بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زخم پر مسح کرنے والے امام کی اقتداء کا حکم

سوال

اگر امام زخم پر مسح کرے تو کیا اس کے پیچھے اقتداء ہو سکتی ہے؟ اس کی نماز تو کمزور نہ ہوئی؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں زخم  پر مسح کرنے والے امام کے پیچھے عام مقتدیوں (یعنی اعضا دھونے والے) کی اقتدا درست ہے، نماز ادا ہوجائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"(وصح اقتداء متوضئ) لا ماء معه (بمتيمم) ولو مع متوضئ بسؤر حمار مجتبى (وغاسل بماسح) ولو على جبيرة.

(قوله: ولو على جبيرة) الأولى قوله في الخزائن: على خف أو جبيرة، إذ لا وجه للمبالغة هنا أيضاً، لأن المسح على الجبيرة أولى بالجواز، لأنه كالغسل لما تحته. على أنه استبعد في النهر شمول ماسح له فجعله مفهوماً بالأولى: أي فيدخل دلالة لا منطوقاً، تأمل".

(باب الإمامة،ج:1، ص:588، ط:سعید)

  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144711102393
تاریخ17-05-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں