بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ کے ایجاب سے کیا گیا نکاح منعقد نہیں ہوتا


سوال

میرے بھائی کا نکاح سن 2015 میں میری چچا زاد بہن سے ہوا، اس کے بدلے میں میرے والدین نے میری دو سالہ بیٹی کا نکاح میرے چچا زاد بھائی سے کردیا ،میرے چچا زاد بھائی کی عمر اس وقت چھ، سات  سال تھی، ایجاب وقبول بھی لڑکے نے خود کیا تھا۔

کیا نابالغ کا ایجاب وقبول شرعاً معتبر ہے یا نہیں ؟

نکاح کے وقت میری رضامندی شامل نہیں تھی، والد صاحب سے مجبور ہو کر میں نے ان کی بات مان لی اور نکاح کے فیصلے پر آمادہ ہوگیا ،اور اسی وقت ہم نے ایک تحریری معاہدہ کیا ،جس میں لکھا کہ بیٹی کے جوان ہونے کے بعد میں اس کی رخصتی کروانے کا پابند ہوں گا، اور اگر رخصتی نہیں کروائی، تو میں آپ لوگوں کو تین لاکھ روپے دوں گا، اب بیٹی جوان ہو گئی ہے، بیٹی بھی اس نکاح سے راضی نہیں ہے۔ اب میں رخصتی نہیں کروانا چاہتا اور دوسری شر ط پر عمل کرنا چاہتا ہوں یعنی تین لاکھ روپے دینا چاہتا ہوں، لیکن میرے چچا زاد بھائی رخصتی پر بضد ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم رخصتی ہی چاہتے ہیں، چاہے ایک گھنٹے ہی کے لیے کیوں نہ ہواور پھر ہم طلاق دیدیں گے،اسی بات پر میں نے اپنے آپ سے عہد کیا ،کہ اب کسی صورت رخصتی نہیں ہونے دوں گا۔

نیز رخصتی نہ کروانے کی صورت میں ہم نے جو تین لاکھ روپے دینے کا معاہدہ کیا تھا ،کیا یہ معاہدہ شرعا درست تھا ؟ کیا رخصتی نہ کروانے کی صورت میں ان کے لیے یہ تین لاکھ روپے لینا درست ہے؟

نیز ہمارے ہاں وٹے سٹے نکاح (فریقین سے نکاح کے تبادلے ) کی صورت میں ایک رواج یہ بھی ہے ،کہ کسی ایک فریق نے جہیز میں جو سامان دوسرے فریق کو دیا ہوتاہے،رخصتی کے بعد دوسرا فریق بھی اتنا ہی سامان دوسرے فریق کی لڑکی کو جہیز میں ضرور دے گا،تو کیا اب ان کا مجھ سے تین لاکھ روپے کے علاوہ میرے بھائی کوجہیز میں دیے گئے سامان یاسامان کی قیمت کا مطالبہ کرنا درست ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعۃ درست ہے کہ چچازاد بھائی کی عمر اس وقت سات سال تھی اور اس نے ایجاب و قبول خود کیا تھا، تو اس صورت میں مذکورہ  نکاح منعقد ہی نہیں ہوا تھا؛ کیوں کہ نابالغ کا ایجاب یا قبول کرنا شرعا معتبر ہی نہیں، لہذا سائل کی بیٹی اگر اس رشتہ پر راضی بھی ہو، تو بچپن میں کیے گئے نکاح کی بنیاد پر رخصتی کرانا جائز نہیں ہوگا، رخصتی سے قبل از سرنو باقاعدہ  نکاح کرانا ضروری  ہوگا، اور اگر سائل کی بیٹی راضی نہ ہو، تو سائل اس کا نکاح کسی اور سے کرانے میں خودمختار ہے،  بچپن کے نکاح کی بنیاد پر  رکاوٹ  پیدا کرنے کا اختیار  شرعا کسی کو نہیں، نیز مسئولہ صورت میں سائل کی بیٹی کو طلاق لینے کی بھی شرعا ضرورت نہیں۔

باقی سائل نے جو معاہدہ کیا تھا اس کی حیثیٹ مالی جرمانہ کی ہے، جوکہ شریعت میں جائز نہیں، لہذا سائل پر مذکورہ رقم کی ادائیگی بھی لازم نہیں ہے۔

باقی سائل کے بھائی کو جو سامان جہیز میں دیا گیا، وہ   اسی کی ملکیت ہے، اس سامان یا اس کی قیمت کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ "(البقرۃ:188)

ارشادِباری تعالیٰ ہے:

 "وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۠وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ"(المائدۃ:2)

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى."

(کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج: 1، ص: 261،ط: رحمانیه)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"مطلب في التعزير بأخذ المال

(قوله:لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج،وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان.

(قوله: وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .اه.

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(کتاب الحدود، باب التعزیر،مطلب فی التعزیر باخذالمال، ج: 4، ص: 61، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(وللولي الأبعد التزويج بغيبة الأقرب) فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته."

(کتاب النکاح، باب الولی، ج: 3، ص: 81، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما شرائط ثبوت هذه الولاية فمنها: عقل المالك، ومنها بلوغه، فلا يجوز الإنكاح من المجنون والصبي الذي لا يعقل ولا من الصبي العاقل؛ لأن هؤلاء ليسوا من أهل الولاية؛ لأن أهلية الولاية بالقدرة على تحصيل النظر في حق المولى عليه، وذلك بكمال الرأي والعقل ولم يوجد ألا ترى أنه لا ولاية لهم على أنفسهم فكيف يكون على غيرهم؟"

(كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج: 2، ص: 237، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وأما شروطه) فمنها العقل والبلوغ والحرية في العاقد إلا أن الأول شرط الانعقاد فلا ينعقد نكاح المجنون والصبي الذي لا يعقل والأخيران شرطا النفاذ؛ فإن نكاح الصبي العاقل يتوقف نفاذه على إجازة وليه هكذا في البدائع.

(ومنها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع وشرط في الشاهد أربعة أمور: الحرية والعقل والبلوغ والإسلام. فلا ينعقد بحضرة العبيد ولا فرق بين القن والمدبر والمكاتب ولا بحضرة المجانين والصبيان."

(كتاب النكاح، الباب الأول، ج: 1، ص: 267، ط: دار الفكر)

فتح القدیر میں ہے:

"ولا بد من اعتبار العقل والبلوغ، لأنه لا ولاية بدونهما.

(قوله لعدم الولاية) يعني القاصرة وهي ولايته على نفسه لا التامة وهي نفاذ القول على الغير لأن تلك يحتاج إليها الأداء، وهذا تعليل لعدم صحة شهادة الصبي والعبد والمجنون في باب النكاح."

(كتاب النكاح، ج: 3، ص: 200، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100342

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں