بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طواف وداع سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کرنے کا حکم

سوال

طواف وداع سے پہلے اپنی بیوی سے رجوع ہوسکتاہے؟

جواب

واضح رہے کہ حاجی حلق اور طواف زیارت کے بعدحلال ہوجاتاہے، احرام کی تمام پابندیاں بشمول میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کے ختم ہوجاتی ہیں، لہذا طواف زیارت اور حلق کے بعد طواف وداع سے پہلے بیوی سے مجامعت اور رجوع جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وحل له النساء) بالحلق السابق، حتى لو طاف قبل الحلق لم يحل له شيء(قوله بالحلق السابق) أي لا بالطواف لأن الحلق هو المحلل."

(‌‌كتاب الحج‌‌، مطلب في طواف الزيارة، ج: 2، ص:  518، ط: ایچ ایم سعید)

فتح العنایۃ شرح النقایۃ میں ہے:

"(‌وحل ‌له ‌النساء) بإجماع الأمة ...ثم حلهن بالحلق السابق." 

(‌‌‌كتاب الحج، أفعال الحج، ج: 1، ص: 665، ط: دار الأرقم)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144712100608
تاریخ31-05-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں