کتاب البیوع:باب البیع الفاسد:مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج:5/ ص:99،ط:سعید)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"يجوز الاستنجاء بنحو حجر منق كالمدر والتراب والعود والخرقة والجلد وما أشبهها ولا فرق بين أن يكون الخارج معتادا أو غير معتاد في الصحيح حتى لو خرج من السبيلين دم أو قيح يطهر بالحجارة ونحوها........ثم الاستنجاء بالأحجار إنما يجوز إذا اقتصرت النجاسة على موضع الحدث فأما إذا تعدت موضعها بأن جاوزت الشرج أجمعوا على أن ما جاوز موضع الشرج من النجاسة إذا كانت أكثر من قدر الدرهم يفترض غسلها بالماء ولا يكفيها الإزالة بالأحجار وكذلك إذا أصاب طرف الإحليل من البول أكثر من قدر الدرهم يجب غسله وإن كان ما جاوز موضع الشرج أقل من قدر الدرهم أو قدر الدرهم إلا أنه إذا ضم إليه موضع الشرج كان أكثر من قدر الدرهم فأزالها بالحجر ولم يغسلها بالماء يجوز عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى ولا يكره. كذا في الذخيرة وهو الصحيح. كذا في الزاد"
(کتاب ا لطہارۃ :الباب السابع في النجاسة وأحكامها،ج:1/ص: 48،ط:رشیدیة)
وفيه ايضاً:
" كل صلاة فاتت عن الوقت بعد وجوبها فيه يلزمه قضاؤها سواء ترك عمدا أو سهوا أو بسبب نوم وسواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة ........... ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة، وقت طلوع الشمس، ووقت الزوال، ووقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات، كذا في البحر الرائق."
"ويسقط الترتيب عند كثرة الفوائت وهو الصحيح، هكذا في محيط السرخسي وحد الكثرة أن تصير الفوائت ستا بخروج وقت الصلاة السادسة وعن محمد - رحمه الله تعالى - أنه اعتبر دخول وقت السادسة، والأول هو الصحيح، كذا في الهداية"
(كتاب الصلاة:الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت،ج:1/ص: 121/23،ط:رشيدية)
فتاوٰ ی شامی میں ہے:
"صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة،"
(کتاب الصلاۃ:باب صلاۃ الجنازۃ:مطلب في القراءة للميت وإهداء ثوابها له ،ج:2/ص: 243،ط:سعید)
"قلت: وقول علمائنا له أن يجعل ثواب عمله لغيره يدخل فيه النبي صلى الله عليه وسلم فإنه أحق بذلك حيث أنقذنا من الضلالة، ففي ذلك نوع شكر وإسداء جميل له، والكامل قابل لزيادة الكمال."
(کتاب الصلاۃ:باب صلاۃ الجنازۃ: مطلب في إهداء ثواب القراءة للنبي صلى الله عليه وسلم،ج:2/ ص:244،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100793
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن