بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انعقادنذرکےلیےالفاظ کی ادائیگی میں کتنی آواز کاہونا شرط ہے؟

سوال

اگرکوئی  شخص تنہائی میں روزوں کی  نذرمانتے ہوئے الفاظ کی ادائیگی میں اتنی آواز نکالےکہ  جسے وہ خود توسن سکتا ہو، لیکن   اس کے ساتھ  اگرکوئی شخص موجود ہوتاتووہ نہ  سن سکتا،تواس نذرکاکیاحکم ہے،کیامنعقد ہوجائے گی؟

 

جواب

شرعاََنذرومنت کےمنعقد ہونے کا دارومداراتنی آوازپرہے کہ جسے خاموشی اورسناٹےکے مقام  میں  نذرماننے والے کے بالکل قریب میں بیٹھاشخص بھی سن سکتا ہو،محض اتنی آواز کاہوناکافی نہیں ہے کہ جسےخود  نذرماننے والا توسنے مگرقریب میں بیٹھاشخص نہ سن سکے،یاقریب میں اگر کوئی  نہ بھی ہوتو آواز میں خفت اورپستی اتنی ہوکہ وہ بمشکل خود تک ہی سنی جاسکتی ہو،لہٰذا صورت مسئولہ میں نذرمنعقد نہیں ہوئی،اسے پوراکرنالازمی نہیں ہے۔

فتاوی  شامی میں ہے:

"أدنى المخافتة إسماع نفسه ومن بقربه؛ فلو سمع رجل أو رجلان فليس بجهر، والجهر أن يسمع الكل خلاصة (ويجري ذلك) المذكور (في كل ما يتعلق بنطق، كتسمية على ذبيحة ووجوب سجدة تلاوة وعتاق وطلاق واستثناء) وغيرها....... وقد علمت أن الفضلي قائل بقول الهندواني. فقد ظهر بهذا أن أدنى المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين مثلا، وأعلاها تصحيح الحروف كما هو مذهب الكرخي، ولا تعتبر هنا في الأصح"

 (کتاب الصلاۃ ، باب شروط الصلاة، 1/ 534):

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144711102391
تاریخ28-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں