بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین کے بدلے زمین کاشت کے لیے دینا

سوال

ہمارے گاؤں کے اکثر لوگ اپنی زمینوں کا تبادلہ کرتے ہیں، یعنی دو آدمی ہیں، دونوں کی دو مرلہ زمین ہیں، لیکن ایک کی زمین دوسرے کے گھر کے قریب ہے اور دوسرے کی زمین پہلے کے گھر کے قریب ہے، اس میں صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ  میری زمین پر کاشت کرو اور میں آپ کی زمین پر معینہ مدت تک کاشت کروں گا، پھر یہ دونوں اپنی اپنی زمینیں واپس لے لیتے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ ذکر کردہ طریقے کے مطابق معاملہ کرنا شرعاً درست ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا. ومنها بيان محل المنفعة حتى لو قال: آجرتك إحدى هاتين الدارين أو أحد هذين العبدين، أو: استأجرت أحد هذين الصانعين لم يصح العقد. ومنها بيان المدة في الدور والمنازل والحوانيت."

(كتاب الاجارة، ج:4، ص:411، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144801100621
تاریخ24-06-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں