بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بطن کا مناسخہ

سوال

شوہر نے ایک پلاٹ اپنے نام بُک کرایا اور ایک بیوی کے نام بُک کرایا، یہ زمین تقریباً 40/50 سال پہلے سوسائٹی میں بُک کرائی تھی، شوہر کا انتقال 2015 میں ہوا، بیوی کا انتقال 2016 میں ہوا، میاں اور بیوی دونوں کے والدین حیات نہیں تھے، ورثاء میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔

پھر اس کے بعد ایک بیٹی کا انتقال 2018 میں ہوا، شوہر کا انتقال پہلے ہوچکا تھا، اس کے ورثاء میں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

وضاحت: زمین کا قبضہ سوسائٹی نے 2025 میں دیا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دونوں پلاٹ والدین کا ترکہ شمار ہوں گے، جنھیں تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے کل ترکہ میں سے مرحومین کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحومین کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کو ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو ایک تہائی ترکہ سے اس کو نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو  پچاس حصوں میں تقسیم کرکے دس حصےمرحومین کے ہر ایک بیٹے کو ، پانچ حصے ہر ایک زندہ بیٹی کو، دو حصےمرحومین کی فوت شدہ بیٹی کے ہر ایک بیٹے کو اور ایک حصہ اس کی بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت(مرحوم والدین):50/10

بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 2 1 1 1 1
10 10 10 فوت شدہ 5 5 5

میت(مرحوم بیٹی):5۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مافی الید:1

بیٹا بیٹا بیٹی
2 2 1

یعنی فیصد کے حساب سے بیس فیصد مرحومین کے ہر ایک بیٹے کو، دس فیصد ہر ایک زندہ بیٹی کو، چار فیصد مرحومین کی فوت شدہ بیٹی کے ہر ایک بیٹے کو اور دو فیصد اس کی بیٹی کو ملے گا۔ 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144712100090
تاریخ19-05-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں