بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مباح اشیاء کی خرید و فروخت اور حرام آمدنی والے شخص سے لین دین کا حکم

?سوال

1۔غبارے (Balloons) بیچنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
2۔اگر کوئی شخص سڑک پر ایسی جگہ ریڑھی لگا کر سامان فروخت کرتا ہو جہاں حکومت کی طرف سے ریڑھی لگانے کی اجازت نہ ہو، اور اس کی وجہ سے عام لوگوں کو آمدورفت میں بھی تکلیف ہوتی ہو، تو کیا میں اس کے پاس جا کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ:
"بھائی! میں خالی شاپر فروخت کر رہا ہوں، اگر آپ کو لینے ہوں تو لے لیں۔"اگر وہ مجھ سے خالی شاپر خرید لے تو کیا اس سے حاصل ہونے والی رقم میرے لیے جائز ہوگی؟

3۔اگر کسی شخص کی تمام یا زیادہ تر آمدنی حرام ذرائع سے حاصل ہوتی ہو، تو کیا میں اس کے پاس جا کر اپنی جائز چیز، مثلاً خالی شاپر، فروخت کرنے کی پیش کش کرسکتا ہوں؟ اگر وہ مجھ سے شاپر خرید لے تو کیا اس کی قیمت میرے لیے حلال ہوگی؟

4۔اگر کسی تندور میں زمین پر آٹا، روٹی کے ذرات، روغنی نان کے تل وغیرہ گرے رہتے ہوں، اور وہ تندور والا حکومت کی مقرر کردہ قیمت پر روٹی فروخت کرتا ہو، لیکن حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وزن سے کم وزن کی پیڑا روٹی، خمیری روٹی، روغنی نان یا پراٹھا فروخت کرتا ہو، تو کیا میں ایسے تندور والے کے پاس جا کر خالی شاپر فروخت کرنے کی پیش کش کرسکتا ہوں؟

5۔اگر کسی تندور والے کے کاروبار میں مذکورہ بالا صورتِ حال موجود ہو تو کیا ایسے تندور والے کو اپنی بیٹھک کرائے پر دینا جائز ہے؟ میرے والد نے ایک تندور والے کو اپنی بیٹھک کرائے پر دی ہوئی ہے، جہاں صرف تین یا چار کارکن کام کرتے ہیں۔ کیا اس سے حاصل ہونے والا کرایہ میرے والد کے لیے جائز ہے؟

6۔میں مختلف لوگوں کی دکانوں پر جا کر خالی شاپر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اس کاروبار کو شرعی طور پر درست اور جائز طریقے سے کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ 

✓جواب

1۔ واضح رہے کہ  غبارے بذاتِ خود مباح چیز ہیں، اس لیے ان کی خرید وفروخت جائز ہے، بشرطیکہ ان میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو اور انہیں کسی ناجائز مقصد کے لیے فروخت نہ کیا جائے۔

2۔ اگر کوئی شخص ایسی جگہ ریڑھی لگاتا ہے جہاں حکومت کی طرف سے اجازت نہیں اور اس کی وجہ سے عام لوگوں کو آمدورفت میں تکلیف بھی ہوتی ہے تو اس کا یہ عمل ناجائز ہے۔ تاہم سائل کا اس شخص کو کوئی مباح چیز، مثلاً خالی شاپر، فروخت کرنا جائز ہے، اور اس کی قیمت بھی سائل کے لیے جائز ہوگی، بشرطیکہ وہ قیمت کسی متعین حرام مال سے ادا نہ کی جائے۔

3۔ اگر کسی شخص کی آمدنی حرام ہو، تب بھی سائل کا اسے اپنی مباح چیز فروخت کرنا جائز ہے، اور اگر وہ قیمت ادا کرتے وقت یہ صراحت نہ کرے کہ یہ حرام رقم ہے تو سائل کے لیے اس رقم کا لینا جائز ہوگا۔ البتہ اگر وہ صراحت کے ساتھ کہے کہ یہ قیمت حرام رقم سے ادا کررہا ہوں تو سائل کے لیے وہ رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔

4۔ تندور والے کا حکومت کی طرف سے مقررہ وزن سے کم روٹی فروخت کرنا ناجائز اور حق تلفی ہے، اس لیے اسے ایسا کرنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ تاہم سائل کا اسے خالی شاپر جیسی مباح چیز فروخت کرنا فی نفسہٖ جائز ہے، جب تک سائل کا مقصد اس کے ناجائز عمل میں تعاون کرنا نہ ہو اور شاپر کسی خاص حرام کام کے لیے نہ دیا جارہا ہو۔

5۔ اگر بیٹھک تندور کے جائز کاروبار کے لیے کرائے پر دی گئی ہو تو محض اس وجہ سے کہ تندور والا وزن میں کمی کرتا ہے، کرایہ فی نفسہٖ حرام قرار نہیں دیا جائے گا۔ تاہم اگر مالک کو معلوم ہو کہ کرایہ دار اس جگہ کو کسی ناجائز کام کے لیے استعمال کرے گا تو اسے جانتے بوجھتے کرائے پر دینا درست نہیں۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں بیٹھک تندور کے جائز کاروبار کے لیے دی گئی ہے تو حاصل ہونے والا کرایہ جائز ہے، البتہ تندور والے کو کم وزن دینے سے منع کرنا چاہیے۔

6۔ سائل خالی شاپر خرید کر اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے کے بعد دکان داروں کو باہمی رضامندی سے طے شدہ قیمت پر فروخت کرسکتا ہے۔ خرید وفروخت میں جھوٹ، دھوکا اور غلط بیانی سے بچنا ضروری ہے۔ ہفتے کے کسی مخصوص دن شاپر فروخت کرنا شرعاً لازم یا افضل نہیں، جس دن مارکیٹ میں کاروباری اعتبار سے زیادہ ضرورت اور گاہکوں کی دستیابی ہو، اس دن فروخت کرسکتا ہے۔ البتہ جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے لیے اذان کے بعد خرید وفروخت سے اجتناب لازم ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ"(سورۃ المائدۃ، آیت: 2)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وإن كانا مما لا يتعين فعلى أربعة أوجه... وأطلق ونقدها لا يتصدق في الصور الثلاث عند الكرخي..."

(کتاب الغصب، ج: 6، ص: 189، ط: سعید)

 وفیہ ایضا:

"وَالْمَالُ مَا يَمِيلُ إِلَيْهِ الطَّبْعُ وَيَجْرِي فِيهِ الْبَذْلُ وَالْمَنْعُ، ... لِأَنَّ رُكْنَ الْبَيْعِ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج: 4، ص: 51-52، ط: سعید)

الفتاوى الهندية میں ہے:

 "وإن غصب عبداً فأجره فالأجرة له ويتصدق بالأجرة عندهما، وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى الأجرة طيبة."

(كتاب الغصب، الباب الثامن، ج :5، ص :141، ط: دار الفكر) 

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144801100225
تاریخ05-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں