
ایک ایسا بندہ جو کہ بیماری کی وجہ سے یا گھٹنوں میں کسی بھی مسئلے کی وجہ سے زمین پہ سجدہ نہیں کر سکتا لیکن قیام کھڑا ہو کے کرنے پر وہ قادر ہے۔
تو کیا اس کو قیام کھڑا ہو کر کرنا چاہیے اور سجدہ کرسی پہ بیٹھ کے کرنا چاہیے؟ یا کہ وہ اگر پوری مکمل نماز بیٹھ کے پڑھے تو اس کی نماز ہو جائے گی؟
واضح رہے کہ جس شخص کے لیے گھٹنوں کی بیماری یا کسی اور عذر کی وجہ سے زمین پر سجدہ کرنا ممکن نہ ہواس پر قیام (کھڑا ہونا) بھی لازم نہیں رہتا، اگر چہ وہ کھڑا ہونے پر قادر ہو۔
لہٰذا ایسا شخص پوری نماز بیٹھ کر (خواہ کرسی پر یا زمین پر) اشارے سے ادا کر سکتا ہے، بلکہ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اس کے حق میں بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کرنا، کھڑے ہو کر اشارے سے نماز ادا کرنے سے افضل ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، ج:1، ص:97/98، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100410
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن