بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کا امام کو لقمہ دینے کا حکم

سوال

امام نے اگر نماز میں سورہ  فاتحہ کے بعد سورت  میں غلط پڑھا،  اس کے بعد مقتدی نے درست پڑھ کر امام صاحب کی تصحیح کی پھر امام صاحب نے بھی درست کرلیا تو کیا یہ نماز صحیح ہوجائے گی؟کیاامام کے غلط پڑھنے پر نماز ادا ہوسکتی ہے؟

جواب

امام اگر قراءت میں غلطی کردے تو مقتدی کا امام کو لقمہ دے کر غلطی کی تصحیح کرنا درست ہے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والصحيح أن ينوي الفتح على إمامه دون القراءة........والصحيح أنها لا تفسد صلاة الفاتح بكل حال ولا صلاة الإمام لو أخذ منه على الصحيح. هكذا في الكافي."

(کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الأول، ج:1، ص: 99، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144712100271
تاریخ21-05-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں