بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1448ھ 22 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہرِ مؤجل کے وجوبِ زکاۃ سے مانع ہونے یا نہ ہونے سے متعلق راجح قول کی تعیین


سوال

مہرِ معجل اور مہرِ مؤجل وجوبِ زکوۃ اور قربانی کے لیے مانع ہوتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں کتب فقہ میں تین اقوال مذکور ہیں:

اول: مہرِ معجل اور مؤجل دونوں مانع ہیں۔

" وكذلك المهر يمنع مؤجلا كان أو معجلا؛ لأنه مطالب به كذا في محيط السرخسي. وهو الصحيح على ظاهر المذهب "

 (الفتاوى الهندية، 1/ 173، ط:دار الفکر)

دوم: صرف مہرِ معجل مانع ہے، مہرِ مؤجل مانع نہیں۔

" وقيل المهر المؤجل لا يمنع؛ لأنه غير مطالب به عادة ‌بخلاف ‌المعجل"

(البحر الرائق، 2 /219، ط:دار الکتاب الاسلامی)

سوم: اگر شوہر کا مہر ادا کرنے کا ارادہ ہو تو مانع ہوگا، اور اگر ادائیگی کا ارادہ نہ ہو تو مانع نہیں ہوگا۔اس بناء پر اگر مہرِ مؤجل ہو لیکن شوہر اس کی ادائیگی کا پختہ عزم رکھتا ہو، تو وہ بھی مانع قرار پائے گا۔

اس بارے میں امداد الفتاوٰی اور اس کے حاشیے میں دو مختلف رجحانات مذکور ہیں، دیکھیے: امداد الفتاوٰی( 2 /39 )

حضرت تھانوی رحمہ اللہ ایک مقام پر فرماتے ہیں:" مگر میرے نزدیک قولِ ثالث قابلِ ترجیح ہے، واللہ اعلم۔ "

نیز ایک دوسرے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:" اس مسئلے میں عدمِ مانعیتِ مہر کو وجوبِ زکوۃ کی ایک دوسری روایت بھی منقول ہے۔لہذا دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ اگر شوہر کی نیت ادائے مہر کی ہو، تو یہ دین وجوبِ زکوۃ کے لیے مانع ہوگا، اور اگر ادائیگی کی نیت نہ ہو تو مانع نہیں ہوگا۔ "

تاہم حاشیہ میں قولِ اول کو راجح قرار دیا گیا ہے:" في ھذا الجواب رجوع عن الجواب السابق کما لا یخفی----- فالاظھر عندي القول الاول، ولا عبرۃ لنقل القھستانی عن الجواھر تصحیح الثانی، فلیتأمل۔ "

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ اقوال میں سے راجح اور مفتٰی بہ قول کون سا ہے؟ نیز اس کی ترجیح کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

جواب

دینِ مہر کے وجوبِ زکاۃ سے مانع ہونے یا نہ ہونے سے قبل بطورِ تمہید چند باتیں درج ذیل ہیں :

(1)شریعتِ مطہرہ نے زکاۃ کےوجوب  کو چند چیزوں کے ساتھ مشروط کیا ہے، جن میں سے نصابِ زکاۃکا مالک ہونا، مال پر ملکیت کا تام ہونا، دینِ محیط نہ ہونا، حوائج  اصلیہ سے زائد ہونا، اور سال کا گزرنا وغیرہ ہیں۔ان شرائط کی تفصیلات اور جزئیات فقہی کتب میں بالتفصیل مذکور ہیں۔

(2) زکاۃ کے وجوب کی شرائط میں سے ایک شرط نصاب کا مالک ہونا ہے، مالک ہونے سے کیا مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے، راجح یہ ہے کہ ملک اور ید (قبضہ)  دونوں طرح سے مال پر قدرت حاصل ہو، یعنی مال انسان کی ملکیت میں بھی ہو، اور اس پر قبضہ وتصرف کا اختیار بھی حاصل ہو۔

(3) اسی طرح وجوبِ زکاۃ کی شرائط میں سے ایک شرط دین کا نہ ہونا ہے، یعنی ایسا دین (قرض) نہ ہو جو مکمل نصاب کو محیط اور شامل ہو۔ دین کو فقہاء کرام نے حوائج اصلیہ میں شمار کیا ہے۔پھر دین سے متعلق فقہاء نے تفصیل ذکر کی ہے کہ کونسا دین وجوبِ زکاۃ سے مانع ہے؟ہر وہ دین جس کا مطالبہ کرنے والا بندوں میں سے کوئی موجود ہو، تو وہ وجوبِ زکاۃ سے مانع ہوگا، یعنی دین العباد مانعِ وجوبِ زکاۃ ہے۔فقہاء نے دین کی مختلف اقسام کی ہیں،اور ان کا حکم بیان کیا ہے۔

(4) احناف کے نزدیک دین کی تین قسمیں ہیں: قوی، ضعیف، اور متوسط۔

مہر کو دین ضعیف میں شمار کیا گیا ہے، یعنی جب تک وہ قبضہ میں نہ آئے تب تک اس پر زکاۃ اور قربانی لازم نہیں ہوتی ہے، بلکہ قبضہ میں آنے کے بعد انسان صاحبِ نصاب شمار ہوتاہے، اور اسی وقت سے سال کا اعتبار کیا جاتاہے۔

(5)  مہر کی دو قسمیں ہیں: مہرِ معجل، اور مہرِ مؤجل: معجل سے مراد وہ مہر ہوتا ہے جس کا ادا کرنا نکاح کے فوری بعد ضروری  ہوتا ہے اور بیوی کو نکاح کے فوری بعد اس کے مطالبہ کا مکمل  حق حاصل  ہوتا ہے، اور ادائیگی تک اپنے نفس کو شوہر سے روکنے کا اختیار ہوتا ہے، جب کہ مؤجل سے مراد وہ مہر ہوتا ہے جس کی ادائیگی نکاح کے بعد فوری واجب نہ ہو، پھر اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اس کی ادائیگی کے لیے  کوئی خاص میعاد  مقرر کی گئی ہو  مثلاً یہ کہ سات سال یا دس سال کے بعد اس کی ادائیگی کی جائے گی، اس صورت میں وقتِ مقررہ سے قبل بیوی کو مطالبہ کا حق نہیں ہوتا ہے، اور دوسرا یہ کہ اس کی ادائیگی کو مستقبل میں بیوی کے مطالبے پر موقوف رکھا گیا ہو،  اگر کوئی خاص میعاد مقرر کی گئی ہو تو بیوی کو اس مقررہ وقت کے آنے سے پہلے اس مہر کے مطالبے کا حق نہیں ہوتا، اور اگر بیوی کے مطالبہ پر موقوف رکھا گیا ہو تو اسے ’’مہرِ مؤجل عند الطلب ‘‘ کہتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ  بیوی جب بھی مطالبہ کرے گی اس وقت فوری طور پر شوہر کے ذمہ یہ مہر ادا کرنا لازم ہوگا، گویا حکم کے اعتبار سے یہ مہر بھی ایک طرح سے مہرِ معجل ہی ہے، اس لیے کہ بیوی جب بھی چاہے اس کی ادائیگی کا مطالبہ کرسکتی ہے۔

اب مہر شوہر کے حق میں زکاۃ، قربانی اور صدقۂ فطر وغیرہ دیگر شرعی احکام کے متوجہ ہونے سے مانع   ہوتاہے یا نہیں؟

مہرِ معجل بہرصورت وجوبِ زکاۃ سے مانع ہے، خواہ اس کی ادائیگی کا مطالبہ ہو یا نہ ہو، اور چاہے شوہر کا ادائیگی کا ارادہ ہو یا نہ ہو؛ اس لیے کہ بیوی کو اس کے مطالبے کا فی الوقت حق حاصل ہوتا ہے۔
البتہ مہرِ مؤجل کے مانع ِزکاۃ ہونے سے متعلق فقہاء کرام نے تین اقوال ذکر کیے ہیں:

(1) مہر مطلقاً زکاۃ اور قربانی وغیرہ احکامات کے واجب ہونے سے مانع ہے، خواہ مہرِ معجل ہو یا مؤجل ہو، اور چاہے بیوی مطالبہ کرے یا نہ کرے۔یہ قول متعدد متون اور شروحات و فتاوٰی میں ذکر کیا گیا ہے، اور اسی کو ظاہر الروایۃ کہا  گیاہے۔

(2) دوسرا قول یہ ہے کہ مہرِ مؤجل مطلقاً مانع نہیں ہے، اور معجل مطلقاً مانع ہے۔یہ قول البحر الرائق اور بدائع وغیرہ دیگر کتب میں قیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اور علامہ شامیؒ نے قھستانی کے حوالے سے اسی قول کو صحیح قرار دیا ہے۔

(3) تیسرا قول یہ ہے کہ اگر شوہر کی مہر ادا کرنے کی نیت ہو، اور وہ اس کی فکر میں لگا ہوا ہے، اور اس کے لیے رقم جمع کررہا ہے، تو اس صورت میں مہر وجوبِ زکاۃ سے مانع ہوگا، اور اگر شوہر کی نیت اور ارادہ ہی مہر کی ادائیگی کا نہیں، اور نہ ہی اس کی فکر میں ہے، تو اس صورت میں یہ مہر وجوبِ زکاۃ سے مانع نہیں ہوگا۔یہ قول البحر الرائق، بدائع، عالمگیری وغیرہ تمام کتب میں مذکور ہے۔

ان اقوال سے متعلق دلائل اور ہمارے اکابرین کی ترجیحات بھی مختلف ہیں:

پہلا قول: جیسا کہ ذکر کیا گیا اکثر متون اور شروحات میں لیا گیا ہے، اور اسی کو ظاہر الروایۃ بھی کہا ہے، بدائع میں اس حوالے سے دلائل بھی مذکور ہیں۔ مولانا رشید احمد لدھیانویؒ نے  احسن الفتاوٰی میں اسی قول کے مطابق فتوٰی دیا ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

مہر موجل مانعِ وجوب زکوۃ ہے :

" سوال:  زید کے ذمہ ہندہ کا دینِ مہر ہے تحقیق طلب یہ امر ہے کہ دین معجل یا موجل وجوب زکوۃ سے مانع ہے یا نہیں ؟ اداء کرنے کی نیت ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں کچھ فرق ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب باسم ملهم الصواب

فتح القدير طحطاوی اور بدائع وغیرہ میں چار ا قوال مذکور ہیں :۔

(1) دین خواہ مؤجل ہو، یا معجل مہر ہو یا غیر مہر، بہر صورت مانعِ وجوب زکوٰۃ ہے۔

(2) دینِ مؤجل مانع نہیں، مہر ہو یا غیر مہر۔

(3)صرف مہر مؤجل مانع نہیں۔

(4)زوج اداءِ مہر کا عزم رکھتا ہو تو مانع ہے، ورنہ نہیں۔

قولِ اول راجح معلوم ہوتا ہے، اور علامہ حصکفی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسی کو اختیار فرمایا ہے، وان نقل عن الجواهر القهستاني تصحيح الثاني ورجح بعض الاكابر الثاني أولاً والرابع ثانيا، فقط والله تعالى أعلم "

( کتاب الزکاۃ، ج:4، ص:261، ط:سعید)

فتاوی حقانیہ میں بھی یہی قول اختیار کیا گیا ہے، ملاحظہ ہو : (کتاب الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ، ج:3، ص:492/493، ط:دار العلوم حقانیہ)

فتاوی فریدیہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

" اور چونکہ شوہر پر مہر قرضہ ہوتا ہے لہذا وہ مقدار مہر کی زکاۃ نہیں دے گا، مقدار مہر سے زائد اگر نصاب تک پہنچتا ہوتو زکاۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔وھو الموفق۔"

(کتاب الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ، ج:3، ص:372، ط:دار العلوم صدیقیہ زروبی)

دلیل:اس قول کی بنیادی دلیل یہی ہے کہ مہر شوہر کے ذمہ میں دین ہوتا ہے، خواہ معجل ہو یا مؤجل، یہاں تک کہ اگر شوہر فوت ہوجائے اور اس نے بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو، تو اس صورت میں ترکہ میں سے پہلے مہر کی مقدار رقم منہا کی جائے گی، اور اس کے بعد باقی ترکہ ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا اور دین کو فقہاء نے حوائجِ اصلیہ میں سے شمار کیا ہے، لہذا یہ دین بھی دیگر دیون کی مانند مطلقاً وجوبِ زکاۃ سے مانع ہوگا۔

دوسرا قول:  علامہ شامیؒ نے پہلا اور دوسرا دونوں قول نقل کیے ہیں، البتہ دوسرے قول کو قھستانی کے حوالے سے صحیح قرار دیا ہے، ہمارے بہت سے اکابرین نے دوسرے قول کو لیا ہے، اور اسی کے مطابق فتوٰی دیا ہے۔

مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ فتاوی رحیمیہ میں ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

" (الجواب) صورت مسئولہ میں زکوۃ لازم ہے مہر مؤجل وجوب زکوۃ کے لئے مانع نہیں ، شامی میں ہے" والصحيح انه غیر مانع "صحیح بات یہ ہے کہ مہر مؤجل مانع زکوۃ نہیں ( شامی ۲ / ۷ کتاب الزکوۃ ) "

(کتاب الزکوۃ، ج:7، ص:161، ط:دار الاشاعت)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں بھی یہی قول اختیار کیا ہے:

مہر مانع زکوۃ نہیں ہے

" (سوال ۱۱) ایک شخص کے پاس مثلاً دس ہزار روپے ہیں۔ اس پر رقم زکوۃ اڑھائی سو روپیہ ہوئی، مگر زوجہ کا مہر پانچ ہزار قرض ہے، اس لئے سوا سور و پیہ زکوۃ دے گا، آیا یہ درست رہا یا کوئی اس میں خلجان ہے۔ دوسری بات اس سے صعب ہے ادائے زکوۃ میں خیال نہ رہا اور پورے دس کی زکوۃ دیتا رہا، جو رقم زیادہ دی گئی اس کو کس طرح وصول کرے، آیا چند سال زکوٰۃ ادانہ کرے جب تک پوری وصول نہ ہو جائے۔ گویا پیشگی ادا کی گئی حیلہ کی ضرورت نہیں خطفہ عقوبت نہ رہے؟

(جواب) مہر مؤجل جیسا کہ اب عموماً ہوتا ہے صحیح مذہب کے موافق مانع  زکوۃ سے نہیں ہے، یعنی یہ دین مہر ِمؤجل روپیہ موجود ہ سے وضع نہ کیا جاوے  گا۔ بلکہ تمام روپیہ موجودہ کی زکوۃ دینا ضروری ہے، پس جس کے پاس دس ہزار روپیہ مثلاً موجود ہے اور پانچ ہزار کا قرض مہر مؤجل زوجہ کا اس کے ذمہ ہے تو وہ شخص پورے دس ہزار روپیہ کی زکوۃ اڑھائی سو روپے ادا کرے گا، لہذا جوز کوۃ دس ہزار روپے کی وہ دیتا رہا، وہ پوری زکوۃ ہے اس میں زکوٰۃ سے زیادہ کچھ نہیں دیا گیا جس کے لئے واپسی کے حیلہ کی ضرورت ہو یا آئندہ زکوۃ نہ دے کر اس کو محسوب کیا جاوے۔ شامی میں دین مہر موجل کی بحث کرتے ہوئے لکھا ہے والصحيح انه غير مانع (۲) فقط "

(کتاب الزکاۃ، پہلا باب:شرائط اور صفتِ زکوۃ، ج:6، ص:49/50، ط:دار الاشاعت)

مفتی عزیز الرحمٰن صاحبؒ نے بھی اسی قول کے مطابق فتوٰی دیا ہے:

" (سوال ٦١٤) جس شخص کے پاس دو سو روپیہ کی مقدار ہو اس پر دین مهر زوجہ کا دو ہزار یا چار ہز ار ہو، اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟

(الجواب ) دین مهرِ مؤجل مانع زکوۃ سے نہیں۔ زکوٰۃ اس کو دینی چاہئے۔ شامی میں ہے۔ والصحيح انه غير مانع."

(عزیز الفتاوی، کتاب الزکوۃ، مسائل متفرقہ متعلقہ زکوۃ، ج:1، ص:366، ط:دار الاشاعت)

دلیل: اور جن حضرات نے دوسرا قول لیا ہے، اس کی دلیل میں علامہ شامیؒ کی عبارت سے استدلال کیا ہے، نیز اس کے علاوہ ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ موجودہ معاشرے میں مہر کے معاملے میں بہت کوتاہی برتی جاتی ہے، اور عورتیں بھی عموماً مہر کا مطالبہ نہیں کرتیں ہیں، لہذا مہرِ مؤجل وجوبِ زکاۃ سے مانع نہیں ہوگا، اس لیے کہ عملاً مرد مہر کو دین نہیں سمجھتا ہے، اور نہ ہی بیوی کی طرف سے مطالبہ پایا جاتا ہے۔

تیسرا قول:فتاوٰی عالمگیری میں فخر الاسلام بزدویؒ کی شرح الجامع الکبیر کے حوالے سے منقول ہے، اور عالمگیری میں جواہر الفتاوٰی کے حوالے سے  اس قول کی تحسین بھی کی ہے۔ ہمارے بہت سے اکابرین نے اس قول کو پسند کیا ہے، اور اسی کے مطابق فتوی دیا ہے، امداد الفتاوٰی میں حکیم الامتؒ کے حوالے سے جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے، اسی طرح مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہؒ، مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ، امداد الاحکام میں بھی اسی قول کے مطابق فتوٰی دیا ہے، نیز مفتی انعام الحق قاسمی صاحب دامت برکاتہ نے بھی زکاۃ کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا میں اسی قول کو اختیار کیا ہے، ہمارے جامعہ بنوری ٹاؤن کے دار الافتاء کا بھی یہی مؤقف ہے، ملاحظہ ہو فتوٰی نمبر 144209200308 عنوان (واجب الادا مہر پر زکات کا حکم) ۔

حوالہ جات درج ذیل ہیں:

امداد الفتاوٰی میں حضرت تھانویؒ لکھتے ہیں:

تحقیق مانعیت و عدم مانعیت دین مهر از وجوب زکوۃ

" سوال (۱۵) دین مهر بشرط نیتِ ادا مانع وجوب زکوۃ واضحیہ ہے یا نہیں۔

الجواب۔ (۱)دین مہر کے مانع زکوۃ ہونے میں اختلاف ہے۔ در مختار میں تو مانع کہا ہے مؤجل ومعجل ہر دو کو اور طحطاوی نے دو قول بیان کئے ہیں۔ معجل مانع ہے مؤجل مانع نہیں ۔ اگر عزم ادا ہو مانع ہے ورنہ نہیں لا نہ لا یعد دینا پس کل تین قول ہیں۔ اور طحطاوی نے قہستانی سے قول ثانی کی ترجیح و تصحیح نقل کی ہے۔ مگر میرے نزدیک قولِ ثالث قابل ترجیح ہے۔ واللہ اعلم (امداد ص: ١٦٨ج:۱) "

(کتاب الزکوۃ والصدقۃ، ج:2، ص:39، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

کفایت المفتی میں ہے:

مهری رقم پر زکوة 

" (سوال ) زید کی زوجہ کا پانچ سو روپے دین مہر ہے وہ ادا کرنا چاہتا ہے مگر زوجہ اس کو ایک رسمی چیز سمجھ کر اپنے قبضہ میں نہیں کرتی اور نہ اپنے کو اس کا مالک سمجھتی ہے اور زید کے پاس نقد پانچ سو روپیہ موجود ہے اب اس کا زکوۃ کیونکر ادا کیا جائے زید تو اس وجہ سے اس کا زکوۃ نہیں دیتا ہے کہ میں بیوی کے دین کا مقروض ہوں اور بیوی اس وجہ سے نہیں دیتی کہ اپنے کو مالک نہیں سمجھتی۔

(جواب ٣٦٢)جب کہ زید کا ارادہ مہر ادا کرنے کا ہے تو زید کے ذمہ اس روپے کی زکوۃ نہیں ہے زوجہ کو چاہیے کہ روپیہ وصول کر کے خود زکوۃ ادا کرے یا خاوند کو اجازت دے کہ وہ اس کی طرف سے زکوۃ ادا کر دے ۔ (۲) محمد کفایت اللہ غفرلہ"

(کتاب الزکوۃ والصدقات، چوتھاباب، ج:4، ص:299، ط:دار الاشاعت)

وفیہ ایضا:

" سوال: (۶) حسابِ زکاۃ کے لیے مہر کی رقم بطورِ قرض کے سمجھی جائے گی یا نہیں؟

جواب: (۶) ہاں اگر عورت وصول کرنے کا ارادہ رکھتی ہو اور خاوند ادا کرنے پر تیار اور قادر ہو (1)محمد کفایت اللہ،  کان الله له"

(کتاب الزکوۃ والصدقات، پہلا باب، ج:4، ص:260، ط:دار الاشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ایک سوال کے جواب میں مذکور ہے:

الجواب حامداً ومصلیاً:

"1..... زوج کے ذمہ دینِ مہر واجب ہے، اگر وہ معجل ہے یعنی جس وقت بھی زوجہ طلب کرے اس کا ادا کرنا ضروری ہے، یا مؤجل ہے لیکن زوج خود ہی اس کو ادا کرنے کی فکر اور سعی میں لگا ہوا ہے اور جمع کر رہا ہے تا کہ ادا کرے تو ایسادین مانع عن وجوب زکوٰۃ ہے، اس مقدار دین کے علاوہ اس کے پاس بقد رنصاب مال ہوگا تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں ، اگر زوج ادا کرنے کی فکر وسعی میں لگا ہوا نہیں بلکہ اس کو اطمینان ہے کہ ادا نہیں کرنا ہے تو ایسا دین مانع عن وجوب زکاۃ نہیں ہے۔کذا فی الطحطاوی علی الدر المختار۔"

(کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، ج:9، ص:319، ط:ادارۃ الفاروق)

امداد الاحکام میں ہے:

مہر مؤجل مانع وجوب زکوۃ ہے یا نہیں

" سوال (۳۰) زید کے پاس پانچ سو روپے کا زیور ہے ، اور ایک ہزار روپیہ اس کی زوجہ کا مہر اس کے ذمہ واجب الادار ہے، آیا اس زیور پر مرد کے ذمہ زکوۃ واجب ہے یا نہیں ؟

الجواب: اگر باوجود مہر موجل ہونے کے یہ شخص فی الحال ادا کرنے کی فکر میں ہے، تب تو اس زیور پر زکوۃ واجب نہیں، ورنہ واجب ہے،کما فی العالمگيرية وذكر البزودی في شرح الجامع الصغير قال مشائخنا فى رجل عليه دين مؤجل لا مرأته وهو لایریه اداءه (اى فى الحال) لا يجعل ما نعا من الزكوة لعدم المطالبة في العادۃ وانہ حسن ایضا، ھکذا فی جواھر الفتاوی۔فقط " 

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:26، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فتاوی دار العلوم زکریا میں بھی یہی قول اختیار کیا ہے، ملاحظہ ہو: (کتاب الزکاۃ، باب:زکاۃ ادا کرنے کا بیان، ج:3، ص:188، ط:زمزم پبلشرز)

زکاۃ کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا میں ہے:

مہر کی رقم کو شوہر اپنے نصاب سے وضع کرے یا نہ کرے

" مہر کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ مہر موجل : جوفوری طور پر ادا کرنا واجب نہیں ۔٢- مہر معجل : جس وقت بھی بیوی مہر طلب کرے شوہر کے لئے ادا کرنا ضروری ہے۔ (۲). اگر مرد کے ذمہ مہر موجل ہو یعنی فوری طور پر ادا کرنا لازم نہ ہو، اور اس کی ادائیگی کا ارادہ نہ ہو تو یہ مہر شوہر کے نصاب سے وضع نہیں کیا جائے گا، اور کل رقم سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کر نالازم ہوگی (۳) ، مثلا کسی کے پاس ایک لاکھ روپیہ موجود ہے اور پچاس ہزار مہر موجل اس کے ذمہ ہے ، تو یہ شخص پورے ایک لاکھ روپے سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرے گا ، یہ نہیں کہ پچاس ہزار روپیہ مہر کے قرض میں وضع کر دے اور باقی پچاس ہزار کی زکوۃ دے تو درست نہیں ہوگا اور پوری رقم کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔..................شوہر کے ذمہ مہر ادا کرنا واجب ہے ، اگر وہ معجل ہے یعنی جس وقت بھی بیوی طلب کرے اس کا ادا کرنا ضروری ہے ، یا مہر موجل ہے یعنی فوری ادا کرنا ضروری نہیں ہے لیکن شوہر خود ہی مہر کو ادا کرنے کی فکر اور کوشش میں لگا ہوا ہے اور جمع کر رہا ہے تا کہ ادا کر دے تو ایسے قرض کو نصاب سے وضع کر دیا جائے گا (1)، اس صورت میں اگر مہر کی رقم کو وضع کرنے کے بعد بقیہ رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو زکوۃ واجب ہوگی ، اور اگر بقیہ رقم نصاب سے کم ہے اور زکوۃ واجب ہونے والی دوسری چیزیں بھی نہیں ہیں تو زکوۃ واجب نہیں ہوگی ۔..........................اور اگر شوہر کو مہر موجل ادا کرنے کی فکر نہیں اور ا اس کے لئے کوشش بھی نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ ادا کرنا ہی نہیں چاہتا تو اس صورت میں مہر کی رقم کو نصاب سے وضع نہیں کیا جائے گا (۲) اور پوری رقم سے زکوۃ نکالی جائے گی ، باقی مہر ادا نہ کرنے کی فکر مناسب نہیں کیونکہ اگر مہر زندگی میں ادا نہیں کرے گا موت کے بعد ترکہ سے ادا کیا جائے گا۔ (۳) (ص:459/460، ط:مکتبۃ العمار) "

دلائل اور وجوہِ ترجیح:

(1)اس قول ثالث کی عالمگیری میں تصحیح کی گئی ہے، اور ہمارے اکابرین نے اسی عالمگیری کی عبارت سے استدلال کیا ہے۔

(2) اس قول کو اختیار کرنے سے پہلے دو اقوال میں تطبیق ممکن ہے، اور دونوں اقوال میں تطبیق دینا کسی ایک کو ترجیح دینے سے بہتر ہے، جیسا کہ حضرت حکیم الامتؒ نے امداد الفتاوٰی میں ذکر کیا ہے:

"اس میں دوسری روایت عدم مانعیت مہر لوجوب الزکوۃ کی بھی ہے ۔ پس تطبیق دونوں میں یہ ہے کہ اگر اس شخص کی نیت ادائے مہر کی ہو تو یہ دین مانع وجوب زکوۃ ہوگا۔ اور اگر نیت نہیں ہے تو نہ ہوگا۔ لیکن اگر مہر بعد میں واجب ہوا ہے اور زیور آپ کی ملک میں پہلے داخل ہو چکا تو وجوب مہر کے قبل کی زکوۃ بلا اختلاف واجب ہوگی ۔ ۱۸ ربیع الثانی ۱۳۳۳ ھ (تتمہ ثال ص : ۳۱) "

(کتاب الزکوۃ والصدقۃ، ج:2، ص:39، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

(3)شریعتِ اسلامیہ اور فقہاء نے زکاۃ کے احکام میں مزکی (زکاۃ دینے والے) اور فقراء (زکاۃ لینے والے) دونوں کے حقوق اور مصلحتوں کا مکمل لحاظ رکھا ہے۔ شریعت کا یہ اصول ہے کہ زکاۃ کی وصولی میں نہ تو مالداروں پر سختی کی جائے، اور نہ ہی فقراء کی حق تلفی ہو،جیساکہ  فتاوی تاتارخانیہ میں اس حوالےسےمذکورہےکہ: " فانا اعتبرنا أفضلهن على هذا التفسير إذ لا وجه إلى الإحجاف بأرباب الأمول، ولا إلى تعطيل الأموال، ولو أو جبنا هاهنا شاة وسطا ربما تبلغ قيمتها واحدة منها، أو أكثر فيؤدى إلى الإحجاف بأرباب الأموال وكان النظر من الطرفين فيما قلنا."

(کتاب الزکاۃ، الفصل الاول فی صدقۃ السوائم وبیان احکامھا والمسائل المتعلقۃ بھا، ج:3، ص:152، ط:مکتبہ زکریا،دیوبند)

پہلے قول اختیار کرنے کی صورت میں جبکہ شوہر کا بالکل مہر ادا کرنے کا ارادہ نہ ہو، فقراء کے حقوق کا تعطل اور ضیاع ہے، اور دوسرا قول اختیار کرنے کی صورت میں جبکہ شوہر کا مہر کی ادائیگی کا ارادہ ہو، اور اس کی سعی اور کوشش میں مصروف  ہو، مزکی (زکاۃ دینے والے) کا نقصان ہے۔

البتہ تیسرا قول اختیار کرنے کی صورت میں دونوں طرف کی رعایت ہے،نہ ہی مزکی پر بوجھ ہے، اور نہ فقراء کے حق میں نقصان ہے، لہذا تیسرا قول مزاجِ شریعت اور زکاۃ کے باب کے قانون کے مطابق ہونے کی وجہ سے راجح ہے۔

(4)جب شوہر کا مہر کی ادائیگی کا ارادہ ہو تو اس صورت میں شوہر اس مہر کو اپنے ذمہ میں دین سمجھتا ہے، البتہ جب شوہر کا ادائیگی کا ارادہ ہی نہ ہو، تو گویا عملاً شوہر مہر کو اپنے ذمہ میں دین نہیں سمجھتا ہے، لہذا اس صورت میں اس پر زکاۃ واجب ہوگی۔صاحبِ فتح القدیر نے بھی قولِ ثالث کی دلیل میں یہی علت ذکر کی ہے۔ذكره في التحفة عن بعضهم لأنه لا يعده دينا.

(5) زکاۃ کی شرائط میں سے ایک مالکِ نصاب ہونا ہے، اور مالک ہونے سے مراد یہ ہےکہ ملک اور ید (تصرف) دونوں طرح سے مال پر قدرت حاصل ہو، جیسا کہ تمہید میں ذکر کیا گیا۔

جب شوہر کا مہر کی ادائیگی کا ارادہ نہ ہو، تو شوہر اس مال میں ہر طرح سے تصرف کرسکتا ہے، اور شوہر کی اس مال میں ملکیت بھی ہے، اور تصرف کا حق بھی حاصل ہے، اور جب شوہر کا مہر کی ادائیگی کا ارادہ ہو اور اس کے لیے رقم جمع کرے تو وہ رقم مہر کی ادائیگی کے لیے مختص رکھتا ہے اور اس کے متعلق اپنے تصرف کو محدود کردیتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں، اس قول کے مطابق، ملکیت تو موجود ہے، البتہ غیر کے حق کے ساتھ اس مال کے متعلق ہونے کی وجہ سے تصرف کی قدرت اس درجے میں باقی نہیں رہتی، اس صورت میں بھی ملکِ تام ہوتی ہے، البتہ کسی درجہ میں تصرف کو محدود کرنے کے سبب ملک مکمل نہیں ہوتی، لہٰذا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہونی چاہیے۔

ـ(6) شریعت نے دیگر بہت سے معاملات میں انسان کی نیت کا اعتبار کیا ہے، بلکہ مدار ہی اعمال کا نیت پر رکھا ہے، البتہ نیت کے لیے عمل قرینہ اور مظہر ہوتاہے۔

لہذا جب شوہر مہر کی فکر اور سعی میں  مصروف ہے، اور اس کے لیے رقم جمع کررہا ہے، تو اس صورت میں اس کی نیت اس دین کی ادائیگی کی ہے، تو اس اعتبار سے اس پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی، اور نیت ادائیگی کی نہ ہو، تو اس کے لیے کوشش اور جمع بھی نہیں کرے گا، جب اس کو دین نہیں سمجھتا ہے، تو اس صورت میں اس پر زکاۃ لازم ہوگا۔

 نیز جن حضرات نے مہر مؤجل کے وجوبِ زکاۃ سے مانع نہ ہونے کو راجح کہا ہے انہوں نے دلیل میں یہی سبب ذکر کیا ہے کہ موجودہ زمانے میں شوہر کی طرف سے عموما کوتاہی ہوتی ہے، اور بیوی بھی مطالبہ نہیں کرتی، جبکہ اگر شوہر کا ارادہ ادائیگی کا ہو تو اس صورت میں شوہر خود مہر کو دین سمجھ کر ادائیگی کی فکر میں ہوگا، اور شوہر کی طرف سے  بھی مہر کی ادائیگی میں کوتاہی  نہیں پائی جائےگی، لہذا جب مذکورہ علت موجود نہیں ہے تو اس صورت میں شوہر کی نیت کی اعتبار کرکے مہر مؤجل مانعِ وجوبِ زکاۃ ہونا چاہیئے۔

المحیط البرھانی میں ہے:

" وقيل في دين المهر: أنه يمنع وجوب الزكاة كسائر الديون، وقيل: إن كان من نية الزوج: أنها متى طالبته تلقاها بلطف، ويقرها أنه متى صادف مالاً لا يبطل حقها يمنع وجوب الزكاة كسائر الديون، وإن كان من حقه أنه متى طالبته ضربها، وتلقاها بالإنكار لا يمنع وجوب الزكاة."

(کتاب الزکاۃ، ‌‌الفصل العاشر في بيان ما يمنع وجوب الزكاة، ج:2، ص:297، ط:دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے:

" وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلا كان أو مؤجلا؛ لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: إن المؤجل لا يمنع؛ لأنه غير مطالب به عادة، فأما المعجل فيطالب به عادة فيمنع، وقال بعضهم: إن كان الزوج على عزم من قضائه يمنع، وإن لم يكن على عزم القضاء لا يمنع؛ لأنه لا يعده دينا وإنما يؤاخذ المرء بما عنده في الأحكام."

(کتاب الزکاۃ، فصل شرائط فرضية الزكاة، ج:2، ص:6، ط:دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضاً:

" ولو كان عليه دين بحيث لو صرف إليه بعض نصابه لا ينقص نصابه لا تجب لأن الدين يمنع وجوب الزكاة فلأن ‌يمنع ‌وجوب ‌الأضحية ‌أولى؛ لأن الزكاة فرض والأضحية واجبة والفرض فوق الواجب."

(كتاب التضحية، فصل في شرائط وجوب في الأضحية، ج:5، ص:64، ط:دار الكتب العلمية)

فتح القدیر میں ہے:

" وهل يمنع الدين المؤجل كما يمنع المعجل في طريقة الشهيد لا رواية فيه، إن قلنا لا فله وجه، وإن قلنا نعم فله وجه، ولو كان عليه مهر لامرأته وهو لا يريد أداءه لا يجعل مانعا من الزكاة ذكره في التحفة عن بعضهم لأنه لا يعده دينا، وذكر قبله مهر المرأة يمنع مؤجلا كان أو معجلا لأنها متى طلبت أخذته.

وقال بعضهم: إن كان مؤجلا لا يمنع لأنه غير مطالب به عادة انتهى. وهذا يفيد أن المراد المؤجل عرفا لا شرطا مصرحا به، وإلا لم يصح قوله لأنها متى طلبت أخذته، ولا بأنه غير مطالب به عادة لأن هذا في المعجل لا المؤجل شرطا فلا معنى لتقييد عدم المطالبة فيه بالعادة."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:163، ط:دار الفکر)

وفیہ ایضا:

" ولنوضح ذلك إذ لم يتعرض له المصنف فنقول: قسم أبو حنيفة الدين إلى ثلاثة أقسام: قوي وهو بدل القرض ومال التجارة، ومتوسط وهو بدل مال ليس للتجارة كثمن ثياب البذلة وعبد الخدمة ودار السكنى، وضعيف وهو بدل ما ليس بمال كالمهر والوصية وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة والسعاية."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:167، ط:دار الفکر)

البحر الرائق میں ہے:

" وشرط فراغه عن الدين؛ لأنه معه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كالماء المستحق بالعطش، ولأن الزكاة تحل مع ثبوت يده على ماله فلم تجب عليه الزكاة كالمكاتب ولأن الدين يوجب نقصان الملك؛ ولذا يأخذه الغريم إذا كان من جنس دينه من غير قضاء، ولا رضا أطلقه فشمل الحال والمؤجل، ولو صداق زوجته المؤجل إلى الطلاق أو الموت وقيل المهر المؤجل لا يمنع؛ لأنه غير مطالب به عادة ‌بخلاف ‌المعجل وقيل إن كان الزوج على عزم الأداء منع، وإلا فلا؛ لأنه لا يعد دينا كذا في غاية البيان."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:219، ط:دار الکتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج ...................... وكذلك المهر يمنع مؤجلا كان أو معجلا؛ لأنه مطالب به كذا في محيط السرخسي. وهو الصحيح على ظاهر المذهب وذكر البزدوي في شرح الجامع الكبير قال مشايخنا - رحمهم الله تعالى - في رجل عليه مهر مؤجل لامرأته، وهو لا يريد أداءه: لا يجعل مانعا من الزكاة لعدم المطالبة في العادة، وأنه حسن أيضا هكذا في جواهر الفتاوى."

(کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:172/173، ط:رشیدیة)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

" الملك التام للمال: واختلف الفقهاء في المراد بالملك، أهو ملك اليد (الحيازة) أم ملك التصرف أم أصل الملك؟

فقال الحنفية (1): المقصود أصل الملك وملك اليد (2)، بأن يكون مملوكا، فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل الموقوفة، لعدم الملك، ولا تجب الزكاة في المال الذي استوى عليه العدو وأحرزه بداره؛ لأن الأعداء في رأي الحنفية ملكوه بالإحراز، فزال ملك المسلم عنه، ولا في الزرع النابت في أرض مباحة لعدم الملك، ولا على المدين الذي في يده مال للغير لعدم الملك، وإنما زكاة هذا المال على المالك الأصلي. وأيضا أن يكون مملوكا في اليد أي مقبوضا، فلو ملك شيئا ولم يقبضه، كصداق المرأة قبل قبضه، فلا زكاة عليها فيه."

(‌‌القسم الأول: العبادات، الباب الرابع: الزكاة وأنواعها، ‌‌الفصل الأول: الزكاة، ج:3، ص:1800، ط:دار الفکر)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

" وقيل في دين المهر: إنه يمنع وجوب الزكاة كسائر الدیون، وفي الفتاوى العتابية: مـعـجـلا كان أو مؤجلا، وقيل: إن كان من نية الزوج أنها متى طالبته تلقاها بلطف وبعدها أنه متى صادف مالا لا يبطل حقها يمنع وجوب الزكاة، وإن كان من نيته متى طالبته تلقاها بالإنكار ويضربها لا يمنع وجوب الزكاة."

(کتاب الزکاۃ، الفصل العاشر فی بیان مایمنع وجوب الزکاۃ، ج:3، ص:235، ط:مکتبة زکریا،دیوبند)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101150

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں