بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف زمین پر عوامی فلاح کے لیے زیرِ زمین پانی کی ٹینکی بنانے کا شرعی حکم

سوال

کیا مسجدیامدرسہ کے لیے وقف زمین پر عوامی فلاح کے لیے زیرِ زمین پانی کی ٹینکی بنائی جا سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی زمین مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کردی جائے تو وقف ہوتے ہی وہ واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور ہمیشہ کے لیے وقف کے مقصد کے ساتھ خاص ہوجاتی ہے، اس کے بعد نہ اسے فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے وقف کے مقررہ مقصد کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف زمین کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے، اس پر عوامی فلاح کے لیے زیرِ زمین پانی کی ٹینکی بنانا شرعاً جائز نہیں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما."

(کتاب الوقف،الباب الأول، ج:2، ص:350،ط: الرشيدية)

وفيه أيضاً:

"وأما حكمه فعندهما زوال العين عن ملكه إلى الله تعالى وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - حكمه صيرورة العين محبوسة على ملكه بحيث لا تقبل النقل عن ملك إلى ملك والتصدق بالغلة المعدومة متى صح الوقف بأن قال: جعلت أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة أو أوصيت بها بعد موتي فإنه يصح حتى لا يملك بيعه ولا يورث عنه لكن ينظر إن خرج من الثلث والوقف فيه بقدر الثلث كذا في محيط السرخسي."

(کتاب الوقف،الباب الأول، ج:2، ص:352،ط:الرشيدية)

فتای رشیدیہ میں ہے:

"جو جگہ وقف ہوچکی ہے وہ اب بیع نہیں ہوسکتی."

"جو زمین مسجد کے لئے وقف ہوچکی ہے اس میں مکان بنانایاکھیتی کرنا درست نہیں ہے"

(وقف کے مسائل،ص:434/435،ط:ادارہ اسلامیات لاہور)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144801100749
تاریخ27-06-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں