بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک صریح طلاق کے بعد رجوع کاحکم

سوال

گزارش یہ ہے کہ میں نے ایک ماہ قبل اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی ہے،میں اسے ڈرانے دھمکانے کی خاطر کہہ رہاتھا کہ میں طلاق دے دوں گا،لیکن اس نے کہا کہ طلاق دے دو،میں نے کہا ٹھیک ہے،توایک طلاق میں نے اس کے کہنے پر دے دی۔

بعدازاں وہ میکے چلی گئی ،جس کے ایک ہفتہ بعد میں نے میسج کرکے رجوع کر لیا ، پھر فون پر بھی رابطہ ہوا،اوربیوی واپس آنے کے لیے تیار ہو گئی ،اور کہا کہ میں والدین سے بھی اس بارے میں مشورہ کروں گی،لیکن وہ واپس نہ آئی۔

کیا میرا یہ  عمل  رجوع شما ر ہوگا یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو ایک طلاق دی ،اورایک ہفتہ بعد میسج کرکے رجوع بھی   کرلیا تواس سے ر جو ع ثابت ہوچکا ہے،اورنکاح ختم نہیں ہوا،لہٰذاسائل کا اپنی بیوی کے ساتھ  ازدواجی تعلقات قائم کرنابلاکراہت جائز  ہے،تاہم یہ بات  یاد رہےآئندہ سائل کے پاس مزید  صرف دوطلاقیں دینے کا اختیار باقی ہے۔

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي ،فالسني أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة"

(کتاب الطلاق :الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص:468،ط:رشیدیه)

المبسوط للسرخسي میں ہے :

"ولو تزوجها قبل التزوج، أو قبل إصابة الزوج الثاني، كانت عنده بما بقي من التطليقات"

(كتاب الطلاق:باب من الطلاق،ج:6،ص: 95،مطبعة السعادة - مصر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144712101119
تاریخ11-06-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں