بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹے اورچار بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم

سوال

ہمارے والد صاحب کا 2008 میں انتقال ہوا تھا، اور پھر 2026 میں والدہ کا انتقال ہوا۔ دونوں کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ دونوں کے زندہ ورثاء میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ ان ورثاء کے درمیان ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

  مرحوم والدین کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کےحقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے  بعد،اگر مرحوم نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اسے باقی  مال کے تہائی  حصہ میں سے   نا فذ کرنے کے بعد،  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو8حصوں میں تقسیم کر کے،2،2حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو ،اور ایک ، ایک حصہ مرحوم کی ہر  بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہو گی:

میت:( والد/والدہ)،مسئلہ :8

بیٹا بیٹاٍ بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1 1

یعنی 100  فیصد میں  سے 25 فیصد کر کے  مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو ،12.50فیصد کر کے مرحوم والدین کی ہر   ایک بیٹی کو ملےگا ۔

ارشادِربّانی ہے:

{لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ} (سورۃ النسآء، الآیة:11)

”لڑکےکاحصہ دولڑکیوں کےحصہ کےبقدرہے“(معارف القرآن)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144712100406
تاریخ23-05-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں